ممبئی۔مشہور شاعر اور اسکرین رائٹر جاوید اختر اتوار کو اپنی زندگی کی 81ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ ہندی سنیما کے معروف قلم کار بننے سے پہلے ان کی زندگی انتہائی مشکل حالات سے گزری۔ وہ 27 نئے پیسے جیب میں لے کر بمبئی پہنچے تھے اور آنکھوں میں بڑے خواب سجائے ہوئے تھے۔ان کی اہلیہ اور معروف اداکارہ شبانہ اعظمی نے جاوید اختر کی سالگرہ کے موقع پر ان کی جدوجہد کے ابتدائی دنوں کو یاد کیا۔ انہوں نے ایک نوجوان جاوید اختر کی تصویر انسٹاگرام پر شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ 4 اکتوبر 1964 کو بمبئی سینٹرل اسٹیشن پہنچے تھے۔ اس وقت ان کی عمر صرف 19 سال تھی اور جیب میں محض 27 نئے پیسے تھے۔
شبانہ اعظمی نے بتایا کہ جاوید اختر نے اپنے ابتدائی دنوں میں فٹ پاتھوں اور ریلوے اسٹیشنوں پر راتیں گزاریں۔ کئی فلم اسٹوڈیوز کے احاطوں میں بھی انہیں پناہ لینی پڑی۔ ان کے پاس نہ اپنا گھر تھا اور نہ مستقبل کے بارے میں کوئی یقین۔ تاہم بڑے خوابوں نے انہیں مسلسل آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔شبانہ اعظمی نے ان کی زندگی کے ایک انتہائی مشکل دور کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب جاوید اختر کے پاس 3 دن تک کھانے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ پہننے کے لیے بھی ان کے پاس تقریباً کچھ نہیں بچا تھا۔ مایوسی کی انتہا پر پہنچنے کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔
شبانہ کے مطابق اس وقت جاوید اختر نے خود سے کہا تھا کہ وہ صرف مرنے کے لیے پیدا نہیں ہوئے ہیں اور یہ دن بدلیں گے۔ وقت نے ان کے اس یقین کو درست ثابت کیا۔شبانہ اعظمی نے لکھا کہ 4 اکتوبر 1964 کو 19 سال کی عمر میں جاوید اختر تقریباً خالی جیب بمبئی پہنچے تھے۔ کئی دہائیوں بعد 4 اکتوبر 2026 کو ان کی زندگی ہندوستان کو یاد رہ جانے والے الفاظ دینے والی ایک طویل داستان بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ سفر تقریباً کچھ نہ ہونے سے شروع ہوتے ہیں۔ صرف ایک خواب ہوتا ہے۔ اگر جاوید اختر یہ کر سکتے ہیں تو دوسرے لوگ بھی کر سکتے ہیں اور کبھی ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔شبانہ اعظمی اور جاوید اختر کی شادی 1984 میں ہوئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ جاوید اختر کی پہلی ملاقات شبانہ سے ان کے والد اور معروف شاعر کیفى اعظمی کے گھر پر ہوئی تھی۔ جاوید اختر کی پہلی شادی ہنی ایرانی سے ہوئی تھی۔ اس شادی سے ان کے 2 بچے فرحان اختر اور زویا اختر ہیں۔