بگ باس 20 : کشمیر کا بجا ڈنکا، سلمان نے کہا --- اسٹارز بہت ہیں مگر قاضی ہے واحد راک اسٹار

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 13-09-2026
بگ باس 20 : کشمیر کا بجا ڈنکا، سلمان نے کہا --- اسٹارز بہت ہیں مگر قاضی ہے واحد راک  اسٹار
بگ باس 20 : کشمیر کا بجا ڈنکا، سلمان نے کہا --- اسٹارز بہت ہیں مگر قاضی ہے واحد راک اسٹار

 



آواز دی وائس/ نئی دہلی

 گھر میں کتنے ہی اسٹارز ہیں مگر راک اسٹار صرف ایک ہے اور وہ ہے قاضی توقیر۔

 میزبان سپر اسٹار سلمان خان کے یہ الفاظ بگ باس ریلٹی شو کے گھر میں گونجتے ہی کشمیر کے قاضی توقیر کی دھوم مچ گئی۔ پہلے ہفتے کے ویک اینڈ کا وار میں سلمان خان نے قاضی توقیر کے منفرد انداز اور ان کے مخصوص ڈائیلاگ کی کھل کر تعریف کی اور گھر کے دیگر ارکان کو بھی اسی انداز میں ڈانس کرتے ہوئے قاضی توقیر کا مشہور ڈائیلاگ ادا کرنے کا چیلنج دے دیا۔ دلچسپ بات یہ رہی کہ سلمان خان نے خود بھی اعتراف کیا کہ یہ اسٹیپ وہ نہیں کر سکتے۔

 سلمان خان نے بحیثیت میزبان بگ باس کے گھر میں موجود 20 ارکان سے ملاقات کے دوران قاضی توقیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پورے ہفتے تم ’’آؤ آؤ‘‘ کرتے رہے ہو اور اب آج تم مجھے اپنا یہی ڈانس اور اسٹیپ کرکے دکھاؤ گے۔ سلمان خان کی فرمائش پر قاضی توقیر نے اپنے منفرد انداز میں ’’اٹ اسٹار بے بی او‘‘ کو دہرایا اور اپنے مخصوص ڈانس اسٹیپ سے سب کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی۔

قاضی توقیر کا انداز دیکھنے کے بعد سلمان خان نے بگ باس کے گھر میں موجود دیگر ارکان سے کہا کہ سب مل کر یہی اسٹیپ کریں۔ اس کے بعد گھر کے تمام ارکان نے قاضی توقیر کے انداز کی نقل کرتے ہوئے ڈانس کیا اور ماحول قہقہوں اور تالیوں سے گونج اٹھا۔ آخر میں سلمان خان نے بھی دلچسپ انداز میں کہا کہ ’’یہ میں نہیں کر سکتا‘‘ جس کے بعد وہاں موجود تمام ارکان نے خوب تالیاں بجائیں

قاضی توقیر کے انداز کی سلمان خان کی جانب سے اس غیر معمولی پذیرائی نے بگ باس کے گھر میں موجود دیگر ارکان کو بھی حیران کر دیا۔ قاضی توقیر جو اپنی بے باک اداکاری منفرد انداز گفتگو اور مخصوص رقص کے باعث پہلے ہی ناظرین کی توجہ حاصل کر رہے ہیں اب سلمان خان کی تعریف کے بعد مزید سرخیوں میں آگئے ہیں۔ کشمیر سے بگ باس کے گھر تک پہنچنے والے قاضی توقیر کے انداز نے پہلے ہی ہفتے میں ایسا رنگ جمایا کہ خود سلمان خان بھی ان کے مداحوں میں شامل نظر آئے۔

قاضی توقیر کی کہانی محض ایک گلوکار کی کامیابی اور گمنامی کی داستان نہیں بلکہ ایک ایسے فنکار کی واپسی کی کہانی ہے جس نے تقریباً دو دہائیاں قبل بغیر کسی باقاعدہ موسیقی کی تربیت کے پورے ہندوستان میں اپنی پہچان بنائی تھی۔ 19 اکتوبر 1985 کو سری نگر میں پیدا ہونے والے قاضی توقیر نے 2005 میں فیم گروکل جیت کر شہرت کی بلندیوں کو چھوا تھا۔ ابسال 2026 میں وہ بگ باس 20 کے گھر میں داخل ہو چکے ہیں اور اپنی منفرد شخصیت اور ڈرامائی انداز کے باعث ایک بار پھر سوشل میڈیا پر چھائے ہوئے ہیں۔ ان کا مشہور جملہ ”آئی ایم اے راک اسٹار بیبی آؤ“ بھی خاصا مقبول ہو چکا ہے۔

فیم گروکل سے شہرت کی بلندی تک

قاضی توقیر کی کہانی کو سمجھنے کے لیے 2005 میں واپس جانا ہوگا جب سونی انٹرٹینمنٹ ٹیلی ویژن نے فیم گروکل کے نام سے ایک موسیقی پر مبنی ریئلٹی شو شروع کیا تھا۔ یہ پروگرام برطانوی پروگرام فیم اکیڈمی اور ہسپانوی پروگرام اسٹار اکیڈمی سے متاثر تھا۔ اس میں 16 نوجوان گلوکاروں کو ایک موسیقی کی اکیڈمی میں رکھا گیا تھا جہاں وہ گائیکی کی تربیت حاصل کرتے اور ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے تھے۔ یہ پروگرام 27 جون سے 20 اکتوبر 2005 تک نشر ہوا تھا۔ اس کے جج معروف شاعر اور نغمہ نگار جاوید اختر اور معروف گلوکار شنکر مہادیون اور کے کے تھے جبکہ پروگرام کی میزبانی مندرا بیدی اور مانو گوہل نے کی تھی۔

فیم گروکل اپنے دور کا ایک منفرد اور انتہائی مقبول پروگرام تھا۔ اس میں ایک خاموش اور شرمیلا نوجوان بھی شامل تھا جس کا نام اریجیت سنگھ تھا اور جو آگے چل کر ہندوستان کی مقبول ترین آوازوں میں شمار ہوا۔ تاہم اس وقت عوامی ووٹوں نے قاضی توقیر کا ساتھ دیا۔ 20 اکتوبر 2005 کو قاضی توقیر اور روپریکھا بینرجی نے مشترکہ طور پر فیم گروکل کا خطاب جیتا جبکہ ریکس ڈی سوزا دوسرے نمبر پر رہے۔ اریجیت سنگھ چھٹی پوزیشن پر پروگرام سے باہر ہو گئے تھے۔ فاتحین کو انعام کے طور پر ایک کروڑ روپے کا سونی میوزک معاہدہ اور ماروتی آلٹو کار دی گئی تھی۔

قاضی توقیر کی کامیابی اس اعتبار سے بھی غیر معمولی تھی کہ انہوں نے کسی باقاعدہ موسیقی کی تربیت کے بغیر یہ مقام حاصل کیا تھا۔ ان کی سادگی اور مٹھاس کے ساتھ ان کی آواز نے عوام کے دل جیت لیے تھے۔ دستیاب معلومات کے مطابق انہوں نے اس دور میں ریئلٹی شوز میں سب سے زیادہ عوامی ووٹ حاصل کرنے کے ریکارڈ بھی قائم کیے اور ناظرین انہیں بار بار پروگرام سے باہر ہونے سے بچاتے رہے۔ یہاں تک کہ یہ بھی کہا گیا کہ صدر ہند نے انہیں کشمیر کا ہیرو قرار دیا تھا۔ ان کی کامیابی کا اثر یہ ہوا کہ کشمیری نوجوانوں کی بڑی تعداد نے انڈین آئیڈل کے آڈیشنز میں شرکت شروع کر دی۔

کامیابی کے بعد گمنامی

فیم گروکل جیتنے کے بعد قاضی توقیر نے 2006 میں روپریکھا بینرجی کے ساتھ مل کر یہ پل کے نام سے ایک البم جاری کیا۔ یہ البم سونی بی ایم جی کے تحت ریلیز ہوا اور اطلاعات کے مطابق اسے دوہری پلاٹینم سند حاصل ہوئی۔ اس کے یہ پل کروں کیا اور میری محبوبہ جیسے گانے خاصے مقبول ہوئے۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ قاضی توقیر رفتہ رفتہ موسیقی کی دنیا کی چکاچوند سے دور ہوتے گئے۔انہوں نے 2009 میں فلم ٹیک آف کے ذریعے اداکاری کے میدان میں قدم رکھنے کی کوشش کی لیکن فلم کی شوٹنگ کی مشق کے دوران گنیش آچاریہ کے اسٹوڈیو میں گرنے سے ان کی گردن زخمی ہو گئی اور یہ منصوبہ مکمل نہ ہو سکا۔ اسی سال وہ ٹیلی ویژن پروگرام سرکار کی دنیا میں بھی نظر آئے۔ 2015 میں فلم فینٹم کے معروف گانے افغان جلیبی میں بھی ان کی مختصر جھلک دکھائی دی لیکن یہ کوششیں انہیں دوبارہ اس مقام تک نہ پہنچا سکیں جہاں وہ 2005 میں کھڑے تھے۔گزشتہ برسوں میں اکثر یہ سوال پوچھا جاتا رہا کہ قاضی توقیر کہاں ہیں۔ بہت سے پرستاروں کے لیے وہ ماضی کی ایک خوبصورت یاد بن کر رہ گئے تھے۔ خود قاضی نے بعد میں اعتراف کیا کہ اس دور میں ان کی گائیکی اتنی اچھی نہیں تھی اور شاید یہی وجہ تھی کہ وہ خود کو مزید ثابت نہ کر سکے۔ تاہم قسمت نے ان کے لیے ایک اور موقع محفوظ کر رکھا تھا۔

بگ باس 20 میں قومی ٹیلی ویژن پر واپسی

2026 میں بگ باس کے بیسویں سیزن کے آغاز پر قاضی توقیر کی بطور امیدوار شرکت کا اعلان کیا گیا تو پرانے ناظرین میں جوش کی لہر دوڑ گئی۔ قاضی نے پروگرام کے افتتاحی مرحلے میں سلمان خان کے ساتھ اسٹیج شیئر کیا اور اسی کے ساتھ بگ باس میں ان کے نئے سفر کا آغاز ہو گیا۔سالقاضی توقیر کی واپسی محض ایک نئے امیدوار کی شرکت نہیں تھی بلکہ ایک ایسے گلوکار کی قومی ٹیلی ویژن پر واپسی تھی جو کبھی ہندوستان کے سب سے محبوب چہروں میں شمار ہوتا تھا۔ پروگرام کے ابتدائی دنوں ہی میں انہوں نے اپنی منفرد شخصیت اور دلچسپ حرکات سے گھر کے ماحول کو بدل کر رکھ دیا۔

بگ باس میں الگ انداز اور نئی مقبولیت

قاضی توقیر نے بگ باس 20 کے گھر میں داخل ہوتے ہی اپنا الگ رنگ جما لیا۔ ان کا مشہور جملہ ”آئی ایم اے راک اسٹار بیبی آؤ“ پروگرام کی نمایاں پہچان بن گیا۔ اس کے علاوہ ان کے کئی دوسرے جملے بھی مقبول ہوئے جن میں ”جھانسی جھانسی“ اور ”میں تیری چگلی کروں گا“ شامل ہیں۔ ایک موقع پر قاضی نے پورے گھر کو اپنے مخصوص انداز میں ڈھالنے پر مجبور کر دیا جس سے ان کی تفریحی حیثیت مزید مضبوط ہوئی۔ان کے ڈرامائی انداز نے پروگرام میں ایک نیا رنگ پیدا کیا۔ 10 ستمبر 2026 کی ایک قسط میں قاضی نے بیمار ہونے کا ڈرامہ کیا اور دوائیں مانگنے کے لیے شور مچایا۔ انہیں طبی کمرے میں لے جایا گیا جہاں انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ صرف کھیل کھیل رہے تھے اور انہیں حقیقت میں کچھ نہیں ہوا تھا۔ ان کی اس اداکاری پر کچھ ناظرین خوب محظوظ ہوئے جبکہ بعض نے اسے حد سے زیادہ قرار دیا۔پروگرام کے پہلے ہی دن قاضی اور نوجوان ریپر ینگ ڈی ایس اے کے درمیان بھی شدید بحث ہوئی جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئی۔ اس واقعے نے پروگرام کے حوالے سے بحث کو مزید بڑھا دیا اور قاضی ایک بار پھر مرکز نگاہ بن گئے۔

سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل

سوشل میڈیا پر قاضی توقیر کے حوالے سے ردعمل ملا جلا ہے لیکن اس بات پر سب متفق ہیں کہ وہ ہر طرف گفتگو کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ توجہ ان کے پرانے دوست اور فیم گروکل کے ساتھی اریجیت سنگھ کے ردعمل کو ملی۔ اریجیت سنگھ نے سماجی رابطے کی ویب گاہ پر لکھا کہ وہ اپنی زندگی میں پہلی بار بگ باس دیکھیں گے کیونکہ ہمارا راک اسٹار قاضی وہاں ہے۔ ان کا یہ جملہ فوراً مقبول ہو گیا اور پرانے ناظرین کے لیے فیم گروکل کی یادیں تازہ ہو گئیں۔قاضی نے بھی ایک ویڈیو میں اریجیت کے بارے میں کہا کہ ان کے اندر کوئی کرپشن نہیں ہے۔ ان میں کوئی عدم تحفظ نہیں ہے۔ انہیں کسی سے حسد نہیں ہے اور وہ بالکل خالص انسان ہیں۔ دونوں کی پرانی دوستی کو بھی سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے خاصی پذیرائی مل رہی ہے۔

کشمیر کے صارفین اپنے گلوکار کو بھرپور حمایت دے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹیں اور ویڈیوز بڑی تعداد میں سامنے آ رہی ہیں جن میں کہا جا رہا ہے کہ ان کا کشمیری بھائی قاضی توقیر بگ باس کے گھر میں موجود ہے۔ بہت سے ناظرین انہیں پروگرام کا سب سے دلچسپ اور حقیقی امیدوار قرار دے رہے ہیں۔تاہم قاضی کو تنقید کا بھی سامنا ہے۔ کچھ نوجوان ناظرین ان کے انداز کو حد سے زیادہ ڈرامائی قرار دے رہے ہیں۔ طبی کمرے والے واقعے کے بعد بعض صارفین نے کہا کہ قاضی نے حد پار کر دی ہے۔ کچھ نے یہ قیاس بھی کیا کہ سلمان خان ہفتہ وار پروگرام میں انہیں ضرور سرزنش کریں گے۔ ایک صارف نے تو انتہائی متنازع تبصرہ بھی کیا جس کا قاضی نے اپنے مخصوص مزاحیہ انداز میں جواب دیا۔ریڈٹ پر بھی بعض صارفین نے سوال اٹھایا کہ کیا بگ باس کے موجودہ امیدوار واقعی قاضی توقیر کو نہیں پہچانتے۔ ایک صارف نے یاد کیا کہ 2005 میں فیم گروکل دیکھنا ایک ثقافتی انقلاب جیسا تھا اور لوگ قاضی توقیر کے دیوانے تھے۔ کئی لوگوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ اس دور میں عوام نے پیغامی ووٹنگ کے ذریعے رقم خرچ کرکے قاضی کو کامیاب بنایا تھا۔ اس لیے وہ حقیقی معنوں میں عوام کے پسندیدہ فنکار تھے۔

ایک عہد کی واپسی

قاضی توقیر کی بگ باس 20 میں واپسی محض ایک ریئلٹی شو میں کسی معروف چہرے کی شرکت نہیں بلکہ ایک پورے عہد کی یادوں کی واپسی ہے۔ فیم گروکل کے فاتح بننے سے لے کر گمنامی کے ایک طویل دور اور پھر بگ باس کے گھر تک ان کا سفر ثابت کرتا ہے کہ شہرت ختم ہونے کے بعد بھی واپسی کے دروازے بند نہیں ہوتے۔آج ان کے ڈرامائی انداز ان کے دلچسپ جملے اور ان کی پرانی دوستیاں سوشل میڈیا پر گفتگو کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ چاہے کوئی انہیں پسند کرے یا ان کے انداز پر تنقید کرے ایک حقیقت واضح ہے کہ قاضی توقیر نے ایک بار پھر اپنی جگہ بنا لی ہے اور بگ باس 20 میں ان کی موجودگی نے پرانی یادوں کو تازہ کرنے کے ساتھ ساتھ ایک نئی بحث بھی چھیڑ دی ہے۔