امراوتی: خلیج بنگال کے مغربی وسطی حصے میں شدید سمندری طوفان ’ارناب‘ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، جس کے پیش نظر آندھرا پردیش کے ساحلی علاقوں میں بڑے پیمانے پر بچاؤ اور راحتی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ یہ طوفان مزید شدت اختیار کر سکتا ہے اور بدھ کی صبح یانم کے قریب ساحل سے ٹکرا سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں تیز ہواؤں اور انتہائی شدید بارش کا خطرہ ہے۔ ہندوستان کے محکمہ موسمیات اور آندھرا پردیش اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق، طوفان گزشتہ 6 گھنٹوں کے دوران 25 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آگے بڑھا ہے۔
منگل کی صبح طوفان وشاکھاپٹنم سے تقریباً 300 کلومیٹر، کاکیناڈا سے 360 کلومیٹر، مچلی پٹنم سے 460 کلومیٹر اور باپٹلا سے 530 کلومیٹر دور تھا۔ پیش گوئی کے مطابق طوفان بدھ کی صبح باپٹلا اور وشاکھاپٹنم کے درمیان یانم کے قریب ساحل سے ٹکرا سکتا ہے۔ آندھرا پردیش اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر پرکھر جین نے بتایا کہ طوفان منگل کی شام تک مغرب اور شمال مغرب کی سمت بڑھتا رہے گا، جس کے بعد اس کا رخ شمال مغرب کی جانب ساحلی علاقوں کی طرف ہوجائے گا۔ وشاکھاپٹنم میں ہلکی بارش شروع ہونے کے بعد اورنج الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے 3 گھنٹوں کے دوران سریکاکولم، وجیا نگرم اور انکاپلی سمیت بعض علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ ہلکی بارش ہوسکتی ہے۔ اس دوران آسمانی بجلی گرنے اور 50 سے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چلنے کا بھی امکان ہے۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ساحل سے ٹکرانے کے وقت طوفان مزید شدت اختیار کرکے انتہائی شدید سمندری طوفان میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ ساحلی علاقوں میں 115 سے 125 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے مسلسل ہوائیں چلنے اور ان کی رفتار 140 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ساحلی خطے کے بعض مقامات پر انتہائی شدید بارش ہوسکتی ہے۔
ابتدائی جائزوں کے مطابق طوفان کی زد میں آندھرا پردیش کے 16 اضلاع آنے کا خدشہ ہے۔ ان اضلاع میں 2,460 ریونیو گاؤں اور 92 شہری علاقے شامل ہیں۔ طوفان سے ہونے والے ممکنہ نقصانات کو کم کرنے اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ نے وسیع پیمانے پر تیاریاں کی ہیں۔ مجموعی طور پر 1,763 سائیکلون شیلٹر تیار رکھے گئے ہیں، جبکہ اضلاع اور منڈل سطح پر 2,907 کنٹرول روم قائم کیے گئے ہیں۔ راحت اور بچاؤ کے کاموں کی نگرانی کے لیے 3,185 نوڈل افسران بھی تعینات کیے گئے ہیں۔ خطرے سے دوچار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے 2,107 سورنا گرام اور سورنا وارڈ یونٹوں میں انخلا کی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔
قومی ڈیزاسٹر رسپانس فورس (این ڈی آر ایف) اور ریاستی ڈیزاسٹر رسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) کی ٹیمیں بھی 11 انتہائی حساس اضلاع میں تعینات کر دی گئی ہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری طور پر بچاؤ اور راحتی کارروائیاں انجام دی جاسکیں۔ انتظامیہ نے انسانی جانوں کے تحفظ اور عوامی بنیادی ڈھانچے کو نقصان سے بچانے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں۔ تمام ساحلوں پر عوام کی آمدورفت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ منگل کی دوپہر سے ساحلی سڑکوں پر آمدورفت مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ماہی گیروں کی حفاظت کے حوالے سے حکام نے بتایا کہ سمندر میں گئے تمام ماہی گیر بحفاظت واپس لوٹ آئے ہیں۔
مجموعی طور پر 30,043 ماہی گیری کی کشتیوں کو بندرگاہوں پر لنگر انداز کرکے محفوظ کر دیا گیا ہے۔ طوفان سے متاثر ہونے کے خدشے والے علاقوں میں ضروری طبی خدمات جاری رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پینے کے پانی کی قلت سے بچنے اور ضرورت پڑنے پر فوری فراہمی یقینی بنانے کے لیے 2,613 ہنگامی واٹر ٹینکر بھی تیار رکھے گئے ہیں۔ انتظامیہ نے ساحلی علاقوں کے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ موسمی حالات پر نظر رکھیں، حکام کی ہدایات پر عمل کریں اور خطرے والے علاقوں سے دور رہیں۔