واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اپنے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام سے متعلق امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور اگر تہران نے معاہدہ نہ کیا تو یہ اس کی بڑی غلطی ہو گی۔ امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران پر دباؤ برقرار رکھا جائے گا تاکہ اسے مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔
انہوں نے عندیہ دیا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ ایک نیا معاہدہ چاہتا ہے جو خطے میں استحکام کا باعث بنے۔ دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایرانی تیل بردار جہازوں کو تحویل میں لینے کے آپشن پر غور کر رہے ہیں۔ ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ اس حوالے سے مختلف تجاویز زیرِ بحث آئی ہیں، تاہم حکام کو خدشہ ہے کہ ایسے اقدام سے ایران کی جانب سے جوابی کارروائی اور عالمی تیل منڈیوں میں اتار چڑھاؤ پیدا ہو سکتا ہے۔
اپنے انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاک بھارت کشیدگی کم کرانے کا کریڈٹ بھی لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی تھی اور یہ ایٹمی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان جھڑپوں میں 10 طیارے مار گرائے گئے تھے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر وہ تجارتی محصولات (ٹیرف) کا استعمال نہ کرتے تو دونوں ممالک ایٹمی تصادم کی طرف بڑھ سکتے تھے۔ ان کے بقول، ان کی مداخلت نے خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچایا۔ امریکی صدر کے ان بیانات کے بعد خطے کی صورتحال اور ایران سے متعلق ممکنہ امریکی اقدامات پر عالمی سطح پر بحث تیز ہو گئی ہے۔