واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قدم ایک مجبوری تھا، نہ کہ کوئی سیاسی انتخاب۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور اسرائیل بروقت کارروائی نہ کرتے تو دنیا ایک ممکنہ جوہری تصادم کی طرف بڑھ سکتی تھی جو تیسری عالمی جنگ میں تبدیل ہو جاتا۔
اوول آفس سے خطاب میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران تیزی سے جوہری صلاحیت کے قریب پہنچ رہا تھا اور اگر اس کے پروگرام کو نشانہ نہ بنایا جاتا تو وہ ایک ماہ کے اندر ایٹمی ہتھیار حاصل کر لیتا۔ ان کے بقول ایران ان ہتھیاروں کو اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ کے خلاف استعمال کر سکتا تھا، جس کے نتائج انتہائی تباہ کن ہوتے۔ ٹرمپ نے اپنی حکومت کی کارروائی کو ایک “بڑا اور ضروری اقدام” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے عالمی سطح پر ایک بڑے خطرے کو ٹالا گیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جو لوگ ایران کے ممکنہ جوہری پروگرام کی حمایت کرتے ہیں، ان کے مؤقف پر سنجیدگی سے سوال اٹھایا جانا چاہیے۔ ایک اور بیان میں ٹرمپ نے ایران کی موجودہ عسکری حالت پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ملک کے پاس نہ مؤثر بحریہ ہے، نہ فضائیہ، نہ فضائی دفاع کا نظام، اور نہ ہی واضح قیادت۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کو یہ بھی معلوم نہیں کہ ایران میں اس وقت کس سے بات کی جائے، کیونکہ ان کے بقول اعلیٰ قیادت کا ڈھانچہ غیر واضح ہو چکا ہے۔ سابق صدر نے اوباما دور کے جوہری معاہدے پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے نے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کے قریب پہنچایا۔ ان کے مطابق اگر وہ اس معاہدے سے علیحدہ نہ ہوتے تو ایران چند سال پہلے ہی ایٹمی طاقت بن چکا ہوتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ سال جون میں B-2 Spirit طیاروں کی ایرانی فضائی حدود میں پرواز ایک اہم اقدام تھا، جس نے ایران کے جوہری عزائم کو روکنے میں کردار ادا کیا۔ دوسری جانب ایران نے امریکی صدر کے تمام دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہے۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران کی عسکری حکمت عملی صرف خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات تک محدود ہے اور ہمسایہ ممالک کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں۔