نئی دہلی: سپریم کورٹ نے شمال مشرقی دہلی میں فروری 2020 میں ہوئے فسادات کی مبینہ بڑی سازش سے متعلق غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) قانون، یعنی یو اے پی اے کے تحت درج مقدمے میں اطہر خان کی ضمانت کی عرضی پر سماعت چار ہفتے کے لیے ملتوی کردی۔ جسٹس اروند کمار اور جسٹس وپل ایم پنچولی پر مشتمل بنچ نے یہ فیصلہ اس وقت کیا جب ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے میں جواب داخل کردیا گیا ہے۔ عدالت نے اطہر خان کو دہلی پولیس کی جانب سے داخل کردہ جواب پر اپنا جواب الجواب داخل کرنے کی اجازت بھی دے دی۔
اس سے قبل سپریم کورٹ نے اطہر خان کی اپیل پر دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا تھا۔ اطہر نے دہلی ہائی کورٹ کے 7 جولائی کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے جس میں اسے ضمانت دینے سے انکار کردیا گیا تھا۔ ہائی کورٹ نے اطہر کی اس اپیل کو مسترد کردیا تھا جس میں اس نے ٹرائل کورٹ کے 29 جنوری کے حکم کو چیلنج کیا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے بھی اسے ضمانت دینے سے انکار کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ اطہر فسادات کے دوران لوگوں کی جانیں لینے کی سازش کرنے والوں میں ’’اہم سازش کاروں میں سے ایک‘‘ تھا، نہ کہ محض مقامی سطح پر کام کرنے والا کوئی کارکن۔ اطہر کے وکیل نے ضمانت کی درخواست کرتے ہوئے دلیل دی تھی کہ وہ صرف مقامی سطح پر سہولت فراہم کرنے والا شخص تھا اور چھ برس سے حراست میں ہے۔
وکیل نے یہ بھی کہا تھا کہ اسی نوعیت کے الزامات کا سامنا کرنے والے دیگر ملزمین کو سپریم کورٹ سے ضمانت مل چکی ہے۔ ہائی کورٹ نے شریک ملزمین کی ضمانت کی درخواستوں پر سپریم کورٹ کے فیصلوں کا جائزہ لینے کے بعد کہا تھا کہ اطہر کا کردار ان ملزمین سے ’’واضح طور پر مختلف‘‘ ہے جنہیں اعلیٰ عدالت سے راحت ملی تھی۔ ہائی کورٹ کے مطابق، محفوظ گواہ کے بیان سمیت دیگر شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ واٹس ایپ گروپ میں شامل کچھ دوسرے افراد جہاں پُرامن احتجاج کی تجویز دے رہے تھے، وہیں اطہر مبینہ طور پر پرتشدد احتجاج کے اپنے مقصد پر قائم رہا، یہاں تک کہ اس کے نتیجے میں لوگوں کی جانیں بھی جاسکتی تھیں۔
ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ لوگوں کی ہلاکتوں اور نجی و سرکاری املاک کی تباہی میں اطہر کے بادی النظر کردار کے شواہد موجود ہیں۔ اس لیے اس کا معاملہ غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) قانون، 1967 کی دفعہ 43 ڈی (5) کے تحت ضمانت کے لیے مقرر سخت شرائط پر پورا نہیں اترتا۔ کال سینٹر کے سابق ملازم اطہر خان پر شمال مشرقی دہلی کے چاند باغ علاقے میں احتجاجی مظاہرے کے اہم سازش کاروں اور منتظمین میں شامل ہونے کا الزام ہے۔ اس پر یہ الزام بھی ہے کہ اس نے وہاں اشتعال انگیز تقریریں کرکے تشدد بھڑکانے کی کوشش کی۔ دہلی پولیس کے اسپیشل سیل کے مطابق، اطہر نے مبینہ طور پر خفیہ اجلاسوں میں شرکت کی تھی، جن میں اس نے کہا تھا کہ ’’دہلی کو جلانے کا وقت آگیا ہے‘‘۔
اس پر سی سی ٹی وی کیمروں کو تباہ کرنے کی کارروائی میں تال میل پیدا کرنے کا الزام بھی ہے۔ اطہر کو جولائی 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس پر یو اے پی اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، کیونکہ پولیس نے اسے فسادات کے مبینہ ’’ماسٹر مائنڈز‘‘ میں سے ایک قرار دیا تھا۔ ان فسادات میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ یہ تشدد شہریت ترمیمی قانون، 2019 اور قومی شہری رجسٹر کے خلاف جاری احتجاج کے دوران پھوٹ پڑا تھا۔ سماجی کارکن شرجیل امام، خالد سیفی اور عمر خالد سمیت کئی دیگر افراد کو بھی فسادات کی مبینہ بڑی سازش سے متعلق اس مقدمے میں ملزم بنایا گیا ہے۔ اس معاملے کی تحقیقات دہلی پولیس کا اسپیشل سیل کررہا ہے۔