بصارت سے محروم زینب بلال وادی کے لیے مثال بن گئیں

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 29-04-2026
بصارت سے محروم زینب بلال وادی کے لیے مثال بن گئیں
بصارت سے محروم زینب بلال وادی کے لیے مثال بن گئیں

 



یاسمین خان / سری نگر

 وادی کشمیر کی ایک باہمت بیٹی نے اپنی محنت اور حوصلے سے وہ مثال قائم کی ہے جو ہر کسی کے لیے مشعل راہ بن سکتی ہے زینب بلال نامی اس طالبہ نے سی بی ایس ای امتحان میں پچانوے فیصد نمبر حاصل کر کے نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے خطے کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے خاص بات یہ ہے کہ زینب پیدائشی طور پر بصارت سے محروم ہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے اپنی لگن اور مستقل مزاجی سے یہ کامیابی حاصل کی

زینب کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے اپنا نتیجہ دیکھا تو وہ خود بھی حیران رہ گئیں کیونکہ انہوں نے اتنے زیادہ نمبروں کی توقع نہیں کی تھی وہ بتاتی ہیں کہ یہ سب اللہ کے کرم اور اپنی محنت کا نتیجہ ہے ان کے مطابق محنت کا پھل واقعی میٹھا ہوتا ہے اور اگر انسان مستقل مزاجی سے کام کرتا رہے تو کامیابی ضرور ملتی ہے

ان کی تعلیمی زندگی آسان نہیں رہی شروع میں کئی اسکولوں نے داخلہ دینے سے انکار کر دیا جس سے انہیں اور ان کے خاندان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور آخرکار دہلی پبلک اسکول سرینگر میں داخلہ ملا جہاں اساتذہ نے ان کی بھرپور رہنمائی کی زینب کہتی ہیں کہ اسکول نے انہیں نہ صرف تعلیم دی بلکہ اعتماد بھی دیا جس کی بدولت وہ آج اس مقام تک پہنچ سکیں

اپنی پڑھائی کے بارے میں زینب کا ماننا ہے کہ کامیابی کے لیے گھنٹوں پڑھنا ضروری نہیں بلکہ مستقل مزاجی زیادہ اہم ہے وہ روزانہ محدود وقت کے لیے پوری توجہ کے ساتھ پڑھتی تھیں اور یہی ان کی کامیابی کا راز بنا کمپیوٹر سائنس ان کا پسندیدہ مضمون ہے جس میں انہوں نے سو فیصد نمبر حاصل کیے جو ان کے لیے ایک خوشگوار حیرت تھی

زینب کی کامیابی میں ان کے خاندان کا کردار بھی نہایت اہم رہا ان کی والدہ کا کہنا ہے کہ ابتدا میں یہ سفر بہت مشکل تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ راستے آسان ہوتے گئے انہوں نے اپنی بیٹی کی حوصلہ افزائی کی اور اس کے ٹیلنٹ کو پہچان کر اسے آگے بڑھنے کا موقع دیا ان کے مطابق اصل کمی بچوں میں نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کی سوچ میں ہوتی ہے اگر مناسب رہنمائی اور تعاون ملے تو یہ بچے ہر میدان میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں

زینب نہ صرف ایک ہونہار طالبہ ہیں بلکہ ایک ابھرتی ہوئی ریڈیو اینکر بھی ہیں انہوں نے کورونا کے دوران گھر سے اپنی آواز ریکارڈ کر کے اس سفر کا آغاز کیا اور بعد میں معروف شخصیات کے انٹرویوز بھی کیے جن میں عامر خان اور عمر عبداللہ شامل ہیں ان کا خواب ہے کہ وہ مستقبل میں ایک بڑی شخصیت بن کر ملک و قوم کی خدمت کریں

آخر میں زینب کا پیغام ان تمام طلبہ کے لیے ہے جو مشکلات کا شکار ہیں کہ کبھی ہمت نہ ہاریں اللہ پر بھروسہ رکھیں اور اپنی محنت جاری رکھیں کیونکہ اگر وہ یہ کامیابی حاصل کر سکتی ہیں تو کوئی بھی کر سکتا ہے ان کی کہانی اس بات کا ثبوت ہے کہ عزم اور محنت کے سامنے کوئی رکاوٹ بڑی نہیں ہوتی