کٹیہار: بہار کے کٹیہار ضلع کے کئی علاقوں میں گنگا، کوسی، برنڈی اور کڑی کوسی ندیوں میں پانی کی سطح بڑھنے کے باعث سیلاب کی صورت حال برقرار ہے۔ ایسے میں محکمہ صحت کی ٹیمیں کشتی ایمبولینس کے ذریعے سیلاب متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر لوگوں کو موقع پر ہی علاج اور دوائیں فراہم کر رہی ہیں۔ ضلع انتظامیہ کے مطابق، اب تک کٹیہار میں تقریباً 8 لاکھ 80 ہزار 140 افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ ندیوں کے کنارے واقع کئی گاؤں اب بھی زیر آب ہیں۔
براری کے میڈیکل آفیسر انچارج ڈاکٹر محمد مشرف حسین نے بتایا کہ بند کے اس جانب کئی گاؤں پر مشتمل علاقہ ہر سال سیلاب کی زد میں آتا ہے، لیکن اس سال صورت حال خاص طور پر سنگین ہے اور کئی مکانات پانی میں ڈوب گئے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’بند کے اس جانب کئی گاؤں پر مشتمل علاقہ ہر سال زیر آب آتا ہے۔ تاہم اس سال سیلاب کی شدت بہت زیادہ ہے اور کئی گھر پانی میں ڈوب گئے ہیں۔‘
‘ ڈاکٹر حسین نے بتایا کہ سیلاب کے باوجود بڑی تعداد میں لوگ متاثرہ علاقوں میں اپنے گھروں میں رہ رہے ہیں، اس لیے محکمہ صحت کی ٹیموں نے دواؤں سے لیس کشتی ایمبولینس کا انتظام کیا ہے، تاکہ وہ براہ راست لوگوں کے گھروں تک پہنچ کر ان کی صحت کا جائزہ لے سکیں۔
انہوں نے کہا، ’’چونکہ لوگ اب بھی وہاں رہ رہے ہیں، اس لیے ہم نے دواؤں سے لیس کشتی ایمبولینس کا انتظام کیا ہے، جو ان کے گھروں تک پہنچ رہی ہے اور یہ معلوم کر رہی ہے کہ کسی کو صحت سے متعلق کوئی پریشانی تو نہیں ہے۔‘‘ طبی ٹیموں کے دوروں کے دوران سامنے آنے والی صحت سے متعلق شکایات کے بارے میں ڈاکٹر حسین نے بتایا، ’’ہمیں کئی لوگوں نے خارش، فنگل انفیکشن، بخار اور کھانسی جیسی شکایات بتائیں اور ہم نے سب کو دوائیں فراہم کیں۔‘‘
حکام کے مطابق ضلع کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں کشتی ایمبولینس کے ذریعے یہ دورے باقاعدگی سے کیے جا رہے ہیں، تاکہ وہاں رہنے والے لوگوں، خاص طور پر ان افراد کو بروقت طبی امداد ملتی رہے جو اپنے گھروں سے نکلنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں یا وہاں سے منتقل نہیں ہونا چاہتے۔ ضلع انتظامیہ نے بتایا کہ راحت رسانی اور صورت حال کی نگرانی کا کام جاری ہے۔ صحت سمیت دیگر محکمے باہمی تعاون سے متاثرہ لوگوں کی ضروریات پوری کرنے میں مصروف ہیں، جبکہ سیلاب کا پانی کٹیہار کے بڑے حصے کو متاثر کر رہا ہے۔