امیت شاہ نے راہل گاندھی کی ’ووٹ بچاؤ یاترا‘ کو ’گھس پیٹھیا بچاؤ یاترا‘ قرار دیا

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 06-11-2026
امیت شاہ نے راہل گاندھی کی ’ووٹ بچاؤ یاترا‘ کو ’گھس پیٹھیا بچاؤ یاترا‘ قرار دیا
امیت شاہ نے راہل گاندھی کی ’ووٹ بچاؤ یاترا‘ کو ’گھس پیٹھیا بچاؤ یاترا‘ قرار دیا

 



دہرادون: مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے جمعہ کو لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف حالیہ اپوزیشن ریلیوں کو ’’گھس پیٹھیا بچاؤ یاترا‘‘ قرار دیا۔ اتراکھنڈ کے یومِ تاسیس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امیت شاہ کا وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے استقبال کیا۔ اس موقع پر اتراکھنڈ کو 1,475 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے ترقیاتی منصوبوں کا تحفہ دیا گیا۔ تقریب میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ امیت شاہ اور وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے 15 شخصیات کو ’اتراکھنڈ گورو سمان‘ سے نوازا۔

اس کے علاوہ ’لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ‘ اور ’بال ویرتا پرسکار‘ کے لیے منتخب افراد کو بھی اعزازات دیے گئے۔ امیت شاہ نے کہا کہ اس روز 1,508 کروڑ روپے کی لاگت والے 63 منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا اور مکمل ہونے والے منصوبوں کا افتتاح بھی کیا گیا۔ انہوں نے کہا، ’’یہ اس بات کی علامت ہے کہ بی جے پی حکومت اتراکھنڈ کو عظیم ریاست بنانے میں تعاون کرنے والے تمام لوگوں کو اعزاز دینے پر فخر محسوس کرتی ہے۔‘‘ راہل گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے شاہ نے کہا، ’’راہل بابا کی ’ووٹ بچاؤ‘ یاترا دراصل ’گھس پیٹھیا بچاؤ یاترا‘ جیسی ہے۔ کیا دراندازوں کو اس دیو بھومی اور ہندوستان سے باہر نکالنا چاہیے یا نہیں؟

راہل جی، آپ کا یہ بیانیہ، یہ جھوٹا بیانیہ، ہندوستان کے لوگ قبول نہیں کر سکتے۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس نے خوشامد کی سیاست ترک نہیں کی ہے اور جمعہ کی نماز کے لیے چھٹی دینے کی تجویز پیش کی تھی۔ انہوں نے کانگریس پر رام مندر کی تعمیر کی مخالفت کرنے اور دراندازوں کی حوصلہ افزائی کرنے کا بھی الزام لگایا۔ شاہ نے کہا، ’’انہوں نے رام مندر کی تعمیر کی مخالفت کی اور دراندازوں کی آمد کی حوصلہ افزائی کی۔ وہ آبادیاتی تبدیلی کے مقصد سے پالیسیاں بنا رہے تھے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ان تمام چیزوں کو ختم کر دیا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 10 برسوں میں بی جے پی حکومت نے بدعنوانی سے پاک انتظامیہ فراہم کیا ہے۔

ان کے مطابق، ہریش راوت کے دور میں سیکریٹریٹ رشوت اور کمیشن کا مرکز بن گیا تھا، جس کا انکشاف مختلف ’اسٹنگ‘ کارروائیوں میں ہوا۔ انہوں نے ایس سی/ایس ٹی اسکالرشپ گھپلے، شراب پالیسی سے متعلق ’اسٹنگ‘ کارروائی اور کماؤں فوڈ سپلائی گھپلے سمیت کئی معاملات کا ذکر کرتے ہوئے کانگریس حکومت کو ذمہ دار قرار دیا۔ امیت شاہ نے ووٹروں سے کہا کہ وہ ’’بی جے پی کی قیادت والی ترقی پر مبنی حکومت یا ’راہل بابا‘ کی قیادت والی ایسی حکومت‘‘ میں انتخاب کریں جسے انہوں نے بدعنوانی کا مترادف قرار دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس نے اتراکھنڈ کو ’’منی آرڈر اکانومی‘‘ اور نقل مکانی پر منحصر کر دیا تھا۔

شاہ نے کہا کہ بی جے پی نے نقل مکانی روکنے اور صنعتی معیشت قائم کرنے کے لیے کام کیا ہے۔ ان کے مطابق ریاست میں سیاحت میں 380 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’انہوں نے کبھی سڑکیں نہیں بنائیں۔ وہ کہتے تھے کہ اگر سڑکیں بنائی گئیں تو چین یا دوسرے دشمن اندر داخل ہو جائیں گے۔ لیکن ہم نے سڑکیں بنائیں اور مودی جی کی قیادت میں ملک کو اتنا مضبوط بنایا کہ کوئی ہندوستان کی سرحدوں کو چھونے کی ہمت نہیں کرتا۔ اور جنہوں نے یہ جرات کی، مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت نے ان کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک اور ’آپریشن سندور‘ جیسی کارروائیاں کیں۔‘‘

شاہ نے کہا کہ 2022 سے ریاست کی مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار (جی ایس ڈی پی) میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے، جب کہ فی کس آمدنی 40 فیصد بڑھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1 لاکھ کروڑ روپے مالیت کے صنعتی منصوبے پہلے ہی زمین پر آ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے یقین ہے کہ آئندہ انتخابات میں تیسری بار بی جے پی کی حکومت بنے گی۔ راہل جی، ریاست کے آپ کے دوروں سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ مودی جی کی رہنمائی میں دھامی جی اتراکھنڈ کی ترقی کو آگے بڑھا رہے ہیں۔‘‘

اتراکھنڈ یومِ تاسیس، جسے اتراکھنڈ دیوس بھی کہا جاتا ہے، ہر سال 9 نومبر کو منایا جاتا ہے۔ یہ ریاست 2000 میں اتر پردیش سے الگ ہو کر ہندوستان کی 27ویں ریاست کے طور پر وجود میں آئی تھی۔ زیادہ تر پہاڑی علاقوں پر مشتمل اتراکھنڈ ہمالیہ کے دامن میں واقع ہے اور اس کی بین الاقوامی سرحدیں شمال میں چین (تبت) اور مشرق میں نیپال سے ملتی ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے دفتر کی جانب سے جاری ایک سرکاری بیان کے مطابق، اتراکھنڈ اپنی ریاستی تشکیل کے 26 سال مکمل ہونے کے موقع پر ترقی کے نئے امکانات کی جانب بڑھ رہا ہے۔

وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کی قیادت میں ریاستی حکومت پہاڑی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، نوجوانوں کے لیے روزگار اور خود روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ریاست کو سرمایہ کاری اور سیاحت کا اہم مرکز بنانے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ کے دفتر کے بیان میں کہا گیا، ’’مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی جانب سے ان مجوزہ منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھنا اس سمت میں ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔ ان اقدامات سے بنیادی ڈھانچے میں توسیع اور ریاست بھر میں ترقی کی رفتار تیز ہونے کی توقع ہے۔‘‘