سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات ، ایئر انڈیا کی پروازیں منسوخ

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 16-10-2026
سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات ، ایئر انڈیا  کی پروازیں منسوخ
سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات ، ایئر انڈیا کی پروازیں منسوخ

 



نئی دہلی: سعودی عرب میں سکیورٹی کی بدلتی ہوئی صورت حال اور شہری ہوائی اڈوں اور ہوابازی کے بنیادی ڈھانچے پر حالیہ حملوں کے پیش نظر ایئر انڈیا نے ریاض، دمام اور جدہ آنے جانے والی اپنی تمام پروازوں کی منسوخی میں 20 اکتوبر 2026 تک توسیع کر دی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بین الاقوامی شہری ہوابازی تنظیم (آئی سی اے او) کی کونسل نے سعودی عرب میں شہری ہوائی اڈوں، طیاروں اور ہوابازی کے بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی حکومت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

ایئر انڈیا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ وہ صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور حالات کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ پروازیں کب محفوظ طریقے سے دوبارہ شروع کی جا سکتی ہیں۔ ایئر لائن نے اپنے بیان میں کہا، ’’سعودی عرب میں بدلتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر ریاض، دمام اور جدہ آنے جانے والی ایئر انڈیا کی تمام پروازیں 20 اکتوبر 2026 تک منسوخ رہیں گی۔ ہم صورت حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور پروازوں کی محفوظ بحالی کو یقینی بنانے کے لیے حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔‘‘

ایئر انڈیا نے مزید کہا کہ منسوخ ہونے والی پروازوں سے متاثرہ مسافروں کو پوری رقم واپس کرنے کی سہولت دی جا رہی ہے۔ ایئر لائن نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ مسافروں اور عملے کی حفاظت اس کی اولین ترجیح ہے۔ بین الاقوامی شہری ہوابازی تنظیم کی کونسل نے جمعرات کو جاری بیان میں سعودی عرب میں حالیہ حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی اور ان واقعات میں متاثر ہونے والوں اور ان کے اہل خانہ سے گہری ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ یہ مذمت 8 اکتوبر کو آئی سی اے او کی کونسل کے سامنے سعودی عرب کی جانب سے دیے گئے بیان کے بعد سامنے آئی۔

تنظیم کے بیان کے مطابق، کونسل نے شہری ہوابازی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے اور اس کے نتیجے میں پروازوں کے نظام پر پڑنے والے اثرات پر افسوس ظاہر کیا۔ اس نے کہا کہ ایسے حملے ہوابازی کی حفاظت اور سلامتی کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ ایئر انڈیا کی جانب سے پروازوں کی منسوخی میں تازہ توسیع سے پہلے ہندوستانی فضائی کمپنیوں انڈیگو اور اکاسا ایئر نے بھی مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات کے باعث اپنی پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

انڈیگو نے ریاض، جدہ، دمام اور مدینہ آنے جانے والی پروازیں 17 اکتوبر تک منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایئر لائن نے مسافروں کو مشورہ دیا تھا کہ ہوائی اڈے کے لیے روانہ ہونے سے پہلے اپنی پرواز کی صورت حال ضرور معلوم کر لیں۔ اس نے یہ بھی بتایا تھا کہ متعلقہ حکام کے ساتھ رابطہ رکھا جا رہا ہے اور مسافروں کو بکنگ کے وقت فراہم کردہ رابطہ معلومات کے ذریعے تازہ صورت حال سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح اکاسا ایئر نے بھی سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورت حال اور محفوظ پروازوں کو لاحق خطرات کے پیش نظر ریاض اور جدہ آنے جانے والی پروازوں کی معطلی میں 17 اکتوبر تک توسیع کر دی تھی۔

ایئر لائن نے اپنی ہدایت میں کہا تھا کہ متاثرہ مسافر پوری رقم واپس لے سکتے ہیں یا بغیر کسی اضافی فیس کے اپنی پرواز کی تاریخ تبدیل کروا سکتے ہیں۔ یہ فضائی خلل سعودی عرب میں ہوابازی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی اطلاعات اور خطے میں فضائی سفر سے متعلق بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔ 10 اکتوبر کو ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 13 ہو گئی۔ ریاض میں ہندوستانی سفارت خانے نے اس واقعے میں زخمی ہونے والے ایک ہندوستانی شہری کی موت کی تصدیق کی، جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ فوجی کشیدگی کے درمیان حوثیوں نے بین الاقوامی ایئر لائنوں، غیر ملکی کارکنوں اور تجارتی مقاصد کے لیے سفر کرنے والوں کو وسیع پیمانے پر انتباہ جاری کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے ہوابازی مراکز سے دور رہیں۔

انہوں نے سعودی فضائی حدود کو غیر محفوظ قرار دیا، تاہم مکہ اور مدینہ جیسے مقدس شہروں کو اس انتباہ سے مستثنیٰ رکھا۔ ایئر انڈیا نے کہا ہے کہ وہ صورت حال پر مسلسل نظر رکھے گی اور پروازیں دوبارہ شروع کرنے سے پہلے تازہ حالات کا جائزہ لے گی۔ دوسری جانب، آئی سی اے او کی کونسل کی مذمت سے شہری ہوابازی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے حملوں پر عالمی سطح پر پائی جانے والی تشویش ظاہر ہوتی ہے۔ بین الاقوامی شہری ہوابازی تنظیم اقوام متحدہ کا ایک خصوصی ادارہ ہے، جس میں 193 رکن ممالک شامل ہیں۔ یہ ادارہ بین الاقوامی شہری ہوابازی کو محفوظ، پُرامن اور پائیدار بنانے کے لیے عالمی معیارات اور رہنما اصول وضع کرتا ہے۔