آواز دی وائس : نئی دہلی
کامیابی کی ہر کہانی کے پیچھے برسوں کی محنت، قربانیاں، ناکامیاں اور امیدوں کا ایک طویل سفر چھپا ہوتا ہے۔ بہار کے نوجوان شاہ فہد کی کہانی بھی ایسی ہی ایک متاثر کن داستان ہے، جو ثابت کرتی ہے کہ مسلسل جدوجہد، خاندانی حمایت اور مضبوط عزم کے ساتھ ناممکن دکھائی دینے والے خواب بھی حقیقت بن سکتے ہیں۔ چھ برس تک مسلسل یو پی ایس سی اور دیگر مسابقتی امتحانات کی تیاری، بار بار کی ناکامیوں، مالی مشکلات اور ذہنی دباؤ کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ ایک موقع پر وہ یو پی ایس سی کے فائنل انٹرویو تک بھی پہنچے، مگر چند نمبروں سے کامیابی ان سے دور رہ گئی۔ اس ناکامی نے انہیں مایوس ضرور کیا، لیکن ان کے والد، والدہ، بھائی اور قریبی عزیزوں نے ان کا حوصلہ بلند رکھا اور انہیں آگے بڑھنے کی ترغیب دی۔
بالآخر ان کی محنت رنگ لائی اور انہوں نے بی پی ایس سی کے امتحان میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے ایس ڈی ایم کا عہدہ حاصل کر لیا۔ شاہ فہد کا ماننا ہے کہ سرکاری خدمت ایک ذمہ داری اور عبادت ہے، جس کا مقصد معاشرے کے محروم اور کمزور طبقات تک انصاف اور سہولیات پہنچانا ہے۔ ان کی کامیابی نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پورے علاقے کے لیے باعثِ فخر ہے اور نوجوانوں کے لیے یہ پیغام رکھتی ہے کہ تعلیم، مستقل مزاجی اور محنت کے ذریعے ہر منزل حاصل کی جا سکتی ہے۔

پھلواری شریف کے رئیس کالونی کے رہائشی رئیس ملک کے صاحبزادے محمد فہد رئیس کی اس کامیابی پر پورے علاقے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور مبارکباد دینے والوں کا تانتا بندھ گیا ہے
محنت اور لگن کا ثمر
فہد رئیس کی کامیابی کی خبر ملتے ہی رئیس کالونی سمیت اطراف کے علاقوں میں خوشی اور جوش و خروش کا ماحول پیدا ہو گیا۔ مقامی افراد، سماجی کارکنان، ماہرینِ تعلیم اور خیر خواہوں نے انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ محمد فہد رئیس کی کامیابی نوجوانوں کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔ انہوں نے مسلسل محنت، لگن اور ثابت قدمی کے ذریعے یہ مقام حاصل کیا ہے۔ ان کی یہ کامیابی مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ و طالبات کے لیے نئی امید اور حوصلے کا باعث بنے گی
مشکل وقت گزر گیا - شاہ فہد
"انسان شکر ادا کرتا ہے جب اسے وہ چیز حاصل ہو جاتی ہے جس کے لیے وہ طویل عرصے سے محنت کر رہا ہو، اور پھر جب وہ اپنا نتیجہ دیکھتا ہے، اپنا سفر دیکھتا ہے جو ایک منزل اور انجام تک پہنچ گیا ہو۔ جب انسان یہ سب دیکھتا ہے تو خوشی محسوس ہوتی ہے اور دل شکر سے بھر جاتا ہے۔ اس لیے میری پہلی کیفیت شکرگزاری ہی کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ میں گزشتہ چھ برسوں سے تیاری کر رہا تھا۔ میں نے یو پی ایس سی کے پانچ امتحانات دیے۔ ان میں ایک مرتبہ فائنل انٹرویو تک بھی پہنچا، لیکن کچھ وجوہات کی بنا پر کامیابی حاصل نہ کر سکا۔ چند نمبر کم رہ گئے تھے۔ جب بی پی ایس سی میں کامیابی ملی تو بہت اچھا محسوس ہوا۔ یہ چھ سال انتہائی سخت محنت کے تھے، لیکن جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا، چیئرمین صاحب، میرے والد، شہباز انکل اور دیگر لوگوں کی مسلسل حوصلہ افزائی اور حمایت میرے ساتھ رہی۔ اسی لیے مشکل وقت گزر گیا اور اچھے انداز میں گزر گیا۔

والد نے دی ہمت اور حوصلہ
میرے والد کا تعاون سب سے زیادہ رہا۔ انہوں نے کبھی مجھے ہمت ہارنے کا مشورہ نہیں دیا۔ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب انسان تھک جاتا ہے، اس کی توانائی کم ہونے لگتی ہے اور مایوسی محسوس ہوتی ہے، کیونکہ بار بار کوشش کے باوجود کامیابی نہ ملے تو حوصلہ پست ہو جاتا ہے۔ ایسے وقت میں میرے والد میرے ساتھ مضبوطی سے کھڑے رہے۔ مالی مشکلات بھی آئیں، تنگی بھی ہوئی، لیکن اس وقت بھی والد صاحب نے کہا کہ تمہیں ان چیزوں کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں، تم صرف پڑھائی کرو، باقی ذمہ داری میری ہے۔ ان کے یہ الفاظ ہمیشہ میرے ذہن میں گونجتے رہے اور مجھے لگتا تھا کہ مجھے خود کو ثابت کرنا ہے۔ میں کہوں گا کہ میرے والد کا کردار میری کامیابی میں بہت گہرا ہے۔ میرے بھائی کا بھی تعاون رہا اور والدہ کا تو ہمیشہ دعاؤں کی صورت میں ساتھ رہا۔
غیر جانبدار ی اور خدمت
ہمیں جب انتظامیہ میں آئیں تو انصاف، غیر جانبداری اور بغیر کسی جانبداری یا امتیاز کے کام کرنا چاہیے۔ عوامی خدمت کے لیے ہمارا عزم عبادت اور لگن کی طرح ہونا چاہیے۔ جیسے گاندھی جی نے کہا تھا کہ اصل بیوروکریسی کا معیار یہ ہونا چاہیے کہ معاشرے کے آخری اور محروم ترین فرد تک بھی حکومتی سہولیات اور عوامی خدمات پہنچیں۔ کوئی شخص روٹی، کپڑا اور مکان جیسی بنیادی ضروریات سے محروم نہ رہے۔خدمت کا یہی جذبہ آج کے نوجوانوں کے لیے سب سے بڑی تحریک ہے۔ نوجوان یہ دیکھتے ہیں کہ معاشرے کا ایک حصہ اب بھی محروم ہے، لہٰذا ان کے اندر یہ جذبہ ہونا چاہیے کہ وہ آگے بڑھ کر خلوص کے ساتھ ان لوگوں کی خدمت کریں۔ یہی جذبہ ایک نوجوان کو ہمیشہ اپنے دل میں رکھنا چاہیے، چاہے وہ پھلواری شریف کا ہو، پٹنہ کا، بہار کا یا پورے ہندوستان کا۔
ایس ڈی ایم کا عہدہ ایک بڑی ذمہ داری ہے
آج کل بہار سمیت ملک کے مختلف حصوں میں اس عہدے کے حوالے سے بدعنوانی کے الزامات بھی سامنے آتے ہیں۔ اس پر انہوں نے کہا:"اگر چند مچھلیاں خراب ہوں تو پورے تالاب کو خراب نہیں کہا جا سکتا۔ بہت سے بیوروکریٹس ایسے ہیں جو ایمانداری سے خدمات انجام دے رہے ہیں اور ہمارے رول ماڈل ہیں۔ ہمیں صرف منفی پہلو نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ مثبت مثالوں سے بھی سیکھنا چاہیے۔ یہی مثبت مثالیں ہمیں سول سروسز کی طرف آنے کی ترغیب دیتی ہیں۔"
"میں بہت خوش ہوں، بلکہ جتنا خوش ہونا چاہیے تھا اس سے بھی زیادہ خوش ہوں۔ لوگوں کی محبت اور مبارکبادیں میری خوشی اور حوصلے میں مزید اضافہ کر رہی ہیں۔بچپن سے میں نے اس پر کبھی کوئی دباؤ نہیں ڈالا کہ اسے ایس ڈی ایم ہی بننا ہے۔ اس نے جامعہ سے انجینئرنگ کی، پھر بلیو اسٹار کمپنی میں دو سال ملازمت کی۔ ایک دن اس نے فون کر کے کہا کہ وہ سول سروسز میں جانا چاہتا ہے۔ میں نے فوراً کہا کہ اگر یہی تمہارا خواب ہے تو آج ہی ملازمت چھوڑ دو اور پوری توجہ اسی مقصد پر لگاؤ، باقی ذمہ داری میری ہے۔ میں نے کبھی اس پر کسی اور شعبے کا دباؤ نہیں ڈالا۔والدہ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ والدہ کا کردار سب سے بڑا ہے۔ انہوں نے اسے پالا پوسا، اس کی تربیت کی اور ہر روز اس کے لیے دعائیں کرتی رہیں۔ ان کی دعاؤں کا بہت بڑا حصہ ہے۔"