نیویارک: عالمی ادارہ صحت نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ ایک نہایت خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ادارے نے تمام فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو صورتحال کو مزید بگاڑ سکتے ہیں۔
جوہری تنصیبات پر حملے بڑا خطرہ قرار
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے کہا کہ جوہری مقامات کو نشانہ بنانا صحت عامہ اور ماحول کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی ایسے اقدام سے بچنا ضروری ہے جو جوہری حادثے کا سبب بن سکتا ہو۔
The war in the Middle East has reached a perilous stage with strikes reportedly hitting the Natanz Enrichment Complex in Iran, and the Israeli city of Dimona, where a nuclear facility is located.
— Tedros Adhanom Ghebreyesus (@DrTedros) March 22, 2026
@iaeaorg is looking into incidents reported yesterday in southeastern Iran, and in… pic.twitter.com/gJdQd1eOqS
ڈیمونا میں میزائل حملہ اور جانی نقصان
ہفتے کے روز ایک ایرانی بیلسٹک میزائل نے جنوبی اسرائیل کے علاقے ڈیمونا میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ یہ علاقہ حساس نوعیت کا حامل سمجھا جاتا ہے جہاں اہم جوہری تنصیبات موجود ہیں۔
نطنز حملے کے جواب میں کارروائی کا دعویٰ
ایران کا کہنا ہے کہ یہ حملہ اس کی نطنز جوہری تنصیب پر کیے گئے حملے کے ردعمل میں کیا گیا جہاں یورینیم افزودگی کے لیے اہم سہولیات موجود ہیں اور ماضی میں اسے نقصان پہنچا تھا۔
ایران کے 400 سے زائد میزائل فائر کرنے کا دعویٰ
اسرائیلی فوج کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک ایران نے 400 سے زائد بیلسٹک میزائل داغے ہیں جن میں سے تقریباً 92 فیصد کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔ تاہم حالیہ حملوں میں تقریباً 175 افراد کو طبی امداد کی ضرورت پیش آئی۔
پانی اور توانائی کے نظام کو شدید نقصان
ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باعث ملک کے پانی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ وزیر توانائی عباس علی آبادی کے مطابق پانی کی ترسیل اور صفائی کے کئی نظام متاثر ہوئے ہیں جبکہ مرمت کا عمل جاری ہے۔
تباہ شدہ شہری تنصیبات کی بڑی تعداد
ایران کے ہلال احمر کے مطابق تباہ ہونے والی شہری تنصیبات کی تعداد 81 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جن میں رہائشی مکانات تجارتی مراکز اسکول طبی ادارے اور گاڑیاں شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہر تباہ شدہ جگہ کے پیچھے ایک خاندان اور اس کا مستقبل متاثر ہوا ہے۔
صورتحال کی آزادانہ تصدیق مشکل
آزاد ذرائع کے لیے ان دعوؤں کی مکمل تصدیق ممکن نہیں ہو سکی تاہم تہران میں موجود صحافیوں نے متعدد رہائشی عمارتوں اور شہری ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کی تصدیق کی ہے۔