عالمی فروغ اردو ادب ایوارڈ : پاکستان سے ممتاز ادیب مرزا اطہر بیگ کا انتخاب

Story by  ایم فریدی | Posted by  [email protected] | 2 Months ago
 عالمی فروغ اردو ادب ایوارڈ : پاکستان سے ممتاز ادیب مرزا اطہر بیگ کا انتخاب
عالمی فروغ اردو ادب ایوارڈ : پاکستان سے ممتاز ادیب مرزا اطہر بیگ کا انتخاب

 

 دوحہ :پروفیسر ڈاکٹر خورشید رضوی کی صدارت میں پندرہ مارچ 2023کو پاکستان میں قائم مجلس فروغ اردو ادب دوحہ قطر کی آزاد جیوری کی ستائیسویں میٹنگ منعقد ہوئی جس میں پاکستان کے معروف ناول نگار، افسانہ نگار، ڈرامہ نویس اور ادیب جناب مرزا اطہر بیگ کو متفقہ طور پر سال 2023 کا “عالمی فروغ اردو ادب ایوارڈ” دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

یہ ایوارڈ ڈیڑھ لاکھ روپے نقد، ایوارڈ ٹرافی اور سپاس نامہ پر مشتمل ہے۔ جیوری میں صدر پروفیسر ڈاکٹر خورشید رضوی کے علاوہ پروفیسر فتح محمد ملک، پروفیسر ڈاکٹر تحسین فراقی اور پروفیسر ڈاکٹر زاہد منیر شامل تھے۔

چیئرمین مجلس فروغ اردو ادب جناب محمد عتیق کی قیادت میں مجلس جیوری کے فیصلے کا خیرمقدم کرتی ہے اور مرزا اطہر بیگ صاحب کو مبارکباد پیش کرتی ہے۔ مرزا اطہر بیگ کا شمار برصغیر کے ممتاز اردو قلمکاروں میں ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ ستائیسویں عالمی فروغ اردو ادب ایوارڈ کے لیے ہندوستان سے ممتاز فکشن نگار ذکیہ مشہدی کا انتخاب ہوا تھا جس کا اعلان پچھلے دنوں ہی کیا گیا تھا۔

ان کے ناولوں میں غلام باغ ، صفر سے ایک تک اور حسن کی صورتحال شامل ہیں جبکہ دلدل، دوسرا آسمان، گہرے پانی ، حصار ، روگ ، خواب تماشا، پاتال ، یہ آزاد لوگ وغیرہ جیسے متعدد کامیاب سیریل اُن کے قلم کے شاہکار ہیں۔ اس کے علاوہ درجنوں افسانے اور کئی طویل ناٹک بھی آپ کی پہچان ہیں۔

حکومت پاکستان آپ کو “ تمغۂ حُسن کارکردگی” سے بھی نواز چکی ہے۔

واضح رہے کہ مجلس سن انیس سو چھیانوے سے سالانہ عالمی فروغ اردو ادب ایوارڈ اردو نثرنگاروں کی خدمت میں پیش کرتی آرہی ہے اور اب تک ہندوستان اور پاکستان  کے نامور باون فکشن نگاروں کو اس ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔ حالات سازگار رہے تو ان شااللہ رواں سال کے ماہ اکتوبر کے اواخر یا نومبر کے اوائل میں دوحہ میں ایک عالی شان تقریب میں سینکڑوں عاشقانِ اردو کی موجودگی میں یہ ایوارڈ مرزا اطہر بیگ صاحب کی خدمت میں پیش کیا جا ئے گا۔

ذکیہ مشہدی کا انتخاب 

آپ کو بتا دیں کہ ذکیہ مشہدی کا شمار برصغیر کے سرکرده فکشن نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کے افسانوں کے 9 مجموعوں اور ایک ناول کے علاوہ اردو سے انگریزی بندی سے اردو اور انگریزی سے اردو تراجم کی 8 کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔

ان کے افسانوی مجموعوں میں پیارے چہرے' (1984)، تاریک راہوں کے مسافر (1993) ، 'صدائے بازگشت' (2003)، 'نقش ناتمام2008)، 'یہ جہانِ رنگ و بو (2013)، 'منتخب افسانے (2016)، آنکهن دیکھی (2016) ، پارسا بی بی کا باگھر (ناولہ) 2016)، بلا میں کی جانن میں کون (2020) اور 'دیا باتی کی بیلا (2022) شامل ہیں۔ ان کے تراجم میں پکھیرو، نیلا چاند'، شیڈو فرام لدّاخ' ، 'دی لاسٹ سیلیوٹ'، 'پرایا گھر، برجنگ کنیکشنس ایوانِ غزل (ناول) اور انڈراسٹینڈنگ بیومن بہیویئر شامل ہیں۔ واضح رہے کہ عالمی فروغ اردو ادب ایوارڈ کا اجرا 1996 میں کیا گیا تھا اور مجلس اب تک بندوستان اور پاکستان کے 52 نامور فکشن نگاروں، ادبا، محققین اور ناقدین کی خدمت میں یہ ایوارڈ پیش کر چکی ہے۔

بندوستانی ایوارڈ یافتگان میں آل احمد سرور، قرۃ العین حیدر ، جيلاني بانو ، کالی داس گپتا رضا ، گوپی چند نارنگ ، جوگیندر پال ، سریندر پرکاش ، نثار احمد فاروقی ، سیده جعفر، جاوید اختر، عبدالصمد ، گلزار ، رتن سنگھ ، شموئل احمد، مشرف عالم ذوقی، نندکشور وکرم، سید محمد اشرف ، ف س اعجاز ، نورالحسنین اور شمیم حنفی جیسی عظیم شخصیات کے نام شامل ہیں۔ اگر حالات سازگار رہے تو یہ ایوارڈ اکتوبر یا نومبر 2023 میں دوحہ قطر میں منعقدہ تقریب میں عاشقان اردو کی موجودگی میں پیش کیا جائے گا۔