واشنگٹن: امریکہ نے غیر قانونی امیگریشن اور جرائم کے خلاف اپنی سخت پالیسی کو مزید تیز کرتے ہوئے 89 بھارتی شہریوں کو ’Worst of the Worst‘ یعنی انتہائی خطرناک مجرموں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ یہ فہرست امریکی محکمۂ داخلی سلامتی (ڈی ایچ ایس) کی جانب سے ایک نئی عوامی ویب سائٹ پر جاری کی گئی ہے، جس میں سنگین جرائم میں ملوث اور سزا یافتہ غیر قانونی تارکینِ وطن کی تفصیلات دی گئی ہیں۔
محکمے کی جانب سے شروع کی گئی اس ویب سائٹ پر مجرموں کے نام، تصاویر، قومیت اور ان کے ذریعے کیے گئے جرائم کی تفصیل کو عوام کے سامنے رکھا گیا ہے۔ ڈی ایچ ایس کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد امریکی شہریوں کو یہ دکھانا ہے کہ کن مجرمانہ غیر قانونی تارکینِ وطن کو گرفتار کر کے ان کی کمیونٹیز سے نکالا گیا ہے۔
ویب سائٹ کے ابتدائی پیغام میں بتایا گیا ہے کہ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی جانب سے گرفتار کیے گئے انتہائی سنگین جرائم میں ملوث افراد کو ترجیحی بنیادوں پر نشان زد کیا جا رہا ہے۔ اس فہرست میں قتل، جنسی جرائم، منشیات کی اسمگلنگ اور پرتشدد جرائم میں ملوث افراد کو سب سے پہلے شامل کیا گیا ہے۔
ڈی ایچ ایس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی اس ویب سائٹ کی معلومات شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب عام لوگ خود دیکھ سکتے ہیں کہ کن مجرموں کو گرفتار کیا گیا، انہوں نے کون سے جرائم کیے اور انہیں کن علاقوں سے ہٹایا گیا۔ اس فہرست میں شامل 89 بھارتی شہریوں پر جنسی جرائم، عصمت دری، منشیات کی اسمگلنگ، چوری، ڈی یو آئی (نشے کی حالت میں گاڑی چلانا)، ہٹ اینڈ رن، انسانی اسمگلنگ، دھوکہ دہی، ڈکیتی، حملہ، اغوا، منی لانڈرنگ، گھریلو تشدد اور ایک قتل جیسے سنگین الزامات درج ہیں۔
یہ تمام نام ایسے افراد کے ہیں جنہیں امریکہ میں گرفتار کیا جا چکا ہے اور جو مجرم قرار دیے جا چکے ہیں۔ ویب سائٹ پر سرچ فلٹر کی سہولت بھی موجود ہے، جس کے ذریعے صارفین نام، ملک یا ریاست کی بنیاد پر معلومات تلاش کر سکتے ہیں۔