واشنگٹن: امریکا کے نیشنل ایئر اینڈ اسپیس میوزیم کے مرکز برائے زمین و سیاروں کے مطالعات سے وابستہ سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ چاند بتدریج سکڑ رہا ہے اور اس کے نتیجے میں اس کی ساخت میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ تازہ تحقیق کے مطابق چاند کی سطح پر ایک ہزار سے زائد نئی دراڑیں دریافت ہوئی ہیں، جنہیں اسمال میر ریجز (SMRs) کا نام دیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دراڑیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ چاند کے اندرونی حصے میں ٹیکٹونک سرگرمی جاری ہے، جو مستقبل کے خلائی مشنز کے لیے خطرات کا باعث بن سکتی ہے۔ یہ تحقیق دی پلینٹری سائنس جرنل میں شائع ہوئی ہے، جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ چاند پر ممکنہ سیسمک سرگرمی اور زلزلوں کا خطرہ آئندہ مشنز کے لیے چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔
خاص طور پر وہ مشنز جو چاند کی سطح پر طویل قیام یا مستقل تنصیبات قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، انہیں ان جغرافیائی تبدیلیوں کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ تحقیق کے مرکزی مصنف کول نائپیور کے مطابق آئندہ چاندی مشنز اس حوالے سے نہایت اہم کردار ادا کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکٹونک اور سیسمک سرگرمی سے متعلق حاصل ہونے والا ڈیٹا نہ صرف مشنز کی حفاظت کو یقینی بنانے میں مدد دے گا بلکہ سائنسی کامیابی کے لیے بھی براہِ راست مفید ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاند کی سائنسی تحقیق اور اس کی مزید کھوج کے ایک نہایت دلچسپ دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ سائنسدان 2010ء سے اس بات سے آگاہ تھے کہ چاند آہستہ آہستہ سکڑ رہا ہے، تاہم نئی دریافت شدہ دراڑیں اس عمل کی شدت اور نوعیت کو بہتر انداز میں واضح کرتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت چاند کی سطحی ساخت، اس کے اندرونی ڈھانچے اور حرارتی تاریخ کو سمجھنے میں اہم معلومات فراہم کرے گی۔ دوسری جانب، حال ہی میں دن کی روشنی میں رمضان المبارک کے چاند کی ایک نایاب تصویر بھی منظر عام پر آئی ہے، جس نے فلکیاتی حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کی۔