واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور فرانس کے درمیان سفارتی کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر فرانس ان کے مجوزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل نہیں ہوتا تو فرانس سے درآمد ہونے والی شراب اور شیمپین پر 200 فیصد تک ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے۔ یہ انتباہ ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر دیا، جہاں انہوں نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کا ایک نجی پیغام بھی شیئر کیا۔
اس پیغام میں میکرون نے ایران اور شام کے معاملات پر ٹرمپ کے ساتھ اتفاقِ رائے کا اظہار کیا تھا، تاہم گرین لینڈ کے حوالے سے امریکی صدر کے مؤقف پر حیرانی ظاہر کی تھی۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلافات اس وقت بڑھ گئے جب فرانس نے ٹرمپ کی جانب سے ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت کو قبول نہ کرنے کا عندیہ دیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فرانسیسی حکام کا ماننا ہے کہ غزہ کے لیے تجویز کردہ یہ امن بورڈ صرف غزہ تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات وسیع جغرافیائی اور سیاسی دائرے تک جا سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں فرانس کی جانب سے گرین لینڈ کے معاملے پر امریکا کے مؤقف کا طنزیہ انداز میں جواب بھی سامنے آیا ہے۔ فرانسیسی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے دلائل کو غیر منطقی قرار دیا۔
اس کے جواب میں اسکاٹ بیسنٹ نے صدر ٹرمپ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر آرکٹک خطے میں مستقبل کے روسی خطرات کو مدنظر رکھ کر پالیسی بنا رہے ہیں۔ دوسری جانب، فرانسیسی صدر کے قریبی ذرائع نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے دی جانے والی ٹیرف کی دھمکیاں ناقابل قبول اور غیر مؤثر ہیں۔ ان کے مطابق، اس قسم کا دباؤ فرانس کی خارجہ پالیسی کو تبدیل نہیں کر سکتا اور پیرس اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہے گا۔