ایران سے معاہدہ طے، آبنائے ہرمز جمعے تک مکمل بحال ہو جائے گی: ٹرمپ

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 16-06-2026
ایران سے معاہدہ طے، آبنائے ہرمز جمعے تک مکمل بحال ہو جائے گی: ٹرمپ
ایران سے معاہدہ طے، آبنائے ہرمز جمعے تک مکمل بحال ہو جائے گی: ٹرمپ

 



واشنگٹن/ایویان: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک اہم معاہدے پر دستخط مکمل ہو چکے ہیں اور اس کی باضابطہ توثیق جمعے کو جنیوا میں متوقع تقریب کے دوران کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس پیش رفت کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحال کر دیا جائے گا، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کو بڑا ریلیف ملے گا۔

فرانس کے شہر ایویان میں جی-7 سربراہی اجلاس کے موقع پر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ ملاقات سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ معاہدہ مکمل طور پر طے پا چکا ہے اور آبنائے ہرمز پہلے ہی جزوی طور پر کھول دی گئی ہے۔ ان کے بقول جمعے تک یہ اہم بحری گزرگاہ مکمل طور پر بحال ہو جائے گی۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں ابھی یہ فیصلہ نہیں کرنا کہ آیا وہ جنیوا میں ہونے والی دستخطی تقریب میں شرکت کریں گے یا نہیں، تاہم نائب صدر جے ڈی وینس اس تقریب میں امریکہ کی نمائندگی کریں گے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گذرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں گزشتہ تین ماہ سے جاری ناکہ بندی نے عالمی معیشت، تیل کی سپلائی اور بین الاقوامی تجارت کو شدید متاثر کیا تھا۔ ٹرمپ نے اس معاہدے کو خطے میں استحکام اور عالمی اقتصادی بحالی کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا۔

دوسری جانب امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور ایران نے تقریباً چار ماہ سے جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے خاتمے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کر دیے ہیں۔ ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار کے مطابق اس دستاویز پر صدر ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کے دستخط موجود ہیں، جبکہ باضابطہ تقریب جمعے کو منعقد ہوگی۔

عہدیداروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی کا عمل فوری طور پر شروع ہو چکا ہے اور آئندہ دنوں میں اس میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ تاہم مکمل معمول کی صورتحال بحال ہونے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔

ادھر ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ معاہدے کا بنیادی مقصد تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ اور خطے میں استحکام کا قیام ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو بھی اس مفاہمتی یادداشت میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔

اس دوران جنوبی لبنان میں ایک اسرائیلی ڈرون حملے میں ایک شخص کے ہلاک ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ لبنانی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق حملہ نبطیہ کے قریب کفر تبنیت کے علاقے میں ایک گاڑی پر کیا گیا۔ جنگ بندی کے اعلان کے بعد یہ پہلا مہلک حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

دریں اثنا اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اسرائیلی افواج لبنان، شام اور غزہ کے بعض سکیورٹی زونز میں غیر معینہ مدت تک موجود رہیں گی۔ ان کے مطابق سرحدی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ان علاقوں میں فوجی موجودگی برقرار رکھی جائے گی۔

ایرانی میڈیا کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کے تحت واشنگٹن ایران کے منجمد اثاثوں کی مرحلہ وار بحالی پر بھی آمادہ ہو گیا ہے۔ مہر نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں گے، جبکہ مذاکراتی عمل کے دوران مجموعی طور پر 24 ارب ڈالر تک کے اثاثوں کی واپسی زیر غور ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر معاہدے پر کامیابی سے عمل درآمد ہوا تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ عالمی توانائی منڈیوں، بحری تجارت اور بین الاقوامی معیشت کو بھی خاطر خواہ استحکام حاصل ہوگا۔