واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہا ہے اور جلد اس حوالے سے مثبت پیش رفت کی توقع ہے۔ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے عندیہ دیا کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کے امکانات پر “اچھی خبر” سامنے آ سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے خطے کی مجموعی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ایران سے متعلق پالیسی کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے معاملے پر بات چیت جاری ہے جبکہ امریکا نے اپنا بڑا بحری بیڑا ایران کی جانب روانہ کر دیا ہے، جسے وہ خطے میں امریکی مفادات کے تحفظ کے تناظر میں ایک اسٹریٹجک اقدام قرار دیتے ہیں۔
اسی گفتگو میں امریکی صدر نے ملکی معیشت اور صنعت سے متعلق ایک اہم فیصلے کا اعلان بھی کیا۔ ان کے مطابق امریکا نے اپنی صنعتوں کے لیے ضروری اہم معدنیات کا اسٹریٹجک ذخیرہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ مستقبل میں سپلائی چین کے ممکنہ مسائل سے نمٹا جا سکے۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں عالمی توانائی منڈی سے متعلق اہم انکشاف کیا۔
ان کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران اس بات پر اتفاق ہوا کہ بھارت روس سے تیل کی خریداری کم کرے گا، جبکہ امریکا اور وینزویلا سے توانائی کی درآمدات میں اضافہ کیا جائے گا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے یوکرین میں جاری جنگ کے خاتمے کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بھارتی وزیراعظم نے 500 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی امریکی توانائی، ٹیکنالوجی اور دیگر اشیاء خریدنے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے، جسے صدر ٹرمپ نے دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون کے فروغ اور عالمی استحکام کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔