تہران: سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے دوران ایک منفرد اور علامتی روایت نے عالمی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کی توجہ حاصل کی۔ مختلف رپورٹس کے مطابق تقریب میں شریک مختلف ممالک کے سرکاری وفود کے استقبال کے موقع پر ان کے حالات، کردار اور سیاسی تناظر سے مناسبت رکھنے والی قرآن مجید کی مخصوص آیات کی تلاوت کی گئی، جسے ایران کی جانب سے ایک مذہبی، سفارتی اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
گوگل اور مختلف بین الاقوامی ذرائع میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق ایران میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے دوران مختلف ممالک اور تنظیموں کے وفود کی آمد پر الگ الگ قرآنی آیات کی تلاوت کی گئی۔ تاہم ایرانی حکومت نے باضابطہ طور پر اس کی تصدیق یا ان آیات کے انتخاب کی سرکاری وجہ بیان نہیں کی۔ یہ تشریحات زیادہ تر ایرانی ذرائع ابلاغ، تجزیہ
Wow, this is how the Islamic Republic received Arab and regional delegations at Khamenei’s funeral: they weren’t welcomed with diplomacy. They were handed ideological marching orders disguised as Quranic verses.
— Masih Alinejad (@AlinejadMasih) July 4, 2026
Saudi Arabia got a verse about unbelievers facing believers in… pic.twitter.com/1CEPAAyXve
سعودی عرب: سورۂ آل عمران، آیت 13
آیت
"دو گروہوں کے باہم مقابلے میں تمہارے لیے نشانی تھی، ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا انکار کرنے والوں کا تھا..."
مطلب
یہ آیت غزوۂ بدر کی طرف اشارہ کرتی ہے، جہاں کم تعداد کے باوجود مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی۔ مبصرین کے مطابق اس آیت کے ذریعے استقامت، ایمان اور بڑی طاقتوں کے مقابلے میں ثابت قدمی کا پیغام دیا گیا۔
ترکی: سورۂ النساء، آیت 95
آیت کا مفہوم
"اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرنے والے، گھر بیٹھنے والوں سے درجے میں بلند ہیں۔"
مطلب
اس آیت کو بعض تجزیہ نگاروں نے ترکی کے حالیہ علاقائی کردار اور محتاط پالیسی کے تناظر میں ایک علامتی پیغام قرار دیا۔
لبنان کی سرکاری حکومت: قربانی پر زور
آیت کا مفہوم
"اگر وہ اللہ کی راہ میں نکلتے اور قربانی دیتے تو یہ ان کے لیے بہتر ہوتا۔"
مطلب
اسے لبنان کی سرکاری قیادت کے لیے قربانی اور عملی کردار کی ترغیب کے طور پر دیکھا گیا۔
حزب اللہ: سورۂ آل عمران، آیت 139
آیت
"کمزور نہ پڑو اور غم نہ کرو، اگر تم مومن ہو تو تم ہی غالب رہو گے۔"
مطلب
یہ آیت حوصلہ، ثابت قدمی اور کامیابی کی امید کا پیغام دیتی ہے اور حزب اللہ کے لیے حوصلہ افزائی کی علامت سمجھی گئی۔ (
حماس: سورۂ الاحزاب، آیت 23
آیت
"مومنوں میں کچھ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اللہ سے کیا ہوا عہد سچا کر دکھایا، ان میں بعض اپنی جان قربان کر چکے اور بعض انتظار میں ہیں۔"
مطلب
یہ آیت وفاداری، قربانی اور اپنے عہد پر قائم رہنے والوں کی تعریف کرتی ہے۔
یمن (حوثی وفد): سورۂ آل عمران، آیت 146
آیت کا مفہوم
"بہت سے انبیاء کے ساتھ اللہ والے لڑے، مگر وہ نہ کمزور پڑے، نہ ہمت ہاری اور نہ جھکے۔"
مطلب
اس آیت کو مشکلات میں صبر، استقامت اور مزاحمت کی علامت کے طور پر دیکھا گیا
Iran memberikan isyarat kepada delegasi yang datang untuk menyampaikan belasungkawa atas kesyahidan Ayatollah Sayyid Khamenei melalui ayat-ayat Al-Qur'an.
— SW News - SOFT WAR NEWS (@SoftWarNews) July 4, 2026
Qari Iran membacakan ayat ini di hadapan delegasi Qatar:
'agar Allah memberikan ampunan kepadamu atas dosamu yang lalu dan… pic.twitter.com/HReacTX7kL
قطر: سورۂ النور، آیت 22
آیت کا مفہوم
"انہیں معاف کر دینا چاہیے اور درگزر کرنا چاہیے، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے؟"
مطلب
مبصرین کے مطابق یہ آیت قطر کے ثالثی اور مصالحتی کردار کی جانب ایک مثبت اشارہ سمجھی گئی۔י
Iran played different Quranic recitations for each country's delegation during the funeral.
— Rudraksh (@Intel_Jackal) July 4, 2026
For India, it chose Surah Ali 'Imran, Verse 139 (3:139), which states:
"Do not falter or grieve, for you will have the upper hand, if you are [true] believers."
It is a powerful verse… pic.twitter.com/RQ93BD70OW
ہندوستان: سورۂ آل عمران، آیت 139
آیت
"دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو، اگر تم ایمان والے ہو تو تم ہی غالب رہو گے۔
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ بھارتی وفد کے لیے یہی آیت پڑھی گئی، تاہم اس کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی اور نہ ہی ایرانی حکام نے اس کی باضابطہ توثیق کی ہے۔
علامتی سفارتی پیغام
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو ہر وفد کے لیے مختلف قرآنی آیات کا انتخاب ایران کی جانب سے ایک علامتی سفارتی اور مذہبی پیغام تھا، جس میں ہر ملک یا تنظیم کے کردار، حالات یا سیاسی موقف کی مناسبت سے آیات منتخب کی گئیں۔ تاہم چونکہ اس حوالے سے ایرانی حکومت کی طرف سے کوئی باضابطہ سرکاری بیان یا مکمل فہرست جاری نہیں کی گئی، اس لیے ان دعوؤں کو محتاط انداز میں دیکھا جانا چاہیے اور انہیں بنیادی طور پر سوشل میڈیا اور غیر سرکاری رپورٹس سے منسوب کیا جاتا ہے۔