واشنگٹن: امریکی فوج نے منگل کے روز مشرقی بحرالکاہل میں منشیات کی اسمگلنگ کے شبہے میں ایک اور کشتی پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہو گئے۔ گزشتہ چند دنوں میں یہ اسی نوعیت کا چوتھا حملہ ہے۔ یہ فوجی کارروائی لاطینی امریکی سمندری حدود میں منشیات اسمگلنگ میں ملوث جہازوں پر حملوں کی جاری مہم کا تازہ ترین حصہ ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ کشتیاں اسمگلنگ میں استعمال ہو رہی تھیں۔ یہ مہم ساڑھے سات ماہ قبل شروع ہوئی تھی اور اس دوران امریکی فوج مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ جنگی صورتحال میں بھی مصروف رہی ہے۔ تازہ حملے کے بعد ستمبر کے آغاز سے اب تک اس مہم میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 175 تک پہنچ گئی ہے۔
امریکی کوسٹ گارڈ نے ہفتے کے روز ہونے والے حملے میں بچ جانے والے ایک شخص کی تلاش بھی روک دی ہے۔ امریکی جنوبی کمان نے منگل کے روز سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں ایک کشتی کو میزائل یا گولے کی زد میں آ کر دھماکے سے تباہ ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔ امریکی فوج نے اس سے قبل ہفتے کے روز دو اور پیر کے روز ایک اور کشتی پر حملے کی اطلاع دی تھی۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ تمام کشتیاں دہشت گرد تنظیموں کے زیرِ انتظام تھیں اور خفیہ معلومات سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ وہ مشرقی بحرالکاہل میں منشیات کی اسمگلنگ کے راستوں پر چل رہی تھیں۔ تاہم اس حوالے سے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن لاطینی امریکہ کے منشیات کارٹیلز کے ساتھ ’’مسلح تنازع‘‘ کی حالت میں ہے۔
انہوں نے ان حملوں کو امریکہ میں منشیات کی اسمگلنگ اور اس کے زیادہ استعمال سے ہونے والی اموات کو روکنے کے لیے ضروری قدم قرار دیا ہے، تاہم ان کی انتظامیہ نے اسمگلنگ اور دہشت گردی کے مبینہ تعلق کے اپنے دعووں کے حق میں بہت کم شواہد پیش کیے ہیں۔