واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ امریکا کو نیٹو سے علیحدہ کرنے کے امکان پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے نیٹو کو ایک “کاغذی شیر” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس اتحاد سے کبھی متاثر نہیں ہوئے۔
ٹرمپ کے مطابق وہ طویل عرصے سے اس رائے پر قائم ہیں کہ نیٹو مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہا ہے، اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن بھی اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں۔ انہوں نے اپنی اس سوچ کو ایران سے متعلق حالیہ کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ان معاملات میں اتحادی ممالک کی جانب سے خاطر خواہ تعاون نہیں ملا۔
ان کے بقول اس صورتحال کے باعث عالمی توانائی کی ترسیل بھی متاثر ہوئی ہے۔ دوسری جانب ایران سے متعلق ممکنہ جنگ کے معاملے پر بھی نیٹو کے اندر واضح اختلافات سامنے آئے ہیں، جہاں 32 میں سے صرف چھ رکن ممالک نے کھل کر حمایت کا اظہار کیا ہے۔