امریکی حملوں میں ایران کے تقریباً 90 فوجی اہداف نشانہ، ٹرمپ کا دعویٰ ایران معاہدہ چاہتا ہے

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 09-07-2026
US Strikes Nearly 90 Iranian Military Targets; Trump Claims Tehran Wants a Deal
US Strikes Nearly 90 Iranian Military Targets; Trump Claims Tehran Wants a Deal

 



 واشنگٹن  ڈی سی : امریکی حملوں میں ایران کے تقریباً 90 فوجی اہداف نشانہ، ٹرمپ کا دعویٰ ایران معاہدہ چاہتا ہےامریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف فضائی حملوں کا تازہ سلسلہ مکمل کر لیا ہے۔جمعرات کی علی الصبح جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکی افواج نے ایران کے تقریباً 90 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے مراکز، میزائل اور ڈرون ذخیرہ گاہیں، بحری تنصیبات اور ساحلی علاقوں میں واقع فوجی لاجسٹکس کا بنیادی ڈھانچہ شامل ہے۔امریکی حملوں کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے رابطہ کیا ہے اور وہ معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق بدھ کو ہونے والے حملوں کے دوران امریکی فوج نے کروز میزائلوں سے شمالی ایران میں ریلوے کے دو پلوں کو بھی نشانہ بنایا۔ بتایا گیا ہے کہ 8 اپریل کی جنگ بندی کے بعد ایران کے بنیادی ڈھانچے پر یہ پہلا بڑا حملہ ہے۔ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق حملوں کے بعد تہران اور مشہد کے درمیان ٹرین سروس معطل کر دی گئی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی جب چند گھنٹوں بعد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مشہد میں تدفین ہونا تھی۔

مزید حملوں کی دھمکی

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے بحری جہازوں پر حملے جاری رکھے تو اسے اس سے بھی زیادہ سخت جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے ایک روز قبل بحری جہازوں پر حملوں کے جواب میں کی گئی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسے حملے دوبارہ ہوئے تو اس کے نتائج مزید سنگین ہوں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ توقع رکھتے ہیں کہ موجودہ فوجی کشیدگی جلد ختم ہو جائے گی اور مذاکرات کے دروازے اب بھی کھلے ہیں۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ حملے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو درپیش خطرات کم کرنے اور ایرانی فوجی صلاحیت کو محدود کرنے کے مقصد سے کیے گئے۔کمانڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ جہاز رانی کے خلاف حالیہ حملوں پر ایران کو جواب دہ ٹھہرا رہا ہے۔

ایران کا سخت ردعمل

ایران کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے کہا کہ آبنائے ہرمز صرف ایران کی نگرانی میں ہی کھولی جائے گی۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ نے اب تک یہ سبق نہیں سیکھا کہ دھونس اور وعدہ خلافی کے نتائج ضرور سامنے آتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

ٹرمپ کا ایک اور دعویٰ

صدر ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ایران نے حال ہی میں رابطہ کیا ہے اور وہ معاہدے کے لیے بے چین ہے۔انہوں نے رابطے کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں، تاہم ایرانی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے معاہدے کے امکانات پر شکوک کا اظہار بھی کیا۔

خلیجی ممالک میں ہائی الرٹ

کویت اور بحرین نے جمعرات کی صبح اپنے دفاعی نظام متحرک کر دیے۔ حکام کے مطابق دشمن کے میزائلوں اور ڈرون حملوں کے خدشے کے پیش نظر دفاعی کارروائیاں کی گئیں، جس کے باعث مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق کیش جزیرے پر طیاروں کی پروازوں کی آوازیں سنائی دیں جبکہ بندر عباس، کونارک اور چاہ بہار میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، جس کے بعد بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔بحرین میں بھی فضائی حملوں کے سائرن بجائے گئے اور متعدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، جبکہ قطر نے بھی احتیاطی طور پر الرٹ جاری کیا۔ بعد ازاں قطری وزارت داخلہ نے خطرہ ٹلنے کا اعلان کر دیا۔

یاد رہے کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں تین تجارتی جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ایران پر حملوں کا نیا سلسلہ شروع کیا تھا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کا عبوری معاہدہ ایک بار پھر خطرے میں پڑ گیا ہے۔تازہ کشیدگی نے ان سفارتی کوششوں کو بھی متاثر کیا ہے جن کا مقصد آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحال کرنا، ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر پیش رفت حاصل کرنا اور 28 فروری سے جاری تنازع کے مستقل خاتمے کی راہ ہموار کرنا تھا۔