واشنگٹن: امریکی ایوانِ نمائندگان نے ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا 901 ارب ڈالر کا دفاعی بجٹ منظور کر لیا ہے، جسے حالیہ برسوں میں واشنگٹن کی عسکری ترجیحات اور عالمی سطح پر بدلتی صورت حال کا اہم اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔ خبر ایجنسیوں کے مطابق بل کے حق میں 312 جبکہ مخالفت میں 112 ووٹ آئے۔ اب یہ مسودہ سینیٹ میں پیش ہوگا، جہاں منظوری کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط سے قانون کی شکل اختیار کرے گا۔
منظور شدہ دفاعی بجٹ میں امریکی فوجیوں کی تنخواہوں میں نمایاں اضافہ اور ان کی رہائش و بہبود کے لیے اضافی اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔ اسی کے ساتھ امریکا نے یوکرین کے لیے اگلے دو برسوں میں 800 ملین ڈالر کی فوجی امداد مختص کی ہے، جو جنگ زدہ ملک کی مسلسل حمایت کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
دفاعی بل میں اسرائیل کے تحفظ سے متعلق پروگراموں—خصوصاً آئرن ڈوم اور ڈیوڈز سلِنگ کے لیے بھی مکمل فنڈنگ فراہم کی گئی ہے، جو مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں امریکی پالیسی کی ترجیحات کو نمایاں کرتا ہے۔ دوسری جانب، ماحولیات سے متعلق منصوبوں اور سماجی تنوع کے پروگراموں کے فنڈز میں 1.6 ارب ڈالر کی کٹوتی کی گئی ہے، جس پر ترقی پسند حلقوں اور ماحولیاتی گروہوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ناقدین کے مطابق دفاعی اخراجات میں ریکارڈ اضافہ اور ماحول دوست پالیسیوں میں کمی امریکی بجٹ توازن کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کرتا ہے۔ پس منظر کے طور پر، گزشتہ چند برسوں میں یوکرین–روس جنگ، اسرائیل–غزہ تنازع اور بحرالکاہل میں چین کے بڑھتے اثر و رسوخ نے امریکہ کے لیے عسکری تیاریوں اور عالمی اتحادیوں کی امداد کو پہلے سے زیادہ اہم بنا دیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد واشنگٹن کی ترجیحات میں دفاعی طاقت کو کلیدی حیثیت حاصل ہو گئی ہے، اور یہ ریکارڈ بجٹ اسی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے۔