لندن: برطانیہ میں گزشتہ ایک سال کے دوران سڑکوں پر رات گزارنے والے بے گھر بچوں اور نوجوانوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس میں تقریباً 7 ہزار سے زائد نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق فلاحی ادارے سینٹر پوائنٹ کا کہنا ہے کہ یہ مسلسل تیسرا سال ہے جب نوجوانوں میں بے گھری کی شرح میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جو ایک تشویشناک رجحان ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2024 سے مارچ 2025 کے درمیان 16 سے 24 سال کی عمر کے تقریباً 1 لاکھ 24 ہزار بے گھر نوجوانوں کا اندراج کیا گیا۔ اس سے قبل یہ تعداد تقریباً 1 لاکھ 17 ہزار تھی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ایک سال میں ہزاروں کا اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ بعض خاندان، جن میں کم عمر بچے شامل ہیں، کونسل کی جانب سے رہائش فراہم نہ کیے جانے کے باعث گاڑیوں میں رات گزارنے پر مجبور ہیں۔
مشیل نامی ایک خاتون، جو تین چھوٹے بچوں کی ماں ہیں، نے بتایا کہ کونسل کی جانب سے مدد نہ ملنے کے بعد وہ اپنے بچوں سمیت گاڑی میں سونے پر مجبور ہیں۔ ان کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف خوفناک بلکہ انتہائی شرمناک بھی ہے۔ علاقائی اعداد و شمار کے مطابق شمالی آئرلینڈ میں بھی نوجوانوں کی بے گھری میں اضافہ ہوا ہے۔
ویلز میں 8 فیصد اور انگلینڈ میں 6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ اسکاٹ لینڈ میں بے گھر نوجوانوں کی تعداد 7,434 سے بڑھ کر 7,604 ہو گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ برطانیہ میں نوجوانوں اور بچوں کی بے گھری ایک سنگین سماجی مسئلہ بنتی جا رہی ہے، جس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔