میوات کا رمضان سکون روحانیت اور اپنائیت کی ایک زندہ تصویر ۔ سلمان علی

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 28-02-2026
 میوات کا رمضان سکون روحانیت اور اپنائیت کی ایک زندہ تصویر  ۔ سلمان علی
میوات کا رمضان سکون روحانیت اور اپنائیت کی ایک زندہ تصویر ۔ سلمان علی

 



آواز دی وائس : نئی دہلی 
میوات کے رمضان جیسا سکون اور اپنائیت کہیں اور محسوس نہیں ہوئی۔شہر کی مصروف زندگی میں وہ سادگی اور خلوص کم دکھائی دیتا ہے جو میوات میں عام ہے۔ اسی لیے کوشش یہ رہتی ہے کہ  رمضان کا کچھ حصہ ضرور میوات میں گزاریں تاکہ وہی روحانی فضا دوبارہ محسوس کر سکیں۔
فلمی دنیا سے روحانیت کا رخ کرنے والی ثنا خان کے شو’رونق رمضان’ میں نوجوان سنگر سلمان علی نے اپنے آبائی وطن میوات  کی یادوں کا ذکر کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔
اس پروگرام میں جسے ثنا خان کے ساتھ ان کے شوہر  مفتی سید انس میًان کے کردار میں ہوتے ہیں جبکہ یہ اس خصوصی پروگرام کا دوسرا سال ہے ۔جس میں پچھلے دنوں مرکزی وزیر اقلیتی امور کرن رجیجو نے بھی شرکت کی تھی ۔
 سلمان علی نے رونق رمضان کے دوران  میوات کی زندگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ  ان کا اصل تعارف اور پہچان اسی سرزمین سے ہے۔میوات میں رمضان کا مہینہ صرف ایک عبادتی مہینہ نہیں ہوتا بلکہ پوراعلاقہ ایک روحانی فضا میں ڈھل جاتا ہے۔ سحری سے پہلے ہی گاؤں کی گلیوں میں ہلچل شروع ہو جاتی ہے۔ گھروں میں چراغاں ہوتا ہے۔ مساجد آباد ہو جاتی ہیں۔ اور اذانوں کی آوازیں ایک کے بعد ایک گونجتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک اذان کے ساتھ دوسری مسجد کی اذان ملتی ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پورا علاقہ اللہ کے ذکر میں ڈوبا ہوا ہے۔
 میوات میں افطار 
رمضان المبارک کی یادوں کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ۔۔۔میوات میں  افطار کے وقتی ایک الگ منظر اور سماں  ہوتا ہے۔ مساجد میں دسترخوان بچھائے جاتے ہیں۔ ہر گھر سے کچھ نہ کچھ افطار کے لیے آتا ہے۔ کوئی شربت لاتا ہے۔ کوئی پھل۔ کوئی پکوان۔ سب مل کر بیٹھتے ہیں اور اجتماعی طور پر روزہ افطار کرتے ہیں۔ اس میں امیر اور غریب کی کوئی تفریق نہیں ہوتی۔ یہی بھائی چارہ میوات کی اصل پہچان ہے۔
میوات کی سادگی 
بات چیت کے دوران  سلمان علی نے میوات  اور اہل میوات کی سادگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ  ۔۔۔۔  میوات کی خاص بات وہاں کے لوگوں کی سادگی اور دین سے وابستگی ہے۔ رمضان میں قرآن کی تلاوت عام دنوں سے کہیں زیادہ سنائی دیتی ہے۔ نوجوان اور بزرگ سب مساجد میں جمع ہوتے ہیں۔ نمازوں میں باجماعت حاضری کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ تراویح میں قرآن سننے کا ذوق نمایاں ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بچپن میں وہ خود سحری کے وقت لوگوں کو جگانے کا شوق رکھتے تھے اور یہ لمحے ان کے لیے آج بھی ناقابل فراموش ہیں ۔۔
میوات ایک تربیت گاہ 
سلمان علی کا ماننا ہے کہ میوات کی اپنی تہذیب ہے،میوات صرف ایک جغرافیائی علاقہ نہیں بلکہ ایک تربیت گاہ ہے ۔جہاں انہوں نے دین اخلاق اور خاندانی اقدار سیکھی ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی کامیابی کے پیچھے اسی ماحول کی بڑی تربیت اور والدین کی دعائیں شامل ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ میوات کے لوگ تبلیغی اور دینی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ نماز کے بعد دینی بات سننے کے لیے لوگ رکے رہتے ہیں۔ بزرگوں کا احترام کیا جاتا ہے۔ اور نوجوانوں کو دین کی طرف راغب کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ماحول انسان کی تربیت کرتا ہے اور دل میں اللہ کی محبت پیدا کرتا ہے۔
اللہ کے گھر حاضری 
جب ثنا خان  نے سلمان علی سے اللہ سے تعلق کی بات کی تو  وہ بہت جوش میں آگئے اور کہا کہ ۔۔۔ خدا کی قسم میں نے اللہ سے جو مانگا اللہ نے مجھے وہی عطا کیا۔ میرے پاپا نے مجھ سے کہا تھا بیٹا اپنے ہاتھ اور نیت کو ہمیشہ سچا رکھنا۔ اپنی اولاد کو عزت دو گے تو وہ بھی تمہیں عزت دے گی اور تمہیں مقام تک پہنچائے گی۔میرے دل میں ایک خواہش تھی کہ اللہ مجھے اپنے گھر بلا لے۔ مجھے بتایا گیا کہ وہاں مانگی گئی دعا قبول ہوتی ہے۔ جب میں خانہ کعبہ کے سامنے پہنچا ،جیسے ہی میں نے اپنا چہرہ اوپر اٹھایا اور نظر ڈالی تو میں سب کچھ بھول گیا۔ میں واقعی سب کچھ بھول گیا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ یہی میری اصل دنیا ہے۔ مجھے لگا کہ یہی حقیقت ہے اور یہی میری سچی دنیا ہے۔
دولت اور شہرت سب کچھ نہیں 
سلمان علی نے آخر میں کہا کہ اصل کامیابی دنیاوی شہرت یا دولت نہیں بلکہ دل کا سکون اور اللہ سے تعلق ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو نصیحت کی کہ وہ اپنی زندگی میں دین اخلاق اور والدین کی عزت کو اہمیت دیں کیونکہ یہی حقیقی کامیابی کا راستہ ہے۔