حیدرآباد :ایک فتویٰ اور بدل گئی زندگی۔ ہندو خطاط انیل کمار چوہان کی دلچسپ کہانی

Story by  شیخ محمد یونس | Posted by  [email protected] | Date 01-11-2026
حیدرآباد :ایک فتویٰ اور بدل گئی زندگی۔ ہندو خطاط انیل کمار چوہان کی دلچسپ کہانی
حیدرآباد :ایک فتویٰ اور بدل گئی زندگی۔ ہندو خطاط انیل کمار چوہان کی دلچسپ کہانی

 



شیخ محمد یونس / حیدرآباد 

انیل کمار چوہان ۔۔ کہتے ہیں نام ہی کافی ہے ، حیدرآباد میں اس نام کی مسجدوں سے درگاہوں تک گونج ہے،کیونکہ بیشتر مسجدوں اور درگاہوں کے درودیوار ان کی خطاطی کے فن کے گواہ ہیں۔ ہر کسی کی آنکھوں کو ٹھنڈک بھی بخش رہے ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انل کمار چوہان کا یہ سفر شہر حیدرآباد کے پرانے شہر کے گلی کوچوں میں دکانوں کے سائن بورڈس سے شروع ہوا تھا۔ جبکہ ایک فتوی نے  ان کی زندگی بدل دی , جس میں مسجدوں اور درگاہوں میں  ایک غیر مسلم  کو کیلی گرافی کی اجازت  دی گئی تھی ۔ اب وہ دوسو سے زیادہ مسجدوں اور درگاہوں میں اپنی کیلی گرافی کی چھاپ چھوڑ چکے ہیں۔اپنی عالمی سطح پر شناخت بنانے میں کامیاب ہوگئے ہیں ۔ انل کمار چوہان کا فن اب ہر کسی کو متوجہ کرتا ہے،اہم بات یہ ہے کہ میلاد النبی کی محفلوں میں نعت گوئی کے بھی شوقین ہیں انل کمار چوہان ۔ جبکہ انہیں رحمت عالم  انٹر نیشنل پیس ایوارڈ سے بھی نوازا جاچکا ہے جو  مذہبی ہم آہنگی اور بھائی چارے کےلیے دیا جاتا ہے 

نمائندہ آواز دی وائس سے بات کرتے ہوئے انیل کمار چوہان نے کہا کہ انہیں مسجدوں اور درگاہوں سے قلبی لگاؤ اور محبت ہے۔ ملک کے کسی بھی حصے سے انہیں دعوت موصول ہوتی ہے تو وہ اپنے فن کے مظاہرے کے لئے پہنچ جاتے ہیں۔ وہ بہترین اندازمیں نعت شریف بھی سناتے ہیں۔ مختلف جلسوں اور محفلوں میں انیل کمارچوہان نعت شریف کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔

کنگا جمنی تہذیب اور محنت شاقہ کی عملی تصویر

انیل کمار چوہان گنگا جمنی تہذیب کی خوبصورت مثال ہیں۔ وہ غیر مسلم ہونے کے باوجود سینکڑوں مسجدوں پر عربی میں قرآنی آیات، اسمائے مبارک ، خلفائے راشدین کے نام، دعائیں اور احادیث تحریر کئے ہیں۔ انیل کمار چوہان نے فن خطاطی کے رموز و اسرار باقاعدہ کسی استاذ سے نہیں سیکھے بلکہ اپنی محنت اور جستجو کے ذریعہ آج عالمی سطح پر شہرت حاصل کی ہے۔وہ پرانے شہر کے گلی کوچوں میں دکانات کے سائن بورڈس  تحریر کرتے تھے۔ انہیں عربی رسم الخط کا تجربہ بھی نہیں تھا تاہم جہاں محنت اور جستجو ہوتی ہے۔ وہاں راستے خود بخود بنتے ہیں۔ انیل کمار چوہان نے رات دن محنت کی اور آج ان کے فن کو دیکھ کر کوئی بھی رشک کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

خاندانی پس منظر

انیل کمار چوہان کا خاندان مہاراشٹرا سے تعلق رکھتا ہے۔  ان کا ننھیال حیدرآباد کا ہے۔ انیل کمار چوہان 1970 میں شہر حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ مالی مشکلات کے باعث اعلیٰ تعلیم حاصل نہ کر سکے۔ دسویں جماعت کے بعد تعلیم کا سلسلہ منقطع کر دیا۔ انیل کمار چوہان کے ماموں اور والدہ بہترین پینٹر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں بچپن ہی سے پینٹنگ کا بہت زیادہ شوق تھا۔ رفتہ رفتہ وہ پینٹنگ اور ڈرائنگ میں ماہر بن گئے۔ ضروریات زندگی کی تکمیل کے لئے انیل کمار چوہان نے پینٹنگ کو ہی ذریعہ معاش بنایا اور دکانات پر سائن بورڈس تحریر کرنے کے کام کا آغاز کیا۔

اردو اور عربی زبان پر عبور

انیل کمارچوہان اردو اور عربی زبان سے بالکل نا واقف تھے۔ شہر حیدرآباد میں اس وقت اردو زبان کا چلن عام تھا اور دکانات پر لازمی طور پر اردو تحریر ہوا کرتی تھیں ۔ انیل کمار چوہان نے نہ صرف اردو زبان سیکھی بلکہ ساتھ ہی ساتھ عربی زبان پر بھی خصوصی توجہ دی۔ ان کا فن خطاطی خدا داد صلاحیت کا ثبوت ہے۔ وہ اردو، عربی، ہندی، انگریزی، تلگو اور بنگالی زبان لکھنا پڑھنا جانتے ہیں۔

فتوی جس نے چوہان کی راہ ہموار کی

انیل کمار چوہان کے فن کو دیکھ کر انہیں پہلی مرتبہ مسجد النور کشن باغ میں قرآنی آیات تحریر کرنے کی دعوت دی گئی۔ مسجد کمیٹی کی دعوت کو انیل کمار چوہان نے قبول کیا۔ تب سے آج تک وہ سینکڑوں مسجدوں پر قرآنی آیات، اسمائے مبارک، خلفائے راشدین کے نام اور دعائیں تحریر کر چکے ہیں۔ آغاز میں چند گوشوں سے اعتراض کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ غیر مسلم شخص مسجد میں کیسے داخل ہو سکتا ہے اور قرآنی آیات اور اسمائے مبارک تحریر کر سکتا ہے۔ اس معاملہ میں انیل کمار چوہان جنوبی ہند کی مشہور و معروف اسلامی درسگاہ  جامعہ نظامیہ سے رجوع ہوئے اور فتویٰ حاصل کیا۔ انیل کمار چوہان کو پاکیزگی کا خیال رکھتے ہوئے مسجدوں میں قرآنی آیات تحریر کرنے کی اجازت دی گئی۔ جامعہ نظامیہ کے فتویٰ کے بعد تمام اعتراضات ختم ہو گئے اور انیل کمار چوہان کو قدر ومنزلت کے ساتھ ساتھ احترام بھی حاصل ہوا۔

درگاہ حضرت مخدوم الہیٰ میں خطاطی

 آج مشہور و معروف درگاہ حضرت مخدوم الہیٰ رحمتہ اللہ علیہ کڑپہ کے گنبد اور در و دیوار بھی انیل کمار چوہان کی شاندار فن خطاطی کے ہیں ۔آندھراپردیش کے ضلع کڑپہ میں آستانہ حضرت مخدوم الہیٰ المعروف امین پیر درگاہ واقع ہے۔ اسے بڑی درگاہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ درگاہ نہ صرف جنوبی ہند میں تصوف کا مرکز ہے بلکہ بالی ووڈ اور ہندوستانی سینما کی نامور شخصیات کی گہری عقیدت کا مرکز بھی ہے۔ یہ400 سالہ قدیم تاریخی درگاہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی علامت ہے۔  یہاں بلا لحاظ مذہب و ملت ہزاروں افراد حاضری دیتے ہیں، دلی اور روحانی سکون حاصل کرتے ہیں۔

 آسکرایوارڈ یافتہ میوزک ڈائرکٹر اے آر رحمٰن باقاعدگی سے درگاہ شریف پر حاضری دیتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ عامر خان، امیتابھ بچن، ایشوریہ رائے، اکشے کمار، نواز صدیقی و دیگر بھی یہاں بصد عقیدت و احترام حاضری دے چکے ہیں۔ امین پیر درگاہ پر بالی ووڈ ستاروں کی حاضری کے ساتھ ساتھ یہاں کے گنبد اور در و دیوار پر عربی،اردو خطاطی کا کام بھی بے حد منفرد اور عقیدت کی ایک عظیم مثال ہے۔ اس کام کے روح رواں انیل کمار چوہان ہیں۔

انیل کمار چوہان نے درگاہ کی نئی مسجد کے علاوہ درگاہ کے مختلف حصوں، محرابوں اوردیواروں پر اپنی بے پناہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے قرآنی آیات، اسمائے مبارک، صوفیانہ کلام اور اسلامی عبارات کی  خوبصورت خطاطی کی ہے۔ اپنے آرٹ ورک کا بھی انیل کمار چوہان نے شاندار مظاہرہ کیا ہے۔ان کا یہ کام درگاہ کے روحانی ماحول کو مزید دلکش بناتا ہے۔ جہاں بالی ووڈ اداکار کڑپہ کی اس  درگاہ پر حاضری دے کر سرخیوں میں رہتے ہیں وہیں انیل کمار چوہان جیسے فنکار اپنے فن کے ذریعہ آستانہ کی خوبصورتی اور ہندوستانی گنگا جمنی تہذیب کو چار چاند لگاتے ہیں۔

 رحمت عالم انٹرنیشنل پیس ایوارڈ

 فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار مشہور و معروف خطاط انیل کمار چوہان کو ان کی گراں قدر اور قابل احترام خدمات کے اعتراف میں 2021میں  رحمت عالم انٹرنیشنل پیس ایوارڈ عطا کیا گیا تھا۔ غیر مسلم خطاط نے 200 سے زائد مسجدوں میں قرآنی آیات ' اسمائے مبارک تحریر کئے ہیں۔انیل کمار چوہان نے باقاعدہ طورپر کوئی اسکول یا مدرسہ میں تعلیم حاصل نہیں کی۔بلکہ اپنی محنت اور مشقت کے ذریعہ اردو زبان پر نہ صرف عبور حاصل کیا بلکہ فن خطاطی میں کمال پیدا کیا۔

یاد رہے کہ کل ہند بزم رحمت عالم ایک غیر سیاسی تنظیم ہے جس کا منشاء و مقصد انسانیت کی خدمت اور صالح معاشرہ کی تشکیل کو یقینی بنانا ہے۔بزم کے زیر اہتمام ہر سال عید میلاد النبیۖ کے موقع پر جشن منعقد کیا جاتا ہے اور رحمت عالم انٹرنیشنل پیس ایوارڈ عطا کیا جاتا ہے۔ہندو۔مسلم اتحاد کے امین ' فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے نقیب اور انسانیت کی خدمت کیلئے وقف مشہور و معروف غیر مسلم شخصیات کو پیس ایوارڈ عطا کیا جاتا ہے

 انیل کمار چوہان کے فن کی نہ صرف مختلف گوشوں سے ستائش کی جا رہی ہے بلکہ ان کی خدمات اور فن کا اعتراف کرتے ہوئےمختلف تنظیموں کی جانب سے ایوارڈس بھی عطا کئے گئے ہیں۔نمائندہ آواز دی وائس سے بات کرتے ہوئے انیل کمار چوہان نے کہا کہ درگاہ شریف میں تقریباً ایک برس تک کام کیا گیا۔ان کا کہنا ہےکہ  فن کی دنیا قدر کرتی ہے لہذا نوجوان نسل فنی اعتبار سے ماہر بنیں۔  اپنے فن میں مہارت حاصل کریں اور ترقی کے منازل طئے کریں۔انیل کمار چوہان نے ان کے  فن کی قدر دانی اور وقتاً فوقتاً ان کے کام کو دنیا کے سامنے پیش کرنے پرآواز دی وائس کا خصوصی طور پر  شکریہ ادا کیا ہے۔