عالیہ فاطمہ رضوی ۔ کترن سے کٹھ پتلیاں بنا کر نیشنل جیوگرافک چیلنج میں کامیابی

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 14-06-2026
عالیہ فاطمہ رضوی ۔ کترن سے  کٹھ پتلیاں بنا کر نیشنل جیوگرافک چیلنج میں کامیابی
عالیہ فاطمہ رضوی ۔ کترن سے کٹھ پتلیاں بنا کر نیشنل جیوگرافک چیلنج میں کامیابی

 



لکھنؤ کے لا مارٹینیئر گرلز کالج کی نویں جماعت کی طالبہ عالیہ فاطمہ رضوی نے ماحولیات کے تحفظ اور پائیدار طرز زندگی کو فروغ دینے کے لیے ایک منفرد منصوبہ پیش کرکے بین الاقوامی سطح پر نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ انہیں نیشنل جیوگرافک اور والٹ ڈزنی کمپنی کے اشتراک سے منعقد ہونے والے باوقار سلنگ شاٹ چیلنج کے فاتحین میں شامل کیا گیا ہے

 سنہ 2022 میں شروع کیے گئے اس عالمی مقابلے کا مقصد 13 سے 18 برس کی عمر کے نوجوانوں کو ماحولیاتی مسائل کے عملی اور تخلیقی حل تلاش کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ اس سال دنیا کے 100 ممالک سے پانچ ہزار سے زائد نوجوانوں نے حصہ لیا اور دو ہزار تین سو سے زیادہ تجاویز موصول ہوئیں۔ ایسے سخت مقابلے میں عالیہ کی کامیابی ایک غیر معمولی عالمی اعزاز سمجھی جا رہی ہے۔ 
عالیہ نے اپنے منصوبے میں تجویز پیش کی کہ شمالی ہند کے مختلف علاقوں میں ایسی ورکشاپس منعقد کی جائیں جہاں ضائع شدہ کپڑوں کے ٹکڑوں اور دیگر فضلہ مواد سے کٹھ پتلیاں تیار کی جائیں۔ اس منصوبے کا مقصد نہ صرف فضلے کو دوبارہ کارآمد بنانا ہے بلکہ بچوں اور مقامی برادریوں میں ماحولیات کے تحفظ اور فضلہ کم کرنے کے بارے میں شعور بھی پیدا کرنا ہے۔
اس شاندار کامیابی کے اعتراف میں عالیہ کو ایک ہزار امریکی ڈالر انعام کے طور پر دیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ وہ اکتوبر میں واشنگٹن ڈی سی کا سفر بھی کریں گی جہاں دنیا بھر سے منتخب ہونے والے دیگر نوجوان مصلحین کے ساتھ ان کی پذیرائی کی جائے گی۔
ایک سوچ کا کمال
عام طور پر پھٹی ہوئی آستین۔ درزی کی دکان پر بچ جانے والا کپڑے کا ٹکڑا۔ایسا کپڑا جو دوبارہ کسی لباس کی سلائی کے قابل نہ رہے۔ یہ سب چیزیں اکثر گھر کے کسی کونے میں پڑی رہتی ہیں یا پھر کچرے میں پھینک دی جاتی ہیں۔ لیکن لکھنؤ کی ایک طالبہ نے انہی بظاہر بے کار ٹکڑوں میں ایک نیا امکان تلاش کیا اور اسے ایک ایسی جدت میں تبدیل کر دیا جسے عالمی سطح پر سراہا گیا۔
لکھنؤ کے معروف لا مارٹینیئر گرلز کالج کی نویں جماعت کی طالبہ عالیہ فاطمہ رضوی نے کپڑوں کے ضائع شدہ ٹکڑوں کو جمع کرنا شروع کیا اور ان سے رنگ برنگی ہاتھوں سے چلائی جانے والی کٹھ پتلیاں تیار کیں۔ بظاہر سادہ نظر آنے والا یہ خیال نہ صرف تخلیقی ثابت ہوا بلکہ بچوں کو ماحولیات اور فضلے کے بہتر استعمال سے متعلق آگاہ کرنے کا مؤثر ذریعہ بھی بن گیا۔
چیلنج میں ماری بازی
عالیہ کے اس منفرد منصوبے نے انہیں سنہ ۲۰۲۶ کے نیشنل جیوگرافک سلنگ شاٹ چیلنج میں پہلا مقام دلوایا۔ کپڑوں کے فضلے کو کم کرنے کی ایک معمولی سی کوشش نے بعد میں اس بات کی مثال قائم کی کہ نوجوان ذہن کس طرح ماحول دوستی۔ تخلیقی صلاحیت اور روایتی فنون کو یکجا کرکے معاشرے کے حقیقی مسائل کا حل تلاش کرسکتے ہیں۔
عالیہ نے اسی مسئلے پر غور کیا اور ان ٹکڑوں کو کچرا سمجھنے کے بجائے انہیں کارآمد شکل دینے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کپڑوں کے بچے ہوئے حصوں سے کٹھ پتلیاں تیار کیں جو بچوں کو دوبارہ استعمال۔ ری سائیکلنگ اور ماحول کے تحفظ کے پیغامات پہنچانے کا ذریعہ بن گئیں۔ یہی خیال انہیں دنیا بھر کے نوجوان موجدوں کے درمیان نمایاں مقام دلانے کا سبب بنا۔
اس منصوبے کی ایک اور خاص بات اس کا مقامی ثقافت سے تعلق ہے۔ لکھنؤ اپنی چکن کاری اور کپڑے سے وابستہ روایات کے لیے مشہور ہے جبکہ شمالی ہند میں کٹھ پتلیوں کے ذریعے کہانیاں سنانے کی روایت صدیوں پر محیط ہے۔ کٹھ پتلی کا فن نسل در نسل لوگوں کی تفریح اور سماجی پیغامات کی ترسیل کا ذریعہ رہا ہے۔
نیے دور میں وراثت کی نگہبانی
اگرچہ جدید ٹیکنالوجی اور نئے ذرائع ابلاغ کی وجہ سے یہ روایتی فن بتدریج پس منظر میں جا رہا ہے لیکن عالیہ نے اسے ایک نئی زندگی عطا کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے قدیم فن کو جدید تعلیمی ضرورتوں کے ساتھ جوڑ کر ماحولیات سے متعلق شعور بیدار کرنے کا مؤثر ذریعہ بنایا ہے۔
ماہرین تعلیم کے مطابق بچے کہانیوں اور کرداروں کے ذریعے زیادہ آسانی سے سیکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے کٹھ پتلیوں پر مبنی تدریس آج بھی اسکولوں اور آگاہی مہمات میں استعمال کی جاتی ہے۔ صحت۔ صفائی۔ ماحولیات اور سماجی شعور جیسے موضوعات کو دلچسپ انداز میں بچوں تک پہنچانے میں یہ طریقہ نہایت مؤثر سمجھا جاتا ہے۔
عالیہ کی تیار کردہ کٹھ پتلیاں بھی یہی کام انجام دیتی ہیں۔ جب بچے یہ دیکھتے ہیں کہ ایک خوبصورت کٹھ پتلی دراصل کپڑوں کے ضائع شدہ ٹکڑوں سے بنائی گئی ہے تو وہ خود بخود یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ بظاہر بے کار اشیا کو بھی نئی زندگی دی جاسکتی ہے۔ ہر ٹانکا اور ہر جوڑ اس بات کا ثبوت بن جاتا ہے کہ تخلیقی صلاحیت اور پائیدار طرز زندگی ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔
ابتدا سے اب تک 
اگرچہ اس منصوبے کا آغاز اسکول کی سطح پر ایک چھوٹی سی سرگرمی کے طور پر ہوا تھا لیکن وقت کے ساتھ اس کی وسعت بڑھتی گئی۔ آج عالیہ فاطمہ رضوی کا یہ منصوبہ اس بات کی روشن مثال ہے کہ ماحولیات کے تحفظ کے لیے ہمیشہ بڑے بجٹ یا جدید ٹیکنالوجی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات محض ایک نیا زاویۂ نظر اور موجود وسائل کا دانشمندانہ استعمال بھی بڑی تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے۔
ان کے خیال کی سب سے نمایاں بات یہ تھی کہ اس میں ماحول دوستی اور ثقافتی اظہار کو یکجا کیا گیا۔ کپڑوں کے بچے ہوئے ٹکڑوں کو کٹھ پتلیوں اور کہانیوں کی شکل دے کر عالیہ نے یہ ثابت کیا کہ تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے معاشرے میں مثبت اور پائیدار تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔
عالیہ فاطمہ رضوی کی یہ کامیابی نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی ماحولیاتی کوششوں کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ ان کا منصوبہ اس بات کی روشن مثال ہے کہ مقامی سطح پر جنم لینے والے خیالات بھی عالمی سطح پر اثرات مرتب کر سکتے ہیں اور پائیدار زندگی کے بارے میں دنیا بھر میں مثبت گفتگو کو جنم دے سکتے ہیں۔
ایک مثال بن گئیں
ان کی کامیابی نے لا مارٹینیئر گرلز کالج کے لیے باعث فخر ہونے کے ساتھ ساتھ دیگر طلبہ کو بھی ماحولیات سے متعلق مسائل کے حل کے لیے تخلیقی انداز میں سوچنے کی ترغیب دی ہے۔ عالیہ فاطمہ رضوی کا سفر اس حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ بڑی تبدیلیاں اکثر ایک سادہ خیال۔ مضبوط عزم اور تخیل سے شروع ہوتی ہیں۔عالیہ کے اس قابل ستائش منصوبے نے دستکاری۔ تعلیم اور ماحول دوستی کو ایک مشترکہ مقصد کے تحت یکجا کر دیا ہے اور نوجوان نسل کو یہ پیغام دیا ہے کہ تخلیقی سوچ کے ذریعے چھوٹے اقدامات بھی بڑے اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔