واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی منڈیوں کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے اور ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ دنیا ایک بڑے تیل سپلائی بحران کے دہانے پر کھڑی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو یہ گزشتہ کئی دہائیوں کے بڑے توانائی جھٹکوں میں شامل ہو سکتا ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی بنیادی وجہ عالمی سپلائی میں نمایاں کمی ہے، جس کے تحت اندازاً یومیہ تقریباً دو کروڑ بیرل تیل مارکیٹ تک نہیں پہنچ پا رہا۔ یہ مقدار عالمی تیل پیداوار کے لگ بھگ 20 فیصد کے برابر سمجھی جا رہی ہے۔ اس بحران کے پیچھے سب سے بڑی وجہ خلیج میں واقع اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے۔
یہ راستہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم تصور کیا جاتا ہے کیونکہ دنیا کے بڑے حصے کو تیل اور گیس کی فراہمی اسی گزرگاہ کے ذریعے ہوتی ہے۔ حالیہ کشیدگی اور ممکنہ ناکہ بندی کے خدشات نے عالمی توانائی سپلائی کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ علاقائی حالات کے باعث بعض بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک بھی محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔
متحدہ عرب امارات اور کویت نے اپنی پیداوار میں کمی کی ہے، جبکہ ایران میں تیل کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے بعد توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے بھی آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ عالمی توانائی کی سپلائی کو برقرار رکھنے کے لیے آئل ٹینکرز کے عملے کو خطرات کے باوجود اس گزرگاہ سے گزرنا ہوگا۔
دوسری جانب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں کشیدگی کے باعث سمندری جہاز رانی کی سرگرمیوں میں تقریباً 90 فیصد تک کمی آ چکی ہے۔ ادارے کی منیجنگ ڈائریکٹر کے مطابق کئی اہم تیل اور گیس تنصیبات متاثر ہوئی ہیں، جس کے باعث توانائی کی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایشیا اور دنیا کے دیگر خطوں کے لیے توانائی کا تحفظ اب ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے، کیونکہ ان معیشتوں کا انحصار بڑی حد تک خلیجی تیل اور گیس پر ہے۔
اسی دوران اے این زیڈ گروپ کے چیف اکنامسٹ نے بھی خبردار کیا ہے کہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل آبنائے ہرمز کے راستے ہوتی ہے، اس لیے اس علاقے میں کشیدگی برقرار رہنے کی صورت میں عالمی منڈیوں میں قیمتوں پر دباؤ طویل عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔
عالمی معیشت کو ممکنہ جھٹکے سے بچانے کے لیے جی سیون ممالک نے بھی ہنگامی اقدامات پر غور شروع کر دیا ہے، جن میں اسٹریٹیجک آئل ذخائر کو جاری کرنا شامل ہے تاکہ مارکیٹ میں سپلائی کو مستحکم رکھا جا سکے۔ توانائی کے ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال ان خدشات سے کہیں زیادہ سنگین شکل اختیار کر چکی ہے جن کا ابتدا میں اندازہ لگایا جا رہا تھا۔ ان کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی کم نہ ہوئی تو اس کے اثرات صرف توانائی کے شعبے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، مہنگائی کی شرح اور بین الاقوامی سپلائی چین بھی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔