امریکہ کیوبا میں فوری فوجی کارروائی پر غور نہیں کر رہا: امریکی اہلکار

Story by  PTI | Posted by  Aamnah Farooque | Date 08-05-2026
امریکہ کیوبا میں فوری فوجی کارروائی پر غور نہیں کر رہا: امریکی اہلکار
امریکہ کیوبا میں فوری فوجی کارروائی پر غور نہیں کر رہا: امریکی اہلکار

 



نئی دہلی
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیوبا کو بار بار دی جانے والی دھمکیوں کے باوجود امریکہ فی الحال کیوبا کے خلاف کسی فوری فوجی کارروائی پر غور نہیں کر رہا۔ حکام نے یہ جانکاری دی ہے۔دراصل ٹرمپ نے دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ “اگلا نمبر کیوبا کا ہے” اور یہ اشارہ بھی دیا تھا کہ ایران جنگ کے لیے مغربی ایشیا میں تعینات امریکی جنگی جہاز کیوبا کے راستے واپس آ سکتے ہیں۔
کیوبا کے حکام کے ساتھ ابتدائی بات چیت میں شامل عہدیداروں نے بتایا کہ انہیں اس بات کی زیادہ امید نہیں ہے کہ کمیونسٹ حکومت انسانی امداد کے طور پر کروڑوں ڈالر، تمام کیوبائی شہریوں کے لیے 2 برس تک اسٹارلنک کی مفت انٹرنیٹ سروس، زرعی امداد اور بنیادی ڈھانچے کی مدد کی پیشکش قبول کرے گی۔تاہم ان کا کہنا ہے کہ کیوبا نے ابھی تک اس پیشکش کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا، حالانکہ اس کے ساتھ ایسی شرائط جڑی ہوئی ہیں جن کی حکومت طویل عرصے سے مخالفت کرتی رہی ہے۔ یہاں تک کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جمعرات کو ہوانا پر نئی پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد بھی اس پیشکش کو رد نہیں کیا گیا۔
حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کیوبا کی حکومت کے پاس اب بھی اس پیشکش کو قبول کرنے کا وقت موجود ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ٹرمپ کسی بھی وقت اپنا فیصلہ بدل سکتے ہیں اور فوجی آپشن اب بھی کھلے ہوئے ہیں۔امریکہ کی وزارت خزانہ اور وزارت خارجہ نے ان پابندیوں کا اعلان اس وقت کیا جب ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے۔ اس حکم نامے کے ذریعے انتظامیہ کو کیوبا کے خلاف مزید سخت اقدامات نافذ کرنے کے اختیارات مل گئے ہیں۔
کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگیز نے ان اقدامات کو “اجتماعی سزا” قرار دیا اور کیوبا کے خلاف امریکہ حکومت کی “نسل کشی کی نیت” کی مذمت کی۔انہوں نے “ایکس” پر ایک پوسٹ میں لکھا، “یہ اقدامات اس سوچ پر مبنی ہیں کہ امریکہ غیر ملکی شہریوں اور کاروباری اداروں کو دھمکا کر دنیا پر اپنی مرضی مسلط کر سکتا ہے۔