غزہ پر بننے والی دستاویزی فلم ’نازا‘ عالمی ریلیز کے بعد مفت آن لائن دستیاب ہوگی

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 25-09-2026
غزہ پر بننے والی دستاویزی فلم ’نازا‘ عالمی ریلیز کے بعد مفت آن لائن دستیاب ہوگی
غزہ پر بننے والی دستاویزی فلم ’نازا‘ عالمی ریلیز کے بعد مفت آن لائن دستیاب ہوگی

 



یروشلم: غزہ میں ہلاکتوں پر بنائی گئی اسرائیلی فلم سازوں یووال ابراہام اور ریچل سور کی دستاویزی فلم ’نازا‘ عالمی سطح پر ریلیز کے بعد مفت آن لائن دیکھی جا سکے گی۔ فلم نے حال ہی میں اختتام پذیر وینس فلم فیسٹیول میں خصوصی جیوری ایوارڈ حاصل کیا ہے۔’ورائٹی‘ کے مطابق یہ دستاویزی فلم وینس فلم فیسٹیول میں ورلڈ پریمیئر کے بعد 28 ستمبر کو دنیا بھر کے سینما گھروں میں ریلیز کی جائے گی۔ اس کے بعد نومبر کے آخر میں برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ کی ویب سائٹ پر اسے عالمی ناظرین کے لیے مفت دستیاب کر دیا جائے گا۔

فلم کے آفیشل تعارف کے مطابق ’نازا‘ غزہ میں فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں کے پیچھے موجود ان نظاموں کو تفصیل سے پیش کرتی ہے جنہیں اسرائیل نے منظم طریقے سے استعمال کیا۔یہ دستاویزی فلم خفیہ طور پر رات کے وقت تل ابیب کی عمارتوں کی چھتوں پر بنائی گئی ہے۔ اس میں اسرائیلی فوج کی انٹیلی جنس سے وابستہ 24 افسران اور فوجیوں کے انٹرویوز شامل ہیں۔’نازا‘ کی اصطلاح فلم میں بار بار استعمال کی گئی ہے۔ یہ اسرائیلی انٹیلی جنس میں فضائی حملے کے دوران متوقع شہری ہلاکتوں کی تعداد ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہونے والے ایک مخفف کے طور پر بیان کی گئی ہے۔

فلم کے ہدایت کار یووال ابراہام نے بھی اپنے ایکس اکاؤنٹ پر دستاویزی فلم کو دنیا بھر میں مفت آن لائن دکھانے کے فیصلے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ فلم میں عوام کی دلچسپی اور اس کی عوامی اہمیت کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ابراہام نے کہا کہ انہوں نے ریچل کے ساتھ مل کر ’دی گارڈین‘ کے تعاون سے فیصلہ کیا ہے کہ فلم کو بغیر کسی وقت کی پابندی کے مفت آن لائن دستیاب کرایا جائے تاکہ ہر شخص اسے اور اس میں شامل فوجیوں کی گواہیاں دیکھ سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نومبر میں ممکنہ طور پر جلد از جلد دستیاب ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت تک انہوں نے اسرائیل کے سینما گھروں سے رابطہ کیا ہے اور انہیں فلم بغیر کسی قیمت کے دکھانے کی پیشکش کی ہے۔ ان کی خواہش ہے کہ فلم اسرائیل میں بھی جلد دکھائی جائے اور اسی دوران دنیا بھر کے سینما گھروں میں اس کی نمائش جاری رہے۔ابراہام نے کہا کہ موجودہ حالات میں فلم کی نمائش ایک جرات مندانہ فیصلہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ فلم دیکھنے کے لیے لوگوں میں بہت زیادہ دلچسپی ہے اور انہیں امید ہے کہ جلد ہر شخص اسے سینما گھر میں یا چند ہفتوں بعد آن لائن دیکھ سکے گا۔

یووال ابراہام اور ریچل سور ان چار ہدایت کاروں میں شامل تھے جنہوں نے ’نو ادر لینڈ‘ بنائی تھی۔ اس فلم نے 2025 کا بہترین دستاویزی فلم کا آسکر ایوارڈ جیتا تھا۔ فلم میں جنوبی مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنے کی اسرائیلی حکومت کی کوششوں کو پیش کیا گیا تھا۔