تہران: ایران میں قیادت کی تبدیلی کے بعد خطے کی سیاسی فضا مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق 56 سالہ مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کو مجلسِ خبرگانِ رہبری نے ملک کا نیا سپریم لیڈر نامزد کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد کیا گیا، جس کے بعد ایران اور مشرقِ وسطیٰ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
مجلسِ خبرگانِ رہبری کے 88 رکنی ادارے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو معزز نمائندوں کی فیصلہ کن رائے کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کا تیسرا سپریم لیڈر مقرر کیا گیا ہے۔ مذہبی ادارے کا کہنا ہے کہ بیرونی دباؤ اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود جانشینی کے فیصلے میں کسی قسم کی تاخیر نہیں کی گئی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پیش رفت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں نئے سپریم لیڈر کا مستقبل امریکا کے ساتھ تعلقات پر بھی منحصر ہوگا۔ اسرائیلی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ “ہم دیکھیں گے کیا ہوتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر امریکا اس قیادت کو قبول نہ کرے تو ایسے رہنما زیادہ عرصہ تک نہیں چل سکتے۔
” ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے خاتمے کے لیے وہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ مل کر حکمت عملی مرتب کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امن کے لیے امریکا اور اسرائیل کی مشاورت اہم کردار ادا کرے گی۔ اس سے قبل بھی ٹرمپ مجتبیٰ خامنہ ای کے ممکنہ انتخاب پر تنقید کر چکے ہیں اور انہیں ایک کمزور اور متنازع امیدوار قرار دے چکے تھے۔
اطلاعات کے مطابق ایران کی جانب سے سرکاری اعلان سے پہلے انہوں نے جانشینی کے عمل میں امریکا کے کردار کی خواہش بھی ظاہر کی تھی۔ ادھر اسرائیلی حکام نے بھی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایران کی نئی قیادت کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
اس بیان کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ایران میں قیادت کی تبدیلی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک کو بیرونی دباؤ، علاقائی تنازعات اور عالمی طاقتوں کے ساتھ پیچیدہ تعلقات کا سامنا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں نئی قیادت کے فیصلے نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔