شاجا پور: مدھیہ پردیش کے شاجاپور میں نیشنل ہائی وے 52 پر دیر رات ایک نہایت دردناک حادثہ پیش آیا۔ اندور سے گوالیار جا رہی انٹر سٹی ٹریولس کی ایک اے سی سلیپر وولوو بس میں اچانک بھیانک آگ بھڑک اٹھی۔ اس حادثے میں چار سالہ ایک معصوم بچہ زندہ جل کر ہلاک ہوگیا، دیگر مسافروں کو کھڑکیوں کے شیشے توڑ کر بمشکل بچایا گیا - یہ واقعہ شاجاپور اور مکسی کے درمیان گولوا کے قریب اس وقت پیش آیا جب بس ایک ہوٹل کے سامنے چائے اور ناشتے کے لیے رکی ہوئی تھی۔ اطلاع ملتے ہی اجین ضلع کے ترانہ تھانے کی پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ ابتدائی جانچ میں آگ لگنے کی وجہ شارٹ سرکٹ بتائی جا رہی ہے تاہم اس حادثے نے ایک بار پھر مسافر بسوں میں حفاظتی انتظامات کی سنگین لاپروائی کو بے نقاب کر دیا ہے۔
مسلم نوجوانوں کہ پہل
جب ہوٹل جین پت کے باہر رکی ہوئی انٹر سٹی وولوو بس میں بھیانک آگ بھڑک اٹھی۔ جب آگ کے شعلے آسمان کو چھونے لگے اور مسافر موت کے منہ میں جانے والے تھے تو تارانہ کے چھ مسلمان نوجوانوں رضوان منصوری۔ توحید۔ آیان۔ راجا۔ سہیل اور ارشان نے اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر حیرت انگیز بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بارہ سے 13 مسافروں کو آگ کے شعلوں سے بچا لیا۔یہ نوجوان کسی دوست کی سالگرہ منانے آئے تھے مگر قدرت نے انہیں حقیقی ہیرو بننے کا موقع دیا۔ جب عام لوگ خوف سے دور بھاگ رہے تھے یہ نوجوان آگ کے شعلوں میں کود پڑے اور انسانیت کی خدمت کی ایک زندہ مثال قائم کی۔
واقعے کی تفصیل: آگ کا بھیانک منظر
بس میں آگ بونٹ یعنی انجن والے حصے سے شروع ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری بس میں پھیل گئی۔ چونکہ بس میں صرف ایک آگے کا دروازہ تھا اور آگ نے اسی راستے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اس لیے کئی مسافر بس کے پچھلے حصے میں پھنس کر موت کے منہ میں جانے والے تھے۔ ہر جانب دھواں۔ چیخیں۔ خوف اور افراتفری کا ماحول تھا۔ ہر طرف تباہی کا سماں تھا۔
پہلی کوششیں اور خطرے کا احساس
ہوٹل کے چوکیدار نے سب سے پہلے آگ دیکھی اور شور مچایا۔ ہوٹل کے مالک اور دیگر موجود لوگ فوری طور پر آگے کے دروازے سے مسافروں کو نکالنے میں لگ گئے مگر صورتحال بہت تیزی سے بگڑ رہی تھی۔
موت سے کھیلتے ہوئے آگ میں کود پڑے
جب چوکیدار نے ان نوجوانوں کو بتایا کہ بس میں آگ لگی ہے تو یہ فوری طور پر موقع پر پہنچے۔ انہوں نے دیکھا کہ آگ کے شعلے بس کو نگل رہے ہیں اور لوگ اندر پھنسے ہوئے ہیں۔رضوان منصوری کی قیادت میں ان نوجوانوں نے بس کے پچھلے حصے پر چڑھ کر پتھر سے کھڑکی توڑی۔ پھر آگ کے شعلوں اور دھوئیں کے درمیان راستہ بناتے ہوئے ایک ایک کر کے مسافروں کو باہر نکالنا شروع کیا۔
ہم نے 12 سے 13 لوگوں کو بچایا
رضوان منصوری نے بعد میں بتایا۔"جب ہم پہنچے تو آگ بہت پھیل چکی تھی۔ بس کا صرف ایک دروازہ تھا اور وہ آگ میں تھا۔ پچھلی طرف لوگ پھنسے تھے۔ میں نے پتھر سے کھڑکی توڑی اور اندر داخل ہوا۔ آگ کے شعلے۔ دھواں۔ گرمی۔ سب کچھ تھا مگر لوگوں کی جانیں بچانا ضروری تھا۔ ہم چھ دوستوں نے مل کر 12 سے 13 لوگوں کو باہر نکالا۔ میرے ہاتھ بھی جل گئے مگر ہم رکے نہیں۔"
ایک بچے کی تلاش: دل دہلا دینے والا لمحہ
واقعے کے اکیس منٹ بعد کسی نے چیخ کر کہا کہ ایک بچہ ابھی بھی اندر ہے۔ یہ سن کر سب کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ رضوان اور ان کے ساتھی دوبارہ اندر جانے کو تیار تھے مگر آگ اتنی بڑھ چکی تھی کہ بس کے اندر داخل ہونا ممکن نہیں تھا بعد ازاں معلوم ہوا کہ چار سالہ بچہ اس اگ کا شکار ہو گیا- یہ لمحہ ان بہادر نوجوانوں کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوا۔
عوام کی تعریف اور شکریہ
موقع پر موجود لوگوں۔ ہوٹل کے مالک۔ مسافروں اور دیگر شہریوں نے رضوان منصوری۔ توحید۔ آیان۔ راجا۔ سہیل اور ارشان کی بے لوث بہادری کی بھرپور تعریف کی۔لوگوں نے کہا کہ یہ نوجوان کسی فرض کی وجہ سے نہیں بلکہ انسانیت اور ایمان کے جذبے کے تحت یہ کام کر رہے تھے۔رضوان منصوری نے کہا کہ ہم یہاں اپنے ایک دوست کی سالگرہ منانے آئے تھے۔ کھانا کھا رہے تھے کہ ہوٹل کا چوکیدار بھاگتا ہوا آیا اور بولا کہ بھائی بس میں آگ لگ گئی ہے۔ جب ہم پہنچے تو آگ پوری بس میں پھیل چکی تھی۔ لوگ چیخ رہے تھے اور بچے رو رہے تھے۔ میں نے فوری طور پر سوچا کہ پچھلی طرف سے راستہ بنانا ہوگا۔ میں نے پتھر اٹھایا اور کھڑکی توڑ دی۔ پھر اندر گھسا اور لوگوں کو باہر نکالنا شروع کیا۔ میرے ساتھ میرے دوست توحید۔ آیان۔ راجا۔ سہیل اور ارشان بھی تھے۔ سب نے مل کر کام کیا۔ ہم نے 12 سے 13 لوگوں کو بچایا۔ میرے ہاتھ جل گئے مگر کوئی بات نہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہم لوگوں کی جانیں بچا سکے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت اور انتظامیہ کو چاہیے کہ ایسے بہادر نوجوانوں کی سرکاری سطح پر حوصلہ افزائی کی جائے۔ انہیں انعامات دیے جائیں اور ان کے جذبہ انسانیت کو قومی سطح پر سراہا جائے تاکہ معاشرے میں نیکی اور بہادری کے جذبے کو فروغ ملے۔رضوان منصوری۔ توحید۔ آیان۔ راجا۔ سہیل اور ارشان نے ثابت کر دیا کہ حقیقی ہیرو وہ ہوتے ہیں جو دوسروں کی جان بچانے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ انہوں نے آگ کے شعلوں میں کود کر مسافروں کو موت کے منہ سے نکالا اور انسانیت کی ایک روشن مثال قائم کی۔