قرآن اور سائنس کا حسین امتزاج۔ شاہین گروپ کے 22 حفاظ طلبہ نے نیٹ 2026 میں تاریخ رقم کر دی

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 18-07-2026
قرآن اور سائنس کا حسین امتزاج۔ شاہین گروپ کے 22 حفاظ طلبہ نے نیٹ 2026 میں تاریخ رقم کر دی
قرآن اور سائنس کا حسین امتزاج۔ شاہین گروپ کے 22 حفاظ طلبہ نے نیٹ 2026 میں تاریخ رقم کر دی

 



آواز دی وائس : نئی دہلی 

 بیدر کے شاہین پری یونیورسٹی کالج کے 22 حفاظِ قرآن طلبہ و طالبات نے نیٹ 2026 میں شاندار کامیابی حاصل کی ہے جس نے ثابت کر دیا ہے کہ دینی تعلیم اور جدید تعلیم ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔اس غیر معمولی کامیابی پر ادارے۔ اساتذہ۔ والدین اور پوری ملت میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ یہ کامیابی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ اگر طلبہ کو دینی تربیت کے ساتھ معیاری عصری تعلیم۔ مؤثر رہنمائی۔ جدید سہولیات اور سازگار تعلیمی ماحول فراہم کیا جائے تو وہ ملک کے مشکل ترین مسابقتی امتحانات میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ کامیابی نئی نسل کے لیے ایک حوصلہ افزا پیغام بھی ہے کہ قرآن سے وابستگی اور اعلیٰ تعلیم کا سفر ساتھ ساتھ کامیابی سے طے کیا جا سکتا ہے۔

نمایاں نتائج نے سب کو متاثر کر دیا

جاری کردہ نتائج کے مطابق حافظ محمد اعجاز عالم نے 593 نمبر حاصل کرکے حفاظ طلبہ میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔  

  • حافظ محمد اعجاز عالم ۔ 593 نمبر (حفاظ طلبہ میں پہلی پوزیشن)

  • حافظ عاطف فیاض ۔ 586 نمبر

  • حافظ ذکوان ضیاء ۔ 586 نمبر

  • حافظ فرحان خان ۔ 584 نمبر

  • حافظ سعید احمد ۔ 575 نمبر

  • حافظ یوسف خان ۔ 570 نمبر

  • حافظ حنیف بدر ۔ 559 نمبر

  • حافظ عبداللہ ۔ 551 نمبر

  • حافظ محمد ناصر ۔ 548 نمبر

  • حافظ ارسلان عبدالسلام ۔ 548 نمبر

  • حافظ محمد انس ۔ 546 نمبر

  • حافظ احمد عمار ۔ 541 نمبر

  • حافظ شمس المجتبیٰ ۔ 539 نمبر

  • حافظہ ناجیہ خاتون ۔ 536 نمبر

  • حافظ محمد سعد ۔ 534 نمبر

  • حافظہ ام حبیبہ ۔ 525 نمبر

  • حافظ عبداللہ شیخ ۔ 522 نمبر

  • حافظ محمد اعجاز ۔ 521 نمبر

  • حافظ حنظلہ ۔ 519 نمبر

  • حافظ پی انیس الیاس ۔ 504 نمبر

  • حافظ اجواد اکبر ۔ 503 نمبر

  • حافظ محمد ساجد ۔ 500 نمبر

حفاظ کی کامیابی نے ایک اہم تصور کو مضبوط کیا

نیٹ جیسے انتہائی مسابقتی امتحان میں حفاظ قرآن کی مسلسل کامیابیاں اس تصور کو مزید مستحکم کرتی ہیں کہ قرآن کریم کی تعلیم انسان میں نظم و ضبط۔ یکسوئی۔ مضبوط حافظہ۔ صبر اور مستقل مزاجی جیسی ایسی خصوصیات پیدا کرتی ہے جو اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ زندگی میں کامیابی کے لیے نہایت مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔شاہین گروپ گزشتہ کئی برسوں سے حفظ قرآن اور جدید تعلیم کو یکجا کرنے کے منفرد تعلیمی ماڈل پر کام کر رہا ہے۔ اسی متوازن نظام تعلیم کے نتیجے میں ہر سال بڑی تعداد میں حفاظ طلبہ میڈیکل۔ انجینئرنگ۔ سول سروسز اور دیگر قومی سطح کے مسابقتی امتحانات میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ نیٹ 2026 کے نتائج نے ایک بار پھر اس تعلیمی وژن کی کامیابی پر مہر ثبت کر دی ہے۔

چیئرمین ڈاکٹر عبد القدیر کا اظہار مسرت

شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنز کے چیئرمین ڈاکٹر عبد القدیر نے نیٹ 2026 میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے تمام حفاظ طلبہ و طالبات کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم۔ قرآن کریم کی برکت۔ طلبہ کی شبانہ روز محنت۔ والدین کی دعاؤں اور اساتذہ کی مخلصانہ رہنمائی کا حسین امتزاج ہے۔انہوں نے کہا کہ حفاظ قرآن کی یہ کامیابی اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ دینی تعلیم اور جدید سائنسی علوم ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ جب اخلاص۔ محنت۔ نظم و ضبط اور بہترین تعلیمی رہنمائی یکجا ہو جائیں تو قومی سطح کے مشکل ترین امتحانات میں بھی نمایاں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ڈاکٹر عبد القدیر نے تمام کامیاب طلبہ و طالبات کے لیے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں علم و عمل میں مزید برکت عطا فرمائے۔ انہیں بہترین معالج۔ باکردار شہری اور ملت و انسانیت کا مخلص خادم بنائے۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ شاہین گروپ آئندہ بھی حفظ قرآن اور معیاری عصری تعلیم کے حسین امتزاج کو فروغ دیتا رہے گا تاکہ ایسے باصلاحیت۔ باکردار اور بااعتماد نوجوان تیار ہوں جو ملک و ملت کا نام روشن کریں۔

قومی تعلیمی پالیسی کے مطابق نئی سمت

ڈاکٹر عبد القدیر نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 نے روایتی رٹنے پر مبنی نظام تعلیم سے آگے بڑھتے ہوئے تعلیمی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ مستقبل کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے شاہین گروپ نے اپنی نوعیت کا پہلا شاہین انٹیگریٹڈ سول سروسز رہائشی پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ان کے مطابق یہ پروگرام روایتی تدریس کو مسابقتی تعلیم میں تبدیل کرتے ہوئے طلبہ کو سول سروسز اور اکیسویں صدی کے دیگر باوقار شعبوں کے لیے تیار کرے گا۔ اس کا مقصد تعلیمی معیار کو بلند کرنا اور طلبہ کو قومی سطح کے مسابقتی امتحانات میں کامیابی کے لیے ہمہ جہت تیاری فراہم کرنا ہے۔

 امید افزا پیغام

نیٹ 2026 میں حفاظ قرآن کی یہ کامیابی صرف ان طلبہ اور ان کے اہل خانہ کے لیے باعث فخر نہیں بلکہ پوری ملت کے لیے امید افزا پیغام بھی ہے۔ اس کامیابی نے یہ ثابت کیا ہے کہ قرآن کریم سے وابستگی اور جدید سائنسی تعلیم ایک ساتھ چل سکتی ہیں اور انہی دونوں کے امتزاج سے ایسی باصلاحیت نسل تیار کی جا سکتی ہے جو علم۔ کردار اور خدمت کے میدان میں نئی مثالیں قائم کرے۔

شاہین گروپ کا مشن اور وژن

شاہین گروپ کا مشن طلبہ کی رہنمائی کرنا۔ انہیں معیاری تعلیم فراہم کرنا اور انہیں اس قابل بنانا ہے کہ وہ اپنی فطری صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں بروئے کار لا سکیں۔ ادارہ مختلف شعبوں میں سرکاری ممتاز تعلیمی اداروں میں دستیاب بلا معاوضہ تعلیمی مواقع تک طلبہ کی رسائی کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے تاکہ وہ اعتماد کے ساتھ اپنے روشن مستقبل کی تعمیر کر سکیں۔

جبکہ  گروپ کا وژن ہر بچے میں موجود فطری صلاحیتوں کو تلاش کرنا۔ انہیں نکھارنا اور صحیح سمت میں پروان چڑھانا ہے تاکہ ایسی نئی نسل تیار ہو جو زندگی کے مختلف شعبوں میں کامیاب ہو۔ معاشرے کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس رکھتی ہو اور اسلام کی اعلیٰ تعلیمات اور عظیم اقدار کو اپنی زندگی کا حصہ بنا کر متوازن۔ باوقار اور بامقصد زندگی گزارنے کے حقیقی تصور کو اپنائے۔