نیویارک : رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کے ابتدائی ہفتے میں امریکہ کو تقریباً 11.3 ارب ڈالر خرچ کرنا پڑے۔ یہ معلومات ایک ایسے شخص نے دی ہیں جو پینٹاگون کی جانب سے کانگریس کو دی گئی بریفنگ سے واقف ہے۔
ذرائع کے مطابق پینٹاگون نے اسی ہفتے ایک نجی بریفنگ میں کانگریس کو اس اخراجات کا اندازہ پیش کیا۔ بتایا گیا کہ صرف جنگ کے پہلے ہفتے کے اختتام تک ہتھیاروں پر تقریباً 5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے تھے۔
ابتدائی طور پر ٹرمپ انتظامیہ نے کہا تھا کہ جنگی اخراجات پورے کرنے کے لئے کانگریس سے اضافی فنڈز کی منظوری طلب کی جائے گی۔ تاہم اس وقت یہ معاملہ آگے نہیں بڑھایا گیا۔
سینیٹر راجر وکر جو سینیٹ کی مسلح افواج کی کمیٹی کے چیئرمین ہیں انہوں نے بدھ کے روز کہا کہ انہیں اس ماہ کسی اضافی بجٹ کی درخواست آنے کی توقع نہیں ہے۔
ادھر بدھ کے روز ایران نے تجارتی بحری جہازوں پر فائرنگ کی اور دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بھی نشانہ بنایا۔ اس واقعے کے بعد توانائی کے عالمی بازاروں میں مزید بے چینی پیدا ہو گئی جو پہلے ہی دباؤ کا شکار تھے۔
یہ کارروائیاں اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر کی گئی 12 روزہ بمباری کے جواب میں کی گئیں جس سے ایران کی تجارت اور ایندھن کی سپلائی لائنیں بری طرح متاثر ہو چکی ہیں۔
ایران کی جوابی کارروائیوں نے پورے خطے کی تجارت کو متاثر کیا ہے۔ خلیج سے نکلنے والے ایندھن اور کھاد کی ترسیل میں شدید رکاوٹ پیدا ہوئی ہے جبکہ دنیا کے مصروف ترین فضائی راستوں میں سے ایک شدید دباؤ کا شکار ہو گیا ہے۔ دونوں جانب سے حملے جاری ہیں اور کسی بھی فریق نے پسپائی کے آثار نہیں دکھائے۔
بدھ کی رات تہران میں متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں جبکہ فضائی حملوں اور فضائی دفاعی توپوں کی فائرنگ بھی جاری رہی۔ شہر میں ڈرون طیاروں کی گونج بھی سنائی دیتی رہی۔
ایک عینی شاہد کے مطابق شہر کے اوپر دھوئیں اور آگ کے شعلوں نے آسمان کو ڈھانپ لیا تھا جبکہ فضا میں بارودی مواد اور پٹرول کی تیز بو محسوس کی جا رہی تھی۔
دوسری جانب اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے مختلف ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق لبنان میں اب تک 759000 افراد بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ 92000 شامی شہری سرحد پار کر کے دوسرے علاقوں میں منتقل ہو گئے ہیں۔
ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے مال بردار جہازوں کی آمد و رفت کو بھی بڑی حد تک روک دیا ہے جبکہ خلیج میں تیل کی تنصیبات اور ریفائنریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ عالمی سطح پر معاشی دباؤ بڑھایا جا سکے۔
جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک اس خطے میں کم از کم 12 بحری واقعات کی تصدیق ہو چکی ہے جن میں 7 ملاح ہلاک ہوئے ہیں۔
امریکہ نے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے اور ایران کی بحریہ کے مراکز خصوصاً بندر عباس کے علاقے پر شدید فضائی حملے کیے ہیں۔ امریکی فوج کے مطابق ایران کی 16 ایسی کشتیوں کو تباہ کر دیا گیا ہے جو سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کے لئے استعمال کی جا رہی تھیں۔