استنبول: ترکی کے شہر استنبول میں منگل کے روز اسرائیلی قونصل خانے کی عمارت کے باہر مسلح افراد نے پولیس پر فائرنگ کی، جس کے بعد ہونے والی جھڑپ میں ایک حملہ آور مارا گیا جبکہ دو کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔ یہ معلومات ترک حکام نے فراہم کی ہیں۔
استنبول کے گورنر داؤد گل نے صحافیوں کو بتایا کہ اس تصادم کے دوران دو پولیس اہلکار معمولی زخمی بھی ہوئے۔ وزیر داخلہ مصطفیٰ شِفتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر لکھا کہ حملہ آور قریبی شہر ازمِت سے کرائے کی گاڑی میں استنبول آئے تھے۔ انہوں نے کسی تنظیم کا نام لیے بغیر کہا کہ حملہ آوروں کا تعلق ایک ایسے گروہ سے تھا جو "مذہب کا غلط استعمال" کرتا ہے۔ ماضی میں شدت پسند تنظیم داعش (اسلامک اسٹیٹ) ترکی میں کئی مہلک حملوں میں ملوث رہی ہے۔
حکام کے مطابق، حملہ آوروں میں سے دو بھائی تھے، جن میں سے ایک کا تعلق منشیات کی اسمگلنگ سے متعلق جرائم سے رہا ہے۔ اسرائیلی قونصل خانہ ایک بلند و بالا عمارت میں واقع ہے۔ حکام نے بتایا کہ اس وقت ترکی میں موجود اسرائیلی سفارتی مشنز میں کوئی بھی اسرائیلی سفارتکار موجود نہیں ہے۔ غزہ جنگ کے بعد سیکیورٹی خدشات اور ترکی کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کے باعث اسرائیل نے اپنے سفارتکاروں کو واپس بلا لیا تھا۔ ترکی کے وزیر انصاف اکین گورلیک نے کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔