ڈبلیو ایچ او کی وارننگ: میٹھے مشروبات اور شراب پر ٹیکس بڑھائیں

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 15-01-2026
ڈبلیو ایچ او کی وارننگ: میٹھے مشروبات اور شراب پر ٹیکس بڑھائیں
ڈبلیو ایچ او کی وارننگ: میٹھے مشروبات اور شراب پر ٹیکس بڑھائیں

 



جنیوا: عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کے بیشتر حصوں میں میٹھے مشروبات اور شراب کی قیمتیں اتنی کم ہیں کہ لوگ انہیں آسانی سے خرید لیتے ہیں۔ ادارے نے حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان مصنوعات پر ٹیکس بڑھائیں تاکہ عوام کی صحت بہتر ہو اور صحت کے نظام پر بوجھ کم ہو۔

ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے کہا کہ ہیلتھ ٹیکس نقصان دہ مصنوعات کی کھپت کو کم کرنے کا مؤثر ذریعہ ہے اور اس سے حکومتوں کو صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ کے شعبوں میں سرمایہ کاری کا موقع بھی ملتا ہے۔

انہوں نے برطانیہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ 2018 میں میٹھے مشروبات پر ٹیکس کے بعد ملک میں چینی کی کھپت میں کمی آئی اور صرف 2024 میں 338 ملین یوروز کی آمدنی میں اضافہ ہوا۔ ساتھ ہی 10 اور 11 سال کی لڑکیوں میں موٹاپے کی شرح بھی کم ہوئی۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق دنیا کے کم از کم 116 ممالک میٹھے مشروبات پر اور 167 ممالک شراب و بیئر پر ٹیکس عائد کرتے ہیں، مگر زیادہ تر ممالک میں شراب کی قیمتیں نسبتاً کم ہو گئی ہیں کیونکہ ٹیکس کو مہنگائی اور آمدنی کے مطابق ایڈجسٹ نہیں کیا جاتا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ باقاعدگی سے میٹھے مشروبات اور شراب کا استعمال موٹاپا، ذیابیطس، دل کی بیماری، دانتوں کے مسائل اور آسٹیوپوروسس کے خطرات بڑھاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی سفارش ہے کہ ٹیکس میں اضافہ کے ساتھ عوامی آگاہی مہمیں بھی چلائی جائیں تاکہ صحت مند طرز زندگی کو فروغ دیا جا سکے۔