سڈنی حملہ :مقامی ہیرو احمد کو امریکی صدر سے آسٹریلیائی وزیراعظم تک شاباشی اور انعام

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 16-12-2025
سڈنی حملہ :مقامی ہیرو احمد کو امریکی صدر سے آسٹریلیائی وزیراعظم تک  شاباشی اور انعام
سڈنی حملہ :مقامی ہیرو احمد کو امریکی صدر سے آسٹریلیائی وزیراعظم تک شاباشی اور انعام

 



سڈنی :آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں بونڈی بیچ پر پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے میں ایک عام شہری احمد ال احمد نے غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلح حملہ آور کو قابو کیا اور ممکنہ طور پر درجنوں جانیں بچا لیں۔ اس واقعے کے بعد احمد کو نہ صرف آسٹریلیا بلکہ دنیا بھر میں ہیرو کے طور پر سراہا جا رہا ہے۔

 احمد الاحمد ہمارے ملک کی بہترین اقدار کی نمائندگی کرتے ہیں

آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیزی نے بونڈی میں ہونے والی فائرنگ کے واقعے کے بعد اسپتال میں احمد الاحمد سے ملاقات کی اور ان کی غیر معمولی بہادری کو سراہا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ احمد الاحمد نے جس جرات اور حوصلے کا مظاہرہ کیا وہ پورے ملک کے لیے فخر کا باعث ہے۔

احمد الاحمد سڈنی میں پھلوں کی دکان کے مالک ہیں اور مسلمان ہیں۔ ان کا تعلق شمالی شام کے شہر ادلب سے ہے اور وہ دو بچوں کے والد ہیں۔ بونڈی میں حملے کے دوران احمد الاحمد نے حملہ آور کا سامنا کیا۔ اس دوران انہیں دو گولیاں لگیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے حملہ آور پر جھپٹ کر اس کے ہاتھ سے رائفل چھین لی اور اسے اپنی طرف تان لیا جس کے بعد حملہ آور پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گیا۔ احمد الاحمد کا یہ اقدام انسانیت جرات اور شہری ذمہ داری کی روشن مثال ہے۔

دنیا کے امیر ترین شخص کی جانب سے انعام کا اعلان

دنیا کی امیر ترین شخصیات میں شامل یہودی نژاد امریکی سرمایہ کاری بینکر بل ایکمین نے احمد ال احمد کی بہادری پر انہیں انعام دینے کی خواہش ظاہر کی۔ سکائی نیوز کے مطابق بل ایکمین جن کی مجموعی دولت کا تخمینہ 9.5 ارب ڈالر سے زائد ہے نے سوشل میڈیا پر کہا کہ احمد اور ان کے خاندان کے لیے ایک تصدیق شدہ فنڈ قائم کیا جانا چاہیے تاکہ انہیں مناسب انعام دیا جا سکے۔

فنڈ ریزنگ مہم اور بھاری عطیات

آن لائن قائم کیے گئے فنڈ ریزرز میں سے ایک جو احمد کے نام سے منسوب تھا پیر کی دوپہر تک 306000 ڈالر جمع کر چکا تھا۔ سب سے بڑی عطیہ شدہ رقم 99999 ڈالر تھی جو گو فنڈ می کے مطابق خود بل ایکمین کی جانب سے دی گئی۔

حملے کا پس منظر اور احمد کی شناخت

اتوار کے روز بونڈی بیچ پر یہودیوں کی ایک مذہبی تقریب کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ وائرل ہونے والی ویڈیو میں ایک راہگیر کو مسلح شخص کو قابو کرتے اور اس سے اسلحہ چھینتے ہوئے دیکھا گیا۔ بعد میں اس شخص کی شناخت 43 سالہ احمد کے طور پر ہوئی جو سڈنی میں پھلوں کی ایک دکان چلاتے ہیں۔ احمد کے بروقت اقدام نے کئی قیمتی جانیں بچا لیں۔

حملہ آور کون تھے

آسٹریلوی حکام کے مطابق فائرنگ کرنے والے افراد ساجد اکرم اور نوید اکرم تھے جو باپ بیٹا ہیں۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ ساجد اکرم 1998 میں سٹوڈنٹ ویزے پر آسٹریلیا آئے تھے اور بعد میں انہیں پارٹنر ویزا دیا گیا۔ ان کا بیٹا نوید اکرم 2001 میں آسٹریلیا میں پیدا ہوا اور وہ آسٹریلوی شہری تھا۔

حملے کی تفصیلات

اتوار کی شام دونوں حملہ آوروں نے بونڈی میں ایک حنوکا تقریب پر فائرنگ کی۔ اس واقعے میں 16 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ 38 افراد زخمی حالت میں ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ 50 اور 24 سالہ ملزمان نے تقریباً 5 منٹ تک فائرنگ کی۔

احمد کی جرات مندانہ کارروائی

ویڈیو فوٹیج میں دیکھا گیا کہ ساجد اکرم ایک پل سے نیچے آ رہے تھے اور ان کے ہاتھ میں رائفل تھی۔ اسی لمحے احمد ایک گاڑی کے پیچھے سے نکلے اور خاموشی سے حملہ آور کے قریب پہنچ کر اس پر جھپٹ پڑے۔ سخت کشمکش کے بعد احمد نے حملہ آور کے ہاتھ سے رائفل چھین لی جس کے نتیجے میں وہ زمین پر گر پڑا۔ بعد میں احمد نے بندوق ایک درخت کے ساتھ ٹکا دی اور خود کو محفوظ انداز میں پیچھے ہٹا لیا۔

احمد کی حالت اور علاج

احمد کے اہل خانہ کے مطابق وہ اس وقت ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ان کے بازو اور ہاتھ میں گولی لگی ہے جس کے باعث ان کی سرجری کی جا رہی ہے۔

حکومتی قیادت کی جانب سے خراج تحسین

نیو ساؤتھ ویلز کے وزیر اعلیٰ کرس منس نے احمد کو حقیقی ہیرو قرار دیا۔ وزیر اعظم انتھونی البانیز نے قوم سے خطاب میں کہا کہ آسٹریلوی شہریوں نے دوسروں کی جان بچانے کے لیے خطرے کی طرف دوڑ لگائی۔ ان کے مطابق احمد جیسے لوگ ہی اصل آسٹریلوی ہیرو ہیں۔

 احمد پر دنیا کو فخر ہے -چاچا نے کہا

سڈنی کے بونڈی بیچ پر فائرنگ کے واقعے کے دوران حملہ آور کو قابو میں کرنے والے احمد ال احمد کو ان کے چچا نے تمام شامیوں اور مسلمانوں کے لیے فخر قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ احمد نے جان کی پروا کیے بغیر لوگوں کی جانیں بچانے کے لیے جرات مندانہ قدم اٹھایا اور یہ نہیں دیکھا کہ متاثرین کس قوم یا مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔

احمد ال احمد کے چچا محمد احمد ال احمد نے ترک خبر رساں ادارے انادولو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بھتیجے نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ احمد نے حملہ آور کی طرف دوڑ کر اسلحہ چھینا تاکہ مزید جانیں ضائع نہ ہوں۔ ان کے مطابق یہ ایسا جذبہ ہے جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

چوالیس سالہ احمد ال احمد دو بچیوں کے والد ہیں۔ انہوں نے فائرنگ کے دوران ایک حملہ آور پر جھپٹ کر اس سے بندوق چھین لی اور اسے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا۔ اس دوران انہیں بازو اور کندھے میں گولیاں لگیں اور وہ شدید زخمی ہو گئے۔

اتوار کو ہونے والے اس حملے میں کم از کم سولہ افراد ہلاک اور چالیس زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ یہودی تہوار حنوکا کی تقریب کے دوران پیش آیا۔ حکام کے مطابق اگر احمد ال احمد حملہ آور کو نہ روکتے تو ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی تھی۔

احمد ال احمد کو آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز سمیت اعلیٰ حکام نے ہیرو قرار دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ان کی بہادری کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کیا اور کئی جانیں بچائیں۔

احمد ال احمد کا تعلق شام کے شمال مغربی صوبے ادلب کے ایک گاؤں سے ہے۔ وہ انیس سو اکیاسی میں پیدا ہوئے اور جامعہ حلب سے تعلیم حاصل کی۔ دو ہزار سات میں وہ آسٹریلیا منتقل ہوئے اور سڈنی میں سکونت اختیار کی۔ ابتدا میں انہوں نے تعمیراتی شعبے میں کام کیا اور بعد ازاں سبزیوں کی دکان قائم کی۔

زخمی ہونے کے بعد احمد ال احمد نے اپنے پیغام میں ان تمام افراد کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک مشکل مرحلے سے گزرے ہیں اور اللہ سے دعا کی کہ ان کی صحت جلد بحال ہو۔

دہشت گردی قرار دیا گیا واقع

حکام نے بونڈی بیچ کی فائرنگ کو دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا ہے۔ اس کے بعد انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تحقیقات کے لیے خصوصی اختیارات دے دیے گئے ہیں۔ یہ واقعہ آسٹریلیا کی تاریخ میں ایک سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا جبکہ احمد ال احمد کی بہادری ہمیشہ مثال بن کر سامنے رہے گی۔