ایپسٹین فائلس پر اقوام متحدہ کا ردعمل

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 18-02-2026
ایپسٹین فائلس پر اقوام متحدہ کا ردعمل
ایپسٹین فائلس پر اقوام متحدہ کا ردعمل

 



جنیوا: عالمی سطح پر بچوں اور خواتین کے خلاف جنسی استحصال کے کیسز پر توجہ بڑھ رہی ہے، اور اسی سلسلے میں بدنامِ زمانہ مجرم جیفری ایپسٹین کے جرائم پر اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے اہم رائے دی ہے کہ بعض حالات میں ان کے جرائم انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔ یہ تازہ ترین موقف امریکی حکومت کی جانب سے حال ہی میں لاکھوں فائلوں کے عوامی ہونے کے بعد سامنے آیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے تحت کام کرنے والے آزاد ماہرین نے کہا ہے کہ ایپسٹین دستاویزات میں خواتین اور بچیوں کے خلاف منظم، وسیع اور بین الاقوامی نوعیت کے مظالم کی نشاندہی کی گئی ہے، جو ایک عالمی مجرمانہ نیٹ ورک کی موجودگی کو ظاہر کرتی ہیں۔

ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ ایپسٹین اور اس کے بااثر ساتھیوں کے خلاف آزاد، غیر جانبدار اور مکمل تحقیقات کی جائیں۔ رپورٹس کے مطابق، ایپسٹین کے استحصالی نیٹ ورک میں سیکڑوں نوجوان خواتین اور لڑکیاں شامل تھیں، اور فائلز میں طاقتور شخصیات کی شناخت چھپانے کے لیے غیر ضروری سینسر شپ کی گئی ہے، جس سے متاثرین کو مزید ذہنی اذیت پہنچی ہے۔

یو این کے ماہرین نے یہ بیان 30 جنوری کو امریکی حکومت کی جانب سے 35 لاکھ صفحات پر مشتمل فائلز جاری ہونے کے بعد دیا، جو ایپسٹین فائلز ٹرانسپیرنسی ایکٹ کے تحت منظرِ عام پر آئیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اب بھی لاکھوں دستاویزات عام نہیں کی گئیں۔ یاد رہے کہ جیفری ایپسٹین نے 2008ء میں کم عمر لڑکیوں کے خلاف جرائم کا اعتراف کیا، مگر اسے صرف 13 ماہ قید کی سزا دی گئی۔

بعد ازاں 2019ء میں وفاقی مقدمات کے دوران جیل میں اس نے خودکشی کر لی تھی۔ ایپسٹین کی سابقہ ساتھی گزلین میکسویل کو جنسی اسمگلنگ میں کردار ادا کرنے پر 20 سال سے زائد قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے ایپسٹین فائلز پر جاری کردہ ردعمل میں واضح کیا ہے کہ اس کیس کو نظر انداز کرنا متاثرین کے ساتھ ناانصافی ہوگی، اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے مکمل شفافیت اور جوابدہی ناگزیر ہے۔