واشنگٹو ٹی سی : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ امریکہ 66 بین الاقوامی اور اقوام متحدہ کے اداروں سے دستبردار ہو جائے گا۔ ان کے مطابق یہ ادارے امریکی قومی مفادات کے خلاف کام کر رہے ہیں۔خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے سینیئر انتظامی حکام کو ایک یادداشت ارسال کی ہے۔ اس یادداشت میں اقوام متحدہ کے 31 اداروں اور 35 دیگر بین الاقوامی گروپوں کی فہرست شامل ہے۔ ان میں اقوام متحدہ کا فریم ورک کنونشن برائے موسمیاتی تبدیلی بھی شامل ہے جسے عالمی سطح پر بنیادی موسمیاتی معاہدہ سمجھا جاتا ہے اور جو 2015 کے پیرس موسمیاتی معاہدے کا مرکزی ڈھانچہ ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنی داخلی پالیسی میں معدنی ایندھن کو مرکزی حیثیت دی ہے۔ وہ انسانی سرگرمیوں کے باعث زمین کے درجہ حرارت میں اضافے سے متعلق سائنسی اتفاق رائے کو مسترد کرتے رہے ہیں اور موسمیاتی سائنس کو دھوکا قرار دیتے رہے ہیں۔
یو این ایف سی سی سی جون 1992 میں ریو ارتھ سمٹ میں منظور کیا گیا تھا۔ بعد میں اسی سال صدر جارج ایچ ڈبلیو بش کے دور میں امریکی سینیٹ نے اس کی توثیق کی تھی۔
امریکی آئین صدور کو معاہدے کرنے کی اجازت دیتا ہے بشرطیکہ سینیٹ کے دو تہائی ارکان اس کی منظوری دیں۔ تاہم آئین معاہدوں سے دستبرداری کے طریقہ کار پر خاموش ہے۔ اس صورت حال کو ایک قانونی ابہام قرار دیا جا رہا ہے جو عدالتی چیلنجز کا سبب بن سکتا ہے۔
ٹرمپ عہدہ سنبھالنے کے بعد امریکہ کو پیرس موسمیاتی معاہدے سے پہلے ہی نکال چکے ہیں۔ اس سے قبل وہ اپنی پہلی مدت میں بھی 2017 سے 2021 کے دوران ایسا کر چکے تھے۔ بعد میں ان کے جانشین صدر جو بائیڈن نے امریکہ کو دوبارہ معاہدے میں شامل کیا تھا۔
بنیادی موسمیاتی معاہدے سے اخراج مستقبل میں امریکہ کی کسی ممکنہ دوبارہ شمولیت کے حوالے سے مزید قانونی غیر یقینی پیدا کر سکتا ہے۔
غیر منافع بخش ادارے سینٹر فار بائیولوجیکل ڈائیورسٹی کی سینیئر وکیل جین سو نے کہا ہے کہ یو این ایف سی سی سی سے نکلنا پیرس معاہدے سے نکلنے کے مقابلے میں کہیں بڑا اور مختلف قدم ہے۔ ان کے مطابق ایسے معاہدے سے جس کے لیے سینیٹ کے دو تہائی ووٹ درکار ہوں صدر کا یکطرفہ طور پر نکلنا غیر قانونی ہو سکتا ہے اور اس حوالے سے قانونی راستوں پر غور کیا جا رہا ہے۔
ایشیا سوسائٹی پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے لی شوؤ نے کہا کہ امریکی اخراج عالمی موسمیاتی کارروائی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ ان کے مطابق اس سے عالمی سطح پر بڑی محنت سے قائم کیا گیا اتفاق رائے کمزور ہو جائے گا۔
کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے اس فیصلے پر سخت ردعمل دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ عالمی سطح پر امریکہ کی قیادت سے دستبردار ہو رہے ہیں اور مستقبل کی معیشت میں مقابلے کی صلاحیت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس فیصلے سے قیادت کا ایسا خلا پیدا ہو رہا ہے جس سے چین فائدہ اٹھا رہا ہے۔
یادداشت میں امریکہ کو بین الحکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی سے نکلنے کی ہدایت بھی شامل ہے۔ یہ ادارہ موسمیاتی سائنس کا جائزہ لینے والا اقوام متحدہ کا مرکزی ادارہ ہے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی قابل تجدید توانائی ایجنسی اقوام متحدہ اوشنز اور اقوام متحدہ واٹر سے بھی دستبرداری کا اعلان کیا گیا ہے۔
اپنی پہلی مدت کی طرح ٹرمپ نے امریکہ کو پیرس معاہدے اور اقوام متحدہ کے تعلیمی سائنسی اور ثقافتی ادارے یونیسکو سے بھی نکال لیا ہے۔ بعد میں بائیڈن انتظامیہ کے دور میں امریکہ یونیسکو میں دوبارہ شامل ہوا تھا۔
اسی طرح ٹرمپ نے امریکہ کو عالمی ادارہ صحت سے بھی نکال لیا ہے۔ اس کے ساتھ غیر ملکی امداد میں نمایاں کمی کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے متعدد اداروں کی فنڈنگ میں کٹوتی کی گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں کئی اداروں کو زمینی سطح پر اپنی سرگرمیاں محدود کرنا پڑی ہیں جن میں ہائی کمشنر برائے پناہ گزین اور عالمی خوراک کا پروگرام شامل ہیں۔
یادداشت میں جن دیگر نمایاں اداروں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں اقوام متحدہ پاپولیشن فنڈ اقوام متحدہ کا خواتین سے متعلق ادارہ یو این ویمن اور اقوام متحدہ کانفرنس برائے تجارت و ترقی شامل ہیں۔
وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ یہ ادارے ترقی پسند نظریے کے تحت کام کر رہے ہیں اور امریکی خودمختاری کو محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق تنوع مساوات شمولیت صنفی مساوات اور موسمیاتی پالیسیوں کے نام پر کئی بین الاقوامی ادارے ایک عالمی ایجنڈے کی خدمت کر رہے ہیں۔
گزشتہ برس ستمبر میں جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے اقوام متحدہ پر سخت تنقید کی تھی۔ انہوں نے سوال اٹھایا تھا کہ اقوام متحدہ کا مقصد کیا ہے۔ اپنی طویل تقریر میں انہوں نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کی انتظامی خرابیوں تک کا ذکر کیا تھا۔