واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی مسلمان ممالک سے کہا کہ وہ امریکہ ایران مجوزہ امن معاہدے کے ساتھ ہی اسرائیل سے بھی اپنے تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے ابراہیمی معاہدے میں شامل ہو جائیں۔ عرب نیوز کے مطابق ’صدر ٹرمپ نے پیر کو جن مسلمان ممالک سے ابراہیمی معاہدے میں شامل ہونے کے لیے کہا ہے اُن میں قطر، سعودی عرب، پاکستان، مصر، اُردن اور ترکیہ شامل ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے سے متعلق حالیہ سوشل میڈیا پوسٹ نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں عندیہ دیا کہ کئی عرب اور مسلم ممالک مستقبل میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی جانب بڑھ سکتے ہیں۔ تاہم اس بیان کے باوجود خطے کی موجودہ صورتحال اور جاری تنازعات کے باعث کئی اہم سوالات اب بھی تشنۂ جواب ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگرچہ ابراہام معاہدوں کے بعد متحدہ عرب امارات۔ بحرین۔ مراکش اور سوڈان جیسے ممالک اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر چکے ہیں لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کی سنگینی نے خطے میں نئی پیچیدگیاں پیدا کر دی ہیں۔ ایسے میں یہ سوال اہم ہے کہ آیا مزید عرب یا مسلم ممالک موجودہ حالات میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا خطرہ مول لیں گے یا نہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کا کردار اس پورے معاملے میں سب سے زیادہ اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اگرچہ ماضی میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں لیکن غزہ میں جاری بحران کے بعد ریاض نے فلسطینی ریاست کے قیام کو بنیادی شرط قرار دیا ہے۔ اس صورتحال میں ٹرمپ کی پوسٹ نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا خطے میں سفارتی پیش رفت ممکن ہے یا موجودہ کشیدگی اس عمل کو مزید پیچیدہ بنا دے گی۔
دوسری جانب بعض تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی یہ پوسٹ امریکی صدارتی سیاست کے تناظر میں بھی اہم ہے۔ ان کے مطابق ٹرمپ ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ میں اپنی سفارتی کامیابیوں کو اجاگر کرکے خود کو ایک مضبوط عالمی رہنما کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ صرف سوشل میڈیا بیانات سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوتے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے فلسطینی مسئلے کا منصفانہ حل ناگزیر ہے۔
ادھر عوامی سطح پر بھی اس معاملے پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ کئی حلقے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کو خطے کے استحکام اور اقتصادی تعاون کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں جبکہ فلسطین کے حامی حلقے اسے فلسطینی عوام کے حقوق کے خلاف اقدام سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صدر ٹرمپ کی پوسٹ کے باوجود خطے کے مستقبل اور ممکنہ سفارتی تبدیلیوں سے متعلق کئی سوالات اب بھی جواب طلب ہیں۔