دو درجن ڈیموکریٹ قیادت والی ریاستوں نے ٹرمپ پر مقدمہ کردیا

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 04-04-2026
دو درجن ڈیموکریٹ قیادت والی ریاستوں نے ٹرمپ پر مقدمہ کردیا
دو درجن ڈیموکریٹ قیادت والی ریاستوں نے ٹرمپ پر مقدمہ کردیا

 



واشنگٹن: امریکا میں صدارتی حکم نامے کے خلاف قانونی محاذ کھل گیا ہے، جہاں تقریباً دو درجن ڈیموکریٹ قیادت والی ریاستوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کو عدالت میں چیلنج کر دیا ہے۔ اس مقدمے میں خاص طور پر میل اِن ووٹنگ سے متعلق نئی پابندیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جنہیں صدارتی حکم کے ذریعے نافذ کیا گیا۔

ریاستوں اور ووٹنگ حقوق کی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات نومبر میں ہونے والے مڈٹرم انتخابات سے قبل ووٹنگ کے عمل کو مشکل بنا سکتے ہیں۔ نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز سمیت 23 ریاستوں اور ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کے حکام نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ صدر کو یکطرفہ طور پر انتخابی قوانین میں تبدیلی کا اختیار حاصل نہیں ہے، کیونکہ آئین کے تحت یہ اختیار ریاستوں اور کانگریس کے پاس ہوتا ہے۔

صدارتی حکم نامے کے تحت محکمۂ ہوم لینڈ سیکیورٹی کو اہل ووٹرز کی ایک وفاقی فہرست تیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ امریکی پوسٹل سروس کو صرف انہی افراد کو بیلٹ پیپر بھیجنے کا کہا گیا ہے جو مخصوص میل اِن یا غیر حاضری ووٹنگ فہرست میں شامل ہوں۔ ووٹنگ حقوق کی تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایسی وفاقی فہرست نامکمل ہو سکتی ہے، جس سے نہ صرف کئی ووٹرز محروم ہو سکتے ہیں بلکہ پوسٹل سروس پر بھی اضافی دباؤ پڑے گا۔

واضح رہے کہ امریکا میں میل اِن ووٹنگ کا استعمال کووِڈ-19 وبا کے بعد نمایاں طور پر بڑھا ہے، اور 2024 کے انتخابات میں تقریباً ایک تہائی ووٹ ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے تھے۔ ریاستوں نے اپنی درخواست میں یہ بھی کہا ہے کہ انتخابات سے چند ماہ قبل نظام میں اس نوعیت کی تبدیلیاں انتشار اور انتظامی مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔

دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات انتخابی دھاندلی کو روکنے کے لیے ضروری ہیں۔ یاد رہے کہ آئندہ مڈٹرم انتخابات میں یہ طے ہوگا کہ امریکی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ پر کس جماعت کا کنٹرول ہوگا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر ریپبلکن پارٹی اکثریت کھو دیتی ہے تو صدر ٹرمپ کو مواخذے جیسے سیاسی چیلنجز کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔