جنیوا: امریکا نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کی درخواست کی ہے، جو آج منعقد ہوگا۔ اجلاس کا مقصد ایران کے ساتھ تعلقات میں بڑھتے ہوئے تناؤ کو کم کرنے کے لیے عالمی سطح پر ایک مؤثر لائحہ عمل وضع کرنا ہے۔
پینٹاگون نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد اپنے فوجی بیڑے "یو ایس ایس ابراہم لنکن" کو روانہ کر دیا ہے۔ اس بحری بیڑے میں کروز میزائل، جنگی بحری جہاز اور لڑاکا طیارے شامل ہیں، جو کسی بھی ممکنہ امریکی کارروائی کے لیے تیار ہوں گے۔ امریکا کی فوجی نقل و حرکت اس بات کا غماز ہے کہ امریکا ایران کے خلاف مزید اقدامات کی تیاری کر رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ کے بارے میں واضح طور پر کہا ہے کہ وہ طویل جنگ کے بجائے ایک مختصر اور فیصلہ کن کارروائی کو ترجیح دیتے ہیں۔ امریکی اور برطانوی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ کا ارادہ ہے کہ ایران پر ایسا حملہ کیا جائے جو فوری طور پر اثرانداز ہو اور اس کا مقصد ایرانی حکومت کے اہم اداروں جیسے پاسدارانِ انقلاب، بسیج فورس اور پولیس کو کروز میزائلوں سے نشانہ بنانا ہو۔
ایران کے خلاف ممکنہ حملے کی تیاری کے طور پر تہران میں برطانوی سفارتخانہ بند کر دیا گیا ہے اور اس کے تمام عملے کو تہران سے نکال لیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بھارت، اسپین، اٹلی اور پولینڈ نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت دے دی ہے۔ برطانیہ نے قطر میں موجود اپنے امریکی فوجی اڈے سے بھی اپنے عملے کو نکالنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔
امریکا اور ایران کے تعلقات میں کشیدگی 2018 میں اُس وقت بڑھی جب ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے ساتھ 2015 کے جوہری معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا اور ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ ایران کی جانب سے جوہری پروگرام میں اضافے اور خطے میں مختلف عسکری کارروائیوں کی حمایت کرنے کے الزامات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہوئے۔
حال ہی میں، امریکا نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے مزید سخت اقدامات کرنے کی دھمکی دی ہے، جس کے بعد ایران نے بھی اپنی فوجی طاقت بڑھا دی ہے۔ اس صورت حال کے پیش نظر عالمی سطح پر ایران اور امریکا کے مابین جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں، اور اب عالمی برادری اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس بحران کو کس طرح کم کیا جا سکتا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکا اور ایران کے مابین جنگ کے خطرے نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی طاقتیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ دونوں ممالک مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نکالیں تاکہ خطے میں مزید تباہی سے بچا جا سکے۔