ثنا قادری: امریکہ میں ہندوستانی مسالوں کی خوشبو پھیلانے کے لیے پیداوار سے کاروبار تک کی کہانی

Story by  ایم فریدی | Posted by  [email protected] | 3 Months ago
ثنا قادری: امریکہ میں ہندوستانی مسالوں کی خوشبو پھیلانے کے لیے پیداوار سے کاروبار تک کی کہانی
ثنا قادری: امریکہ میں ہندوستانی مسالوں کی خوشبو پھیلانے کے لیے پیداوار سے کاروبار تک کی کہانی

 

 
مائیکل گیلنٹ
ثنا جاویری قادری کے لیے پرگتی ہلدی، بندو سیاہ سرسوں اور نندنی دھنیا، یہ سب اور دیگر مخصوص جنوبی ایشیائی مسالے ذائقہ دار کھانوں کے لیے مزیدار پاؤڈر سے کہیں زیادہ اہمیت کے حامل ہیں ۔لہٰذا ،وہ مسالوں کی دنیا کو دلچسپ بین الاقوامی کاروبار کے لیے ایک موقع کے طور پربھی دیکھتی ہیں۔ 
 
قادری ڈائسپورا کمپنی کی  بانی اور سی ای او ہیں جس کا صدر دفتر کیلیفورنیا میں واقع ہے اور جو امریکہ اور اس سے باہر کے صارفین کے ساتھ مزیدار مسالوں  کا اشتراک کرنے کے لیے کسانوں کے ساتھ براہ راست کام کرتی ہے۔
 
نامیاتی مسالے اور بین الاقوامی ستائش
قادری کی کمپنی ایسے مسالے فروخت کرنے میں مہارت رکھتی ہے جو نقصان دہ کیمیاوی اجزا کی آمیزش کے بغیر اگائے جاتے ہیں۔ کمپنی بازار میں بھیجے  جانے سے پہلے مسالوں کے صحت کی بہتری خاطر ان کی جانچ کرتی ہے اور اس پر نازاں بھی ہے۔
  
کمپنی  کے مسالوں کی جائے پیدائش ایک ہی ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ اس کمپنی کے ذریعہ بازار میں فروخت کے لیے بھیجے جانے والے مسالے، خواہ وہ دھنیا ہو یا مرچ یا سرسوں سب ایک ہی کھیت میں اگائے گئے ہوتے ہیں۔ اس طور پر مسالوں کو حاصل کرنے سے قادری اور ان کی ٹیم کو اس بات کو یقینی بنانے میں مدد ملتی ہے کہ ہرمسالے کا معیار اعلیٰ ہو اور کسانوں کو ان کی محنت کا مناسب معاوضہ بھی دیا جائے۔ ہندوستان کے اپنے سالانہ دوروں کے دوران قادری کسانوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے لیے کمپنی کے ساتھ کام کرنے والے کسانوں کے ہر کھیت کا ذاتی طور پرمعائنہ کرتی ہیں۔ وہ ان کسانوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے ساتھ حشرات کُش ادویات کے بغیر مسالے اگانے کے طریقے تلاش کرنے میں ان کی مدد بھی کرتی ہیں۔ 
 
دراصل  2021 کے ووگ میگزین کے ایک مضمون میں منی پور میں کمپنی کے لیے سیوتھائی مرچ اگانے والی زینورین انگ کانگ کہتی ہیں’’ثنا بہت زیادہ منافع  تو دیتی ہی ہیں، وہ ہمارے پیسے قسطوں میں دینے کی بجائے ایک ساتھ دے دیتی ہیں۔ وہ مرچوں کے درمیان یام، سویا اور چاول لگانے جیسے دیسی کاشتکاری کے طریقوں کو بھی اپناتی ہیں۔‘‘
قادری کی کمپنی اپنے  لیے پورے ہندوستان سے مسالے حاصل کرتی ہے۔ کشمیری مرچ اور زعفران جہاں شمال سے آتے ہیں تو ہندوستان کے مشرقی علاقوں سے سیوتھائی مرچ، ناگا پہاڑوں میں اگایا جانے والاگلِ خطمی اوراسی طرح کے دیگر مسالے آتے ہیں۔
بندو سیاہ سرسوں ملک کے وسطی علاقے سے تو برکا الائچی جنوب سے اور نندنی دھنیا مغرب سے منگائے جاتے  ہیں۔ 
کمپنی کی کوششیں بین الاقوامی توجہ اور وسیع پیمانے پر ستائش کا باعث بنی ہیں۔
 
فوڈ اینڈ وائن نے اس کمپنی کے بارے میں لکھاہے’’پرچون کی دکان سے ملنے والی ہلدی کے مقابلے میں اس میں دن اور رات کا فرق ہے۔ آپ کو اس نامیاتی طور پر کاشت کی جانے والی اور ایک ہی جگہ اگائی جانے والی ہلدی کے بارے میں جاننے کی ضرورت ہے۔
ووگ میگزین میں تمر ایڈ لر نے لکھا ’’ کمپنی کی پرگتی ہلدی اتنی خوشبودار ہے کہ یہ آپ کو مخمور کردیتی ہے۔  آرنیا سیاہ مرچ سے پکے ہوئے پھل کی خوشبو آتی ہے جس کا ذائقہ دھوئیں، چاکلیٹ اور چپٹے چینی سنترے  کی طرح ہوتا ہے۔‘
دی انفیچوئشن  فوڈ ویب سائٹ کی تجزیہ کار ڈائنا  سوئی نے لکھا ’’اِن مسالوں اور اُن مسالوں کے درمیا ن جنہیں میں سپر مارکیٹ کی الماریوں سے خریدا کرتی تھی بہت زیادہ فرق ہے۔ ان کے ذائقے یقینی طور پر بہتر ہوتے ہیں اور ان پودوں کی طرح ہوتے ہیں جن سے انہیں حاصل کیا جاتا ہے۔‘‘
 
 قادری نے اسپَین کو بتایا کہ تنقیدی شناخت ہمیشہ سنسنی خیز ہوتی ہے اور یہ کہ کمپنی اس طرح کی مثبت تشہیر کے بغیر اتنی بلندی پر نہیں پہنچ سکتی۔ لیکن کمپنی کی کامیابیوں کو وسیع پیمانے پر تسلیم کرنا بھی زبردست اہمیت کا حامل ہے۔ وہ کہتی ہیں ’’اب ہم خود کو ثقافت کے مترجم، جنوبی ایشیا کے بہترین تجدیدی کسانوں کے اساتذہ اور ترجمان کے طور پر دیکھتے ہیں اور یہ سب ہمارے مشن کی تکمیل میں کوشاں ہیں۔‘‘وہ مزید کہتی ہیں’’زیادہ نظر آنے کا مطلب ہے زیادہ مسالے اور زیادہ مسالوں کا مطلب ہے ہمارے کسانوں کے لیے بہتر، زیادہ موثر خدمت۔ اور یہ ہمارا نارتھ اسٹار(ایک ایسا درخشاں تارہ جو آسمان کے شمالی خطے میں قطب ِ شمالی کے ٹھیک اوپر نظر آتا ہے) ہے۔‘‘
 
کمپنی کا قیام

ثنا قادری کی پیدائش اور پرورش ممبئی میں ہوئی ۔ ۲۰۱۲ء میں وہ کیلیفورنیا کے پومونا کالج میں داخلہ لینے کے لیے امریکہ چلی گئیں جہاں انہوں نے کھانوں اور بصری آرٹ کی تعلیم حاصل کی۔ چار سال بعد سان فرانسسکو میں واقع ایک پنساری کی دکان کے لیے فوڈ مارکیٹ میں کام کرتے ہوئے قادری کو امریکی فوڈ کلچر میں ہلدی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا علم ہوا، خاص طور پر مقبول کافی مشروبات میں ایک جزو کے طور پر۔ انہوں نے یہ بھی محسوس کیا کہ امریکہ میں انہوں نے جس ہلدی کا ذائقہ چکھا تھا اس میں ممبئی میں چکھی جانی والی ہلدی سے کہیں کم خوشبواورذائقہ تھا۔ مزید معلومات حاصل کرنے کے تجسس میں قادری نے بھارت واپس آنے کا فیصلہ کیا۔
 
انہوں نے کئی مہینوں تک بھارت میں کھیتوں کا دورہ کیا اور کیرل میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسپائس ریسرچ کے اہلکارو ں سے بات کی، جسے وہ زندگی بدل دینے والی ملاقات قرار دیتی ہیں۔ انہوں نے ۲۰۱۷ء میں صرف ایک پروڈکٹ پرگتی ہلدی کے ساتھ ڈائسپورا کمپنی کی بنیاد رکھی جسے انہوں نے پربھو کاسارنینی نامی ایک نوجوان کسان شراکت دار سے منگوایا تھا۔
 
 قادری لکھتی ہیں’’سب سے بڑا اور دلیرانہ خواب مسالے کی ایک بالکل نئی، بہتر اور حقیقی معنوں میں مساوی تجارت کو فروغ دینا تھا۔‘‘ان کی کمپنی کی ترقی اور بین الاقوامی کامیابی اپنی کہانی خود بیان کرتی ہے۔ آج بھارت، امریکہ، برطانیہ اور سعودی عرب میں ایک درجن سے زیادہ ملازمین کمپنی کے لیے کام کرتے ہیں۔ وہ ۱۵۰ سے زیادہ کھیتوں سے درجنوں قسم کے مسالے فروخت کرتے ہیں۔
 
کمپنی کا پائیدار اور نامیاتی زراعت پر زور اور کسانوں کے ساتھ براہ راست رابطے، کیمیائی آلودگی اور ماحولیاتی اعتبار سے مضر گیسوں کے اخراج کوکم کرتے ہیں جس کا تعلق عام طورسےمسالے کی صنعت سے ہے۔ امریکہ جومسالوں کی دنیا کا سب سے بڑا صارف اوردر آمد کنندہ ہے، میں کمپنی کی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی مقبولیت، کھانا تیار کرنےکے بھارتی طریقوں اور بھارت کی ثقافت کے بارے میں معلومات اور سمجھ کو پھیلانے میں مدد کرتی ہے۔
 
قادری کے خیال میں ان کی کمپنی کی وسیع پیمانے پر کامیابی کا آغاز ماضی شکستہ کی معلومات اور بہتر مستقبل کے خوابوں سے ہوا۔ وہ کمپنی کی ویب سائٹ پر لکھتی ہیں ’’اس طبقے میں ہونے کا مطلب ان علاقوں کی ثقافت اور ورثے سے گہرا تعلق قائم کرنا ہے جہاں سے ہم مسالے حاصل کرتے ہیں اور جیسے جیسے ہم آگے بڑھتے ہیں ، سیکھتے جاتے ہیں۔‘‘ وہ مزید لکھتی ہیں ’میڈ ان ساؤتھ ایشیا‘ کا وسیع تر اور گہرا مطلب یہ ہے کہ ہم کس طرح کھانوں کے ذریعے آزادی، جدوجہد اور تارکین وطن کی اپنی کہانیاں بیان کرتے ہیں۔
 
بشکریہ: اسپین

بھی پسند کرتا ہے