واشنگٹن ڈی سی: امریکہ اور ہندوستان کے درمیان تجارتی معاہدے کے تحت امریکہ نے ہندوستان کے لیے ٹیرف کو 25 فیصد سے گھٹا کر 18 فیصد کر دیا ہے۔ اس کی اطلاع امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دی۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا دوست قرار دیا اور کہا کہ فون پر تجارت اور روس یوکرین جنگ کے خاتمے سمیت کئی امور پر بات ہوئی۔ اس معاہدے پر ہندوستان میں امریکی سفیر سرجیو گور نے بھی خوشی کا اظہار کیا۔

امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ آج ہندوستان کے وزیر اعظم مودی سے بات کرنا اعزاز کی بات تھی۔ وہ میرے قریبی دوست ہیں اور اپنے ملک کے طاقتور اور باوقار رہنما ہیں۔ ہم نے تجارت اور روس یوکرین جنگ کے خاتمے سمیت کئی موضوعات پر گفتگو کی۔ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ہندوستان روس سے تیل کی خرید بند کرے گا اور امریکہ اور ممکنہ طور پر وینزویلا سے زیادہ تیل خریدنے پر آمادہ ہوا ہے جس سے یوکرین میں جاری جنگ کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
Wonderful to speak with my dear friend President Trump today. Delighted that Made in India products will now have a reduced tariff of 18%. Big thanks to President Trump on behalf of the 1.4 billion people of India for this wonderful announcement.
— Narendra Modi (@narendramodi) February 2, 2026
When two large economies and the…
ٹرمپ نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی دوستی اور احترام کی بنیاد پر اور ان کی درخواست پر فوری طور پر امریکہ اور ہندوستان کے درمیان تجارتی سمجھوتہ طے پایا ہے جس کے تحت امریکہ نے ریسیپروکل ٹیرف کو 25 فیصد سے کم کرکے 18 فیصد کر دیا ہے۔ اسی طرح ہندوستان بھی امریکی مصنوعات پر اپنے ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹوں کو صفر کی سمت لے جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان بائے امریکن پالیسی کو اعلیٰ سطح پر اپنانے کے لیے پرعزم ہے اور امریکہ سے توانائی ٹیکنالوجی زراعت کوئلہ اور دیگر مصنوعات پانچ سو ارب ڈالر سے زیادہ خریدے گا۔
ہندوستان میں امریکی سفیر سرجیو گور نے کہا کہ صدر ٹرمپ واقعی وزیر اعظم مودی کو اپنا سچا دوست مانتے ہیں اور تجارتی معاہدے کی خبر سے بہت خوشی ہوئی ہے کیونکہ امریکہ اور ہندوستان کے تعلقات میں بے پناہ امکانات ہیں۔ ٹرمپ نے اعلان سے قبل انڈیا ٹوڈے میگزین کے کور کی تصویر بھی شیئر کی جس میں نریندر مودی اور ڈونالڈ ٹرمپ نظر آتے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ امریکہ نے پہلے ہندوستانی مصنوعات پر 25 فیصد ٹیرف لگایا تھا اور روس سے تیل خریدنے پر مزید 25 فیصد عائد کیا گیا تھا جس سے مجموعی ٹیرف 50 فیصد تک پہنچ گیا تھا۔ ٹرمپ نے ہندوستان کی روس سے تیل خرید کو جنگ کی مالی مدد قرار دیا تھا اور امریکہ مسلسل ہندوستان پر دباؤ ڈال رہا تھا کہ وہ روس سے تیل نہ خریدے۔