بہرائچ: اتر پردیش کے ضلع بہرائچ میں نیشنل ہائی وے پر پیش آئے ایک ہولناک سڑک حادثے کے بعد مدرسے کے تین مولاناوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر انسانیت کی ایسی مثال پیش کی جس کی ہر طرف ستائش کی جا رہی ہے۔
دو کاروں کے درمیان زبردست ٹکر کے بعد ایک کار میں اچانک آگ بھڑک اٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری گاڑی شعلوں کی لپیٹ میں آگئی۔ اس دوران موقع پر موجود بیشتر لوگ ویڈیو بنانے میں مصروف رہے لیکن مدرسے کے تین اساتذہ زخمیوں کی مدد کے لیے فوراً میدان میں اتر آئے

یہ حادثہ فخرپور تھانہ علاقے کے رکنہ پور بازار کے قریب پیر کے روز پیش آیا جہاں بہرائچ سے لکھنؤ جا رہی ایرٹیگا کار اور بارہ بنکی سے بہرائچ آنے والی ہونڈائی کار کے درمیان آمنے سامنے کی شدید ٹکر ہوگئی۔ حادثے کے فوراً بعد ہونڈائی کار کے بونٹ سے دھواں اٹھنے لگا اور چند ہی لمحوں میں گاڑی آگ کے شعلوں میں گھر گئی
عینی شاہدین کے مطابق حادثے کے بعد موقع پر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوگئے تھے لیکن اکثر افراد اپنے موبائل فون سے ویڈیو بنانے میں مصروف تھے۔ اسی دوران قریب واقع مدرسے کے اساتذہ حافظ شفیع الدین۔ حافظ اسلام الدین۔ اور حافظ شمش الدین موقع پر پہنچے اور بے خوف ہو کر جلتی گاڑی میں پھنسے افراد کو باہر نکالنے کی کوشش شروع کردی۔ سخت جدوجہد کے بعد انہوں نے زخمی مسافروں کو محفوظ مقام تک پہنچایا
حادثے میں مجموعی طور پر چھ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر ایمبولینس کے ذریعے قیصر گنج کے کمیونٹی ہیلتھ سینٹر منتقل کیا گیا۔ زخمیوں میں جتیندر لال۔ متھیلیش۔ امولیہ کشواہا۔ مینا کشواہا۔ اگمیا سنگھ اور رودر پرتاپ شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق تمام زخمیوں کا علاج جاری ہے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی کنداسر چوکی انچارج پی این پانڈے اپنی ٹیم کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے اور فوری طور پر ٹریفک بحال کرایا۔ کچھ دیر تک ہائی وے پر آمد و رفت متاثر رہی لیکن پولیس نے صورتحال کو جلد قابو میں کرلیا
مدرسے کے مولاناوں نے بعد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انسانیت سب سے بڑا مذہب ہے اور مصیبت میں پھنسے انسان کی مدد کرنا ہر شخص کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے حادثہ دیکھا تو ویڈیو بنانے کے بجائے لوگوں کی جان بچانا زیادہ ضروری سمجھا۔ اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی تینوں مولاناوں کی بہادری اور انسان دوستی کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے