سری نگر : آواز دی وائس
کشمیر کی کرکٹ کا ذکر ہو اور باندی پورہ ایکسپریس راجہ سلیم کا نام نہ آئے تو یہ داستان ادھوری محسوس ہوتی ہے۔ ایک وقت تھا جب ان کی تیز گیندوں کے سامنے بلے بازوں کے قدم لرز جاتے تھے۔ طویل رن اپ۔ لمبے بال۔ برق رفتاری سے دوڑتے ہوئے کریز تک پہنچنا اور پھر پوری طاقت کے ساتھ گیند پھینکنا۔ راجہ سلیم کی بولنگ کشمیر کی مقامی کرکٹ کا ایک الگ ہی منظر ہوا کرتی تھی۔آواز دی وائس کے ساتھ ایک خصوصی گفتگو میں راجہ سلیم نے اپنی کرکٹ زندگی کے مختلف پہلوؤں۔ جدوجہد۔ کامیابیوں۔ انجریوں اور مستقبل کے منصوبوں پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ کرکٹ سے ان کا رشتہ 1995 میں شروع ہوا تھا اور اب تقریباً 30 سے 31 برس گزرنے کے باوجود یہ محبت کم نہیں ہوئی۔راجہ سلیم کہتے ہیں کہ جب انہوں نے مقامی کرکٹ کا آغاز کیا تو وہ نوجوان تھے۔ وقت گزرتا گیا اور آج وہ خود کو عمر کے اس مرحلے میں محسوس کرتے ہیں جہاں بہت سے کھلاڑی کھیل سے دور ہو جاتے ہیں۔ لیکن مسلسل فٹنس اور کرکٹ سے گہری وابستگی نے انہیں آج بھی میدان سے جوڑے رکھا ہے۔ان کے مطابق کرکٹ کا عشق ایسا ہے جو آسانی سے ختم نہیں ہوتا۔ خاص طور پر جب کوئی کھلاڑی پیشہ ورانہ سطح پر اس کھیل سے وابستہ رہا ہو تو یہ محبت زندگی بھر اس کے ساتھ رہتی ہے۔ کبھی میدان میں کھیلنے کی صورت میں اور کبھی دوسرے کھلاڑیوں کو دیکھنے اور ان کی رہنمائی کرنے کی صورت میں۔
145 سے 146 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار
اپنے ماضی کو یاد کرتے ہوئے راجہ سلیم نے بتایا کہ ایک وقت میں وہ انتہائی تیز گیند بازی کرتے تھے۔ ان کے مطابق ان کی رفتار تقریباً 145 سے 146 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچتی تھی اور اس دور میں وہ شمالی زون کے تیز ترین گیند بازوں میں شمار ہوتے تھے۔انہوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ اس زمانے میں وہ پورے ہندوستان کے تیز ترین گیند بازوں میں بھی شمار ہوتے ہوں۔ تاہم اس وقت آج جیسا وسیع پلیٹ فارم اور اعداد و شمار کا نظام موجود نہیں تھا جس کی وجہ سے مختلف علاقوں کے کھلاڑیوں کی رفتار اور صلاحیت کا باقاعدہ موازنہ آسان نہیں تھا۔راجہ سلیم نے مسکراتے ہوئے کہا کہ وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ کبھی گیند ان کے ہاتھ سے بجلی کی طرح نکلتی تھی اور آج صورتحال یہ ہے کہ بعض اوقات وہ مذاق میں کہتے ہیں کہ ان کی گیند شاید وکٹ تک بھی نہ پہنچے۔ان کے نزدیک یہی زندگی کا سبق بھی ہے کہ انسان کو اپنے مقصد کے لیے پوری کوشش کرنی چاہیے اور باقی معاملہ اللہ پر چھوڑ دینا چاہیے۔ کامیابی مل جائے تو شکر ادا کرنا چاہیے اور اگر کامیابی نہ ملے تو زندگی کا سفر رکنا نہیں چاہیے۔


بڑے کھلاڑیوں کے ساتھ کرکٹ
راجہ سلیم کا کرکٹ سفر صرف مقامی میدانوں تک محدود نہیں رہا۔ انہوں نے مختلف قومی سطح کے مقابلوں میں حصہ لیا اور اس دوران ہندوستان کے کئی معروف اور بین الاقوامی کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے کا موقع حاصل کیا۔انہوں نے بتایا کہ انڈر 19 اور انڈر 22 سطح پر کھیلتے ہوئے ان کا سامنا اور ساتھ ان کے کئی ایسے کھلاڑیوں سے ہوا جو بعد میں عالمی کرکٹ کے بڑے نام بنے۔ ان میں یوراج سنگھ بھی شامل تھے جو اس وقت نوجوان کھلاڑی تھے۔بعد میں رانجی ٹرافی کے سفر نے انہیں مزید بڑے کھلاڑیوں کے قریب پہنچایا۔ راجہ سلیم کے مطابق انہوں نے وراٹ سہواگ۔ محمد کیف۔ یوراج سنگھ اور دیگر کئی معروف کرکٹرز کے ساتھ کرکٹ کھیلی۔ ان کا کہنا ہے کہ اتنے طویل عرصے کے دوران کئی بڑے ناموں کے ساتھ کھیلنے کا موقع ملا کہ آج سب کے نام ایک ساتھ یاد کرنا بھی آسان نہیں۔
وسیم اکرم کے ساتھ یادگار لمحے
راجہ سلیم کی زندگی کا ایک خاص باب پاکستان کے عظیم تیز گیند باز وسیم اکرم کے ساتھ گزارا گیا وقت ہے۔ وسیم اکرم کی رہنمائی اور ان سے سیکھنے کے تجربے کو راجہ سلیم اپنی کرکٹ زندگی کی بڑی خوش نصیبیوں میں شمار کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ تقریباً 2005 یا 2006 میں ممبئی کے سی سی آئی کلب میں ایک کیمپ کے دوران انہیں وسیم اکرم کے زیر نگرانی وقت گزارنے اور ان سے گیند بازی کی باریکیاں سیکھنے کا موقع ملا۔راجہ سلیم کے لیے یہ تجربہ اس لیے بھی خاص تھا کہ ایک چھوٹے سے علاقے سے نکل کر دنیا کے عظیم ترین گیند بازوں میں سے ایک سے رہنمائی حاصل کرنا ان کے لیے کسی خواب سے کم نہیں تھا۔وسیم اکرم کے بارے میں بات کرتے ہوئے راجہ سلیم نے کہا کہ وہ ہمیشہ انہیں اپنا پسندیدہ گیند باز مانتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق وسیم اکرم کے ہاتھوں میں ایک ایسا جادو تھا کہ وہ گیند سے جیسے باتیں کرتے تھے۔ گیند کو جہاں لے جانا چاہتے تھے وہ اسی سمت جاتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں بہت سے عظیم گیند باز آئے ہیں لیکن وسیم اکرم جیسا گیند باز انہوں نے آج تک نہیں دیکھا۔ ان کے نزدیک وسیم اکرم کی سوئنگ۔ کنٹرول اور گیند پر گرفت ایک غیر معمولی صلاحیت تھی۔راجہ سلیم نے یہ بھی بتایا کہ اپنے کیریئر کے دوران مختلف کوچز اور کھلاڑیوں کی رہنمائی میں انہوں نے اپنے بولنگ ایکشن میں تبدیلیاں کیں اور آہستہ آہستہ اپنی صلاحیت کو بہتر بنایا۔


سرکاری ملازمت چھوڑ کر کرکٹ کا انتخاب
راجہ سلیم ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جس کا تعلق صحت کے شعبے سے رہا۔ ان کے والد ڈاکٹر رشید اپنے علاقے میں ڈاکٹر رشید کے نام سے معروف تھے اور خاندان کی عمومی وابستگی صحت کے شعبے سے تھی۔ لیکن راجہ سلیم نے اپنے لیے ایک مختلف راستہ منتخب کیا۔انہوں نے بتایا کہ دہلی سے اپنا ڈپلومہ کورس مکمل کرنے کے بعد وہ واپس آئے اور انہیں سرکاری ملازمت بھی مل گئی۔ کچھ عرصہ انہوں نے ملازمت کی لیکن ان کے دل میں کرکٹ کا شوق مسلسل موجود رہا۔آخرکار انہوں نے اپنے والد سے بات کی اور کہا کہ وہ کرکٹ میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ ان کے والد نے ان کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالی اور انہیں اپنی خواہش کے مطابق آگے بڑھنے کی اجازت دے دی۔راجہ سلیم نے سرکاری ملازمت چھوڑ دی اور پیشہ ورانہ طور پر کرکٹ کو اپنا راستہ بنا لیا۔ان کا کہنا ہے کہ کرکٹ میں کامیابی کے لیے صرف صلاحیت کافی نہیں ہوتی۔ صحیح وقت پر قسمت اور صحیح موقع دونوں کا ساتھ ہونا ضروری ہے۔ ان کے الفاظ میں انہیں مواقع تو ملے لیکن قسمت نے ہر موقع پر مکمل ساتھ نہیں دیا۔
انجریوں نے راستہ روکا
راجہ سلیم کی کرکٹ زندگی میں انجریاں ایک بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آئیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں قومی سطح پر آگے بڑھنے کے مواقع ملے لیکن انجریوں کی وجہ سے انہیں کئی مواقع سے محروم ہونا پڑا۔وہ کھیلنے کے لیے متحدہ عرب امارات بھی گئے اور وہاں انتخاب کے بعد دوبارہ انجری کا شکار ہو گئے جس کی وجہ سے انہیں اپنا سفر روکنا پڑا۔ ایک دوسرے موقع پر ویزے کے مسئلے نے ان کی راہ روک دی۔ان کا کہنا ہے کہ ان تمام مشکلات کے باوجود وہ اپنی زندگی سے مطمئن ہیں۔ ان کے مطابق انسان کو اتنا ہی ملتا ہے جتنا اس کے مقدر میں ہوتا ہے اور اللہ نے انہیں کرکٹ کے ذریعے جو عزت۔ نام اور محبت دی ہے وہ اس پر پوری طرح شکر گزار ہیں۔


باندی پورہ سے رانجی ٹرافی تک
راجہ سلیم 2003 میں پہلی مرتبہ رانجی ٹرافی کے لیے منتخب ہوئے۔ اس سے قبل وہ دو برس انڈر 22 اور اس سے پہلے انڈر 19 سطح پر کرکٹ کھیل چکے تھے۔وہ کہتے ہیں کہ کسی بھی کرکٹر کے لیے رانجی ٹرافی میں انتخاب ایک ناقابل بیان خوشی کا لمحہ ہوتا ہے۔ یہ صرف کھلاڑی کے لیے نہیں بلکہ اس کے خاندان۔ دوستوں اور رشتہ داروں کے لیے بھی فخر کا موقع ہوتا ہے۔راجہ سلیم کے مطابق وہ باندی پورہ ضلع کے پہلے کھلاڑی تھے جنہوں نے رانجی ٹرافی کھیلی۔ اس زمانے میں ضلع میں قومی سطح کی کرکٹ کے بارے میں آج جیسا ماحول نہیں تھا۔ کلب کرکٹ اور قومی سطح کے درمیان راستہ بھی زیادہ واضح نہیں تھا۔اس وقت کشمیر کے حالات بھی مختلف تھے۔ سفر کی سہولتیں محدود تھیں اور اکثر بسوں کے ذریعے طویل سفر کرنا پڑتا تھا۔ بعض اوقات دیر ہو جانے پر سری نگر میں رکنا پڑتا تھا۔انہوں نے بتایا کہ اس دور میں ٹی 20 کرکٹ کا تصور بھی موجود نہیں تھا۔ کھلاڑیوں کو دو روزہ۔ تین روزہ اور ایک روزہ مقابلوں میں کھیلنا پڑتا تھا۔ ایک سال میں تقریباً 30 سے 40 میچوں میں کارکردگی دکھانے کے بعد ہی قومی سطح پر آگے بڑھنے کا موقع ملتا تھا۔راجہ سلیم کا کہنا ہے کہ آج بھی مقابلہ سخت ہے لیکن نوجوانوں کے لیے راستے نسبتاً زیادہ ہیں۔ تربیت کی بہتر سہولتیں ہیں۔ میدان ہیں۔ کوچنگ ہے اور اپنی صلاحیت دکھانے کے مواقع بھی زیادہ ہیں۔
کشمیر کی کرکٹ میں بڑی تبدیلی
کشمیر اور جموں و کشمیر کی کرکٹ میں آنے والی تبدیلی کو راجہ سلیم ایک خوش آئند پیش رفت قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ان کے دور کے مقابلے میں آج نوجوان کھلاڑیوں کے پاس زیادہ وسائل۔ بہتر تربیت اور آگے بڑھنے کے کئی مواقع موجود ہیں۔انہوں نے نوجوان کھلاڑیوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ آج جموں و کشمیر سے کئی کھلاڑی قومی اور اعلیٰ سطح کی کرکٹ تک پہنچ رہے ہیں۔ عاقب نبی۔ راسخ سلام۔ عبدالسمَد اور عمران ملک جیسے نام اس بات کی مثال ہیں کہ اس خطے میں صلاحیت کی کوئی کمی نہیں ہے۔ان کے مطابق جموں و کشمیر کی کرکٹ اب اس مقام پر پہنچ رہی ہے جہاں نوجوانوں کے لیے کرکٹ ایک سنجیدہ پیشہ ورانہ راستہ بن سکتی ہے۔ وہ اس بات کو بھی اہم قرار دیتے ہیں کہ ٹیم نے حالیہ برسوں میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور کرکٹ کا معیار ماضی کے مقابلے میں نمایاں طور پر بلند ہوا ہے۔راجہ سلیم کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو ان کامیابیوں سے سیکھنا چاہیے اور یہ سمجھنا چاہیے کہ محنت اور درست تربیت کے ذریعے کرکٹ میں بڑا مقام حاصل کیا جا سکتا ہے۔


مقامی کرکٹ کی شہرت اور ایک تشویش
تاہم راجہ سلیم مقامی کرکٹ کے بڑھتے ہوئے رجحان کے حوالے سے ایک اہم تشویش بھی ظاہر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق کشمیر میں مقامی سطح کی کرکٹ بہت مقبول ہو چکی ہے اور بعض مقامی کھلاڑیوں کو بھی بڑی شہرت حاصل ہے۔لیکن ان کا ماننا ہے کہ بعض نوجوان اس شہرت سے متاثر ہو کر صرف مقامی کرکٹ تک محدود ہو جاتے ہیں اور قومی یا بین الاقوامی سطح تک پہنچنے کے لیے ضروری سخت تربیت پر پوری توجہ نہیں دیتے۔وہ کہتے ہیں کہ اگر کسی کھلاڑی کا مقصد قومی یا بین الاقوامی سطح پر کھیلنا ہے تو اسے عام یا اوسط درجے کی تربیت سے آگے بڑھنا ہوگا۔ اس کے لیے باقاعدہ اور سخت تربیت۔ جسمانی فٹنس۔ تکنیکی مہارت اور مسلسل محنت ضروری ہے۔ان کے مطابق مقامی کرکٹ کھیلنا اچھی بات ہے لیکن اسے منزل نہیں بلکہ آگے بڑھنے کا ایک مرحلہ سمجھنا چاہیے۔
اب نئی نسل کو تیار کرنا ہے
راجہ سلیم کا کہنا ہے کہ اب ان کی سب سے بڑی خواہش نئی نسل کے کھلاڑیوں کی رہنمائی کرنا ہے۔ ان کے مطابق باندی پورہ میں کئی ایسے نوجوان موجود ہیں جن میں اعلیٰ سطح تک پہنچنے کی صلاحیت ہے۔وہ کہتے ہیں کہ تقریباً 8 سے 10 نوجوان ایسے ہیں جنہیں مناسب تربیت اور رہنمائی ملے تو وہ اچھی سطح تک جا سکتے ہیں۔ ان کی کوشش ہوگی کہ وہ اپنے وقت میں سے کچھ حصہ ان نوجوانوں کے لیے نکالیں اور اپنے تجربے کی بنیاد پر انہیں تربیت دیں۔راجہ سلیم کے مطابق اب ان کی عمر وہ نہیں رہی کہ وہ خود کو دوبارہ ایک بڑا ستارہ ثابت کرنے کے لیے قومی سطح پر دوڑیں۔ لیکن وہ مقامی سطح پر اپنی فٹنس برقرار رکھنے کے لیے کرکٹ کھیلتے رہیں گے اور جب تک جسم ساتھ دے گا میدان سے رشتہ برقرار رکھیں گے۔وہ کہتے ہیں کہ اصل ریٹائرمنٹ جسم سے پہلے ذہن میں آتی ہے۔ اگر انسان کا ذہن کسی کام سے دستبردار نہ ہو تو اس کا تعلق آسانی سے ختم نہیں ہوتا۔
کرکٹ نے کیا دیا
اپنی پوری زندگی کرکٹ کو دینے والے راجہ سلیم سے جب پوچھا گیا کہ آخر کرکٹ نے انہیں کیا دیا تو ان کا جواب بہت سادہ تھا۔کرکٹ نے انہیں عزت دی۔ ایک نام دیا۔ لوگوں کا پیار دیا اور ایک ایسی پہچان دی جسے وہ اپنی سب سے بڑی کامیابی سمجھتے ہیں۔ان کے مطابق زندگی میں پیسہ آتا جاتا رہتا ہے لیکن کسی کھیل کے ذریعے لوگوںکے دلوں میں عزت پیدا کرنا ایک بہت بڑی دولت ہے۔ وہ جہاں بھی جاتے ہیں لوگ انہیں محبت دیتے ہیں۔ نوجوان انہیں بڑے بھائی کی طرح سمجھتے ہیں اور ان کے لیے یہ کسی بھی انعام سے بڑھ کر ہے۔راجہ سلیم کہتے ہیں کہ وہ انعامات سے زیادہ اس صلے پر یقین رکھتے ہیں جو انہیں لوگوں کی محبت اور عزت کی صورت میں ملا ہے۔کشمیر کے میدانوں سے قومی سطح کی کرکٹ تک پہنچنے والے باندی پورہ ایکسپریس راجہ سلیم کی کہانی رفتار اور شہرت کی کہانی ضرور ہے لیکن اس سے بڑھ کر یہ جدوجہد۔ ناکامیوں سے نہ گھبرانے۔ قسمت کے فیصلوں کو قبول کرنے اور اپنے شوق سے آخری دم تک جڑے رہنے کی داستان ہے۔145 سے 146 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند بازی کرنے والا یہ تیز گیند باز آج بھی کرکٹ کے میدان سے دور نہیں ہوا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کبھی وہ خود بلے بازوں کو خوفزدہ کرتے تھے اور اب وہ نئی نسل کے نوجوانوں کو اپنے تجربے سے آگے بڑھنے کا راستہ دکھانا چاہتے ہیں۔راجہ سلیم کے لیے کرکٹ صرف ایک کھیل نہیں بلکہ زندگی کا ایک ایسا حصہ ہے جس سے ان کی شناخت بھی وابستہ ہے اور جس کی محبت شاید ان کے ساتھ زندگی بھر قائم رہے گی۔