نورالحق:اگرتلہ
تریپورہ کے شمالی ضلع کیلاشہر کے گور نگر میں آتش زدگی کے واقعے کے دوران انسانیت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایک متاثر کن مثال سامنے آئی۔ چند دن قبل گور نگر بلاک کے علاقے میں بجلی کی خرابی کے باعث اچانک آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں دیول باؤلی کے خاندان سمیت تین ہندو خاندان شدید متاثر ہوئے۔ یہ تینوں خاندان باغات میں مزدوری کر کے اپنا گزر بسر کرتے تھے۔
آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے ان کے گھر، فرنیچر، جمع پونجی اور مستقبل کی امیدوں کو خاکستر کر دیا۔ چند لمحوں میں سب کچھ جل کر راکھ ہو گیا اور وہ بے گھر ہو کر کھلے آسمان تلے آ گئے۔ سرد موسم میں 3 مزدور خاندانوں کے کل 14 افراد جن میں بچے اور بزرگ بھی شامل تھے مکمل طور پر بے سہارا ہو گئے اور سارا دن انتظار کے بعد انہیں جلتے ملبے کے سامنے ہی رات گزارنے پر مجبور ہونا پڑا۔
ایسے نازک وقت میں علاقے کے ایک مسلمان نوجوان آفتاب علی نے انسانیت کا ثبوت پیش کرتے ہوئے فوری طور پر ان خاندانوں کی مدد کے لیے قدم بڑھایا۔ انہوں نے اپنے گھر کے دروازے کھول دیے اور اپنے گھر کے تینوں کمرے متاثرہ تینوں خاندانوں کے رہنے کے لیے مختص کر دیے تاکہ انہیں محفوظ پناہ مل سکے۔
آفتاب علی نے صرف رہائش فراہم کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ متاثرہ خاندانوں کی روزمرہ ضروریات کا بھی مکمل خیال رکھا۔ انہوں نے کھانا پکانے کے برتن، گیس سلنڈر، راشن، بستر اور دیگر بنیادی اشیاء مہیا کیں تاکہ خاندانوں کو خوراک اور زندگی کی ضروری چیزوں کی کمی محسوس نہ ہو۔

دوسری جانب شیخ فاؤنڈیشن بھی ان متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے آگے آئی۔ فاؤنڈیشن نے ایک گاڑی کے ذریعے ایک ماہ کا راشن، طلبہ کے لیے تعلیمی سامان اور تمام افراد کے لیے کپڑے فراہم کر کے انہیں براہ راست متاثرہ گھرانوں تک پہنچایا۔
اس موقع پر شیخ فاؤنڈیشن کے مشیر اور سماجی کارکن مقبول علی کے ساتھ فاؤنڈیشن کے اراکین عباس علی الجلیلی، شیخ جاسم الدین، تاج الاسلام اور گور نگر گرام پنچایت کے مقامی نوجوان یحییٰ خان بھی موجود تھے۔ آفتاب علی اور شیخ فاؤنڈیشن کے اس جذبۂ خدمت نے نہ صرف متاثرہ خاندانوں کی فوری ضروریات پوری کیں بلکہ گور نگر کے علاقے میں انسانیت، بھائی چارے اور باہمی ہم آہنگی کی ایک روشن مثال قائم کر دی۔