واشنگٹن: ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحال نہ کیا تو امریکہ ایرانی بجلی گھروں کو تباہ کر دے گا۔ عرب نیوز کے مطابق اس دھمکی کے جواب میں ایران کی فوج نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خطے میں امریکی توانائی آئی ٹی اور ڈی سیلینیشن انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ یہ بیان بازی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ ایک خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ الٹی میٹم فلوریڈا سے سوشل میڈیا کے ذریعے جاری کیا جہاں وہ تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث اندرونی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران نے اس اہم گزرگاہ کو نہ کھولا تو امریکہ اس کے مختلف بجلی گھروں کو نشانہ بنائے گا جس کا آغاز سب سے بڑے پاور پلانٹ سے ہوگا۔
ایران کی فوجی کمان خاتم الانبیا نے اس دھمکی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کے توانائی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا تو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی توانائی انفارمیشن ٹیکنالوجی اور پانی صاف کرنے والی تنصیبات پورے خطے میں حملوں کی زد میں آ سکتی ہیں۔
اسی دوران کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب ایران کے میزائلوں نے جنوبی اسرائیل کے علاقوں ڈیمونا اور اراد کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں متعدد عمارتیں تباہ ہوئیں اور درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق یہ حملے اسرائیل کے حساس جوہری تحقیقی مرکز کے قریب ہوئے جس سے صورتحال کی سنگینی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق میزائل دفاعی نظام ان حملوں کو روکنے میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکا۔ بنیامین نیتن یاہو نے واقعے کو ایک مشکل لمحہ قرار دیتے ہوئے ہنگامی امدادی ٹیموں کو فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں بھیجنے کی ہدایت دی۔
دوسری جانب محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اسرائیل کی دفاعی ناکامی اس بات کا اشارہ ہے کہ جنگ ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے نے واضح کیا ہے کہ اسے اسرائیلی جوہری تنصیبات کو کسی نقصان یا غیر معمولی تابکاری کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
ایرانی حکام نے مزید خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے بجلی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا تو نہ صرف تیل و گیس بلکہ پانی صاف کرنے والے پلانٹس اور آئی ٹی نظام بھی حملوں کا ہدف بن سکتے ہیں خاص طور پر وہ تنصیبات جو امریکہ اور اسرائیل سے وابستہ ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس قسم کے بیانات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور عالمی توانائی نظام پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔