لکھنؤ میں پانچ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ قائم کرنے کا معاملہ، الہ آباد ہائی کورٹ کی حکومت کو ہدایت

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 30-10-2026
لکھنؤ میں پانچ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ قائم کرنے کا معاملہ، الہ آباد ہائی کورٹ کی حکومت کو ہدایت
لکھنؤ میں پانچ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ قائم کرنے کا معاملہ، الہ آباد ہائی کورٹ کی حکومت کو ہدایت

 



لکھنؤ: الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش حکومت کو ہدایت دی ہے کہ ریاستی دارالحکومت لکھنؤ میں پانچ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ قائم کرنے کے لیے زمین الاٹ کرنے اور مالی منظوری دینے کے عمل میں تیزی لائی جائے۔ عدالت نے کہا کہ ان پلانٹس کا قیام ضروری ہے۔ جسٹس راجن رائے اور جسٹس منجیو شکلا پر مشتمل دو رکنی بنچ نے جمعرات کو یہ حکم ایک عوامی مفاد کی عرضی (پی آئی ایل) کی سماعت کے دوران دیا۔ یہ عرضی اتکرش لوک سیوا سنستھان کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔

سماعت کے دوران ریاستی حکومت نے عدالت کو بتایا کہ سیتاپور روڈ پر مجوزہ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے لیے 231.52 کروڑ روپے کی مالی منظوری سے متعلق تجویز ریاستی کابینہ کے سامنے پیش کر دی گئی ہے اور اس پر جلد فیصلہ متوقع ہے۔

حکومت نے یہ بھی بتایا کہ اس منصوبے کے لیے ضلع مجسٹریٹ پہلے ہی زمین الاٹ کر چکے ہیں۔ ریاستی حکومت نے حلف ناموں کے ذریعے عدالت کو مزید بتایا کہ اتر پردیش جل نگم (اربن) کے ذریعے چار دیگر مقامات پر بھی واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ قائم کرنے کے لیے زمین کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔ ان مقامات میں بارہ بنکی روڈ، کانپور روڈ، سلطان پور روڈ اور ہردوئی روڈ شامل ہیں۔

حکومت کے موقف کا نوٹس لیتے ہوئے عدالت نے ہدایت دی کہ زمین الاٹ کرنے کا عمل جلد مکمل کیا جائے اور جن مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے، ان کی زمین اتر پردیش جل نگم (اربن) کے حوالے کی جائے۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ سیتاپور روڈ کے منصوبے کے لیے اختیار کیے گئے طریقہ کار کے مطابق باقی چار واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کے لیے بھی ضروری مالی منظوری حاصل کی جائے۔

بنچ نے ریاستی حکومت سے کہا کہ وہ اگلی سماعت سے پہلے حلف نامہ داخل کرے، جس میں سیتاپور روڈ کے منصوبے پر کابینہ کے فیصلے اور باقی چار پلانٹس کے قیام کے سلسلے میں ہونے والی پیش رفت کی تفصیلات دی جائیں۔ اس معاملے کی اگلی سماعت ایک ماہ بعد ہوگی۔