لیکن یہ یقینی نہیں کہ ایرانی عوام حکومت گرا دیں گے: صدر ٹرمپ

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 13-03-2026
 لیکن یہ یقینی نہیں کہ ایرانی عوام حکومت گرا دیں گے: صدر ٹرمپ
لیکن یہ یقینی نہیں کہ ایرانی عوام حکومت گرا دیں گے: صدر ٹرمپ

 



نیو یارک :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی قیادت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ایران کی موجودہ حکومت کو کمزور کرنے کے لیے حالات پیدا کر رہا ہے، تاہم اس بات کی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ ایرانی عوام خود حکومت کا تختہ الٹ دیں گے۔

خبر رساں ادارے  کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ جمعے کو دوسرے ہفتے میں داخل ہونے کے قریب پہنچ گئی ہے اور خطے میں ڈرون اور میزائل حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ یہ تنازع فروری کے آخر میں ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملوں کے بعد شروع ہوا تھا۔ اس جنگ میں اب تک دو ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں اور عالمی توانائی اور مالیاتی منڈیوں پر بھی اس کے اثرات پڑے ہیں۔

جمعے کی شب سوشل میڈیا پر اپنے ایک پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کی “دہشت گرد حکومت” کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے عمل میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے پاس بے مثال فوجی طاقت، وسیع اسلحہ اور کافی وقت موجود ہے اور جلد ہی دنیا دیکھے گی کہ ایرانی قیادت کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کی قیادت گزشتہ 47 برس سے دنیا بھر میں بے گناہ لوگوں کو قتل کرتی رہی ہے اور اب وہ امریکہ کے 47 ویں صدر کے طور پر انہیں نشانہ بنا رہے ہیں۔

دوسری جانب ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پہلے بیان میں کہا ہے کہ ایران اپنے شہداء کے خون کا بدلہ ضرور لے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اہم عالمی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند رکھا جائے گا اور خطے کے ممالک اپنی سرزمین پر موجود امریکی فوجی اڈے بند کریں، بصورت دیگر ایران انہیں نشانہ بنا سکتا ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد اقتدار میں آئے ہیں، جو اسرائیل کے ابتدائی حملوں میں مارے گئے تھے۔ ان کا تازہ بیان ایک ٹی وی میزبان نے پڑھ کر سنایا جبکہ یہ واضح نہیں کیا گیا کہ وہ خود منظر عام پر کیوں نہیں آئے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ معمولی زخمی ہوئے تھے جبکہ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ زندہ تو ہیں لیکن شدید متاثر ہوئے ہیں۔

ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے حالات پیدا کر رہا ہے، تاہم یہ کہنا مشکل ہے کہ ایرانی عوام خود حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتیں اکثر اندر سے گرتی ہیں لیکن اسرائیل اس عمل میں مدد ضرور کر سکتا ہے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق گزشتہ ایک دن کے دوران مغربی اور وسطی ایران میں 200 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا جن میں بیلسٹک میزائل لانچر، فضائی دفاعی نظام اور اسلحہ بنانے کی تنصیبات شامل ہیں۔ یہ کارروائی “آپریشن روئر آف دی لائن” کے تحت کی جا رہی ہے۔ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے۔ شمالی اسرائیل میں ناصرہ کے قریب ایک بدو عرب قصبے کو نشانہ بنایا گیا جس سے کئی گھروں کو نقصان پہنچا۔اسرائیلی ایمبولینس سروس کے مطابق اس حملے میں 58 افراد زخمی ہوئے جن میں ایک شخص کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے جبکہ دیگر افراد کو معمولی زخم آئے۔

دوسری جانب عراق میں امریکی سینٹرل کمانڈ نے بتایا ہے کہ ایک حادثے کے بعد ریسکیو کارروائی جاری ہے جس میں ایک امریکی ری فیولنگ طیارہ گر گیا۔ حکام کے مطابق یہ واقعہ دشمن کے حملے یا فرینڈلی فائر کا نتیجہ نہیں تھا۔ تاہم ایران نواز گروپ “اسلامک ریزسٹنس ان عراق” نے اس طیارے کو مار گرانے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔فرانس کے صدر ایمانوئل میکخواں کے مطابق شمالی عراق میں ایک حملے کے دوران ایک فوجی ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ اسی علاقے میں ایک اطالوی فوجی اڈے کو نشانہ بنائے جانے کے چند گھنٹوں بعد پیش آیا۔

دبئی کے مرکزی علاقے میں بھی فضائی دفاعی کارروائی کے بعد گرنے والے ملبے سے ایک عمارت کے بیرونی حصے کو معمولی نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ عینی شاہدین کے مطابق یہ واقعہ دبئی انٹرنیشنل فنانشل سنٹر کے قریب پیش آیا۔اس صورتحال کے پیش نظر سٹی گروپ اور سٹینڈرڈ چارٹرڈ سمیت کئی بینکوں نے اپنے عملے کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت دی ہے اور دبئی میں بعض دفاتر عارضی طور پر خالی کرنا شروع کر دیے ہیں۔ روئٹرز کے مطابق یہ اقدامات ایران کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل سے منسلک خلیجی مالیاتی مفادات کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کے بعد کیے گئے۔